1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

داعش: پیسہ جمع کرنے کے لیے انسانی اعضاء کی فروخت

امجد علی18 فروری 2015

اقوام متحدہ میں متعینہ عراقی سفیر نے دعویٰ کیا ہے کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے انتہا پسند مالی وسائل حاصل کرنے کے لیے انسانی اعضاء کا غیر قانونی کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں اور تعاون نہ کرنے والے ڈاکٹروں کو ہلاک بھی کر چکے ہیں۔

https://p.dw.com/p/1Edj7
تصویر: Imago/Xinhua

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے باتیں کرتے ہوئے عراقی سفیر محمد علی الحکیم کا کہنا تھا کہ عراقی حکومت کو اجتماعی قبروں میں بہت سی ایسی لاشیں بھی ملی ہیں، جن کی پشت پر شگاف تھے اور اُن کے گردے یا دیگر اعضاء غائب تھے۔

الحکیم کے مطابق حکومت نے اسلامک اسٹیٹ کو کی جانے والی ایسی فون کالز بھی سنی ہیں، جن میں جسمانی اعضاء کے لیے کہا جا رہا تھا:’’ہمیں کچھ مسخ شُدہ لاشیں ملی ہیں، اُن کے جسم کے کچھ حصے غائب تھے۔ جسمانی عضو آخر کیوں غائب ہو گا؟ یہ پیسے کے حصول کا ایک اور ذریعہ ہے۔‘‘

اقوام متحدہ میں عراقی سفیر نے یہ تفصیلات سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کو بتائی ہیں
اقوام متحدہ میں عراقی سفیر نے یہ تفصیلات سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کو بتائی ہیںتصویر: picture-alliance/dpa

اقوام متحدہ میں عراقی سفیر الحکیم نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بالخصوص موصل کے علاقے میں کم از کم دَس ڈاکٹروں کو انسانی جسموں سے اعضاء نکالنے سے انکار کرنے پر قتل کیا جا چکا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ابھی بغداد حکومت اُن افراد کے بارے میں ڈیٹا جمع کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے، جن کے اعضاء نکالے گئے۔ اِسی طرح یہ بھی جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اُن کی موت کن حالات میں ہوئی۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سے باتیں کرتے ہوئے الحکیم نے کہا:’’وہ لاشیں ہمارے پاس ہیں۔ آپ آئیں اور جانچیں۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اُن کے جسمانی اعضاء غائب ہیں۔‘‘

عراقی سفیر محمد علی الحکیم نے منگل کے روز عالمی سلامتی کونسل کو اس سلسلے میں تفصیلات بتاتے ہوئے آئی ایس کے جنگجوؤں پر یہ الزم بھی عائد کیا کہ وہ عراقی آثارِ قدیمہ کو بھی بیرونِ ملک اسمگل کرتے ہوئے پیسہ بنا رہے ہیں۔

ابھی گزشتہ ہفتے عالمی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی تھی، جس کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا تھا کہ عراق اور شام میں سرگرم اسلامک اسٹیٹ اور باغی النصرہ فرنٹ کو مالی وسائل کی فراہمی روکی جائے۔ اس کے لیے معدنی تیل کی غیر قانونی برآمدات، ثقافتی ورثے کی غیر قانونی تجارت، تاوان کی ادائیگی اور انتہا پسند گروپوں کے لیے جانے والے عطیات کا راستہ روکنے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے تھے۔