1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سعودی عرب کو بھی قابل تجدید توانائی کی تلاش

2 فروری 2011

سعودی عرب تیل برآمد کرنے والا دُنیا کا سب سے بڑا ملک ہےتاہم ملکی سطح پر توانائی کی طلب بڑھنے سے تیل کی برآمدات میں کمی کے امکان کے پیشِ نظر اس ملک نے اب ایٹمی اور قابل تجدید توانائی سے استفادے کا فیصلہ کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/1097W
تیل صاف کرنے کا ایک سعودی کارخانہتصویر: dpa

سعودی عرب کے پاس اب بھی معدنی تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ سعودی عرب کے وزیر تیل علی النائمی نے نومبر میں اِن ذخائر کی مقدار کا تخمینہ 264 ارب بیرل بتایا تھا اور ساتھ ہی یہ کہا تھا کہ سعودی عرب اگلے 80 برسوں تک اپنی تیل کی موجودہ برآمدی مقدار کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کے اندر تیل کی کھپت بڑھتی جا رہی ہے۔ آج کل یہ کھپت 3.2 ملین بیرل روزانہ ہے، جو اگلے 20 برسوں کے اندر اندر تقریباً 8 ملین بیرل روزانہ تک پہنچ سکتی ہے۔

صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے ہاشم یمنی نے، جو ایٹمی اور قابلِ تجدید توانائی کے شاہ عبداللہ سٹی کے ڈائریکٹر ہیں، یہ بھی بتایا کہ ’ملک میں بجلی کی طلب میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 2010ء میں یہ طلب 40 گیگا واٹ تھی، جو 2032ء تک ممکنہ طور پر 120 گیگا واٹ تک پہنچ جائے گی‘۔

OPEC Treffen in Beirut Ölminister Saudi-Arabien
سعودی عرب کے وزیر تیل علی النائمیتصویر: AP

ایسے میں تیل کی برآمدات لازمی طور پر متاثر ہوں گی۔ اسی صورتِ حال کے تناظر میں حال ہی میں دارالحکومت ریاض میں ایک کانفرنس سے اپنے خطاب میں وزیر تیل النائمی نے کہا کہ سعودی حکومت نے شمسی اور ایٹمی توانائی سمیت ملک میں موجود توانائی کے متعدد ذرائع سے استفادے کے لیے ضروری اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔

آئندہ معدنی تیل کو زیادہ تر برآمدات کے لیے استعمال کیا جائے گا جبکہ توانائی کی مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سعودی عرب اگلے 8 تا 10 برسوں کے اندر اندر سورج اور ہوا سے جبکہ 2020ء تک ایٹمی توانائی سے بھی استفادہ کرنے لگے گا۔ اِس سلسلے میں سعودی حکام کوریائی، برطانوی، امریکی، جاپانی اور فرانسیسی ماہرین اور کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

Symbolbild Regenerative Energiequellen Wasser Wind Sonne
اب سعودی عرب بھی توانائی کے قابلِ تجدید ذرائع سے استفادے کے پروگرام شروع کر رہا ہےتصویر: DW-Montage

عالمی سطح پر ایٹمی توانائی کے شعبے میں ایک بڑی کمپنی فرانس کی Areva ہے، جس کی چیف ایگزیکٹو اَین لاورجاں سعودی عرب میں کاروبار کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے حال ہی میں ریاض گئی ہوئی تھیں۔ وہ سعودی عرب کو ’ایک اہم منڈی‘ خیال کرتی ہیں اور اپنے دورے کے دوران اُنہوں نے سعودی عرب کے بن لادن گروپ کے ساتھ شمسی اور ایٹمی توانائی کے شعبوں میں تعاون کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے۔

سعودی عرب نے سول ایٹمی توانائی کے شعبے میں امریکہ کے ساتھ تعاون کے ایک سمجھوتے پر 2008ء میں دستخط کیے تھے اور اسی طرح کے سمجھوتوں کے لیے ریاض حکومت نے فرانس اور روس کے ساتھ بھی مذاکرات کیے ہیں۔ سعودی حکومت نے روس کے ساتھ ایٹمی توانائی کے پُر امن استعمال کے ایک سمجھوتے کے منصوبے کی منظوری گزشتہ سال اکتوبر میں جبکہ فرانس کے ساتھ ایسے ہی ایک سمجھوتے کی منظوری گزشتہ جولائی میں دے دی تھی۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: کشور مصطفیٰ

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں