1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

علمی آزادی نہ ہو تو ذہن بنجر ہو جاتا ہے

18 فروری 2024

علمی آزادی کا تصور جدید زمانے کی پیداوار ہے۔ کیونکہ تاریخ میں علم پر حکمرانوں کی اجارہ داری رہی ہے۔ عالموں اور دانشوروں کو اجازت نہیں تھی کہ وہ مروجہ روایات کو چیلنج کریں اور نئے افکار اور خیالات پیش کریں۔

https://p.dw.com/p/4cQzb
تصویر: privat

یورپ میں یونیورسٹی کا ادارہ چرچ کی سرپرستی میں قائم ہوا۔ ابتدائی یونیورسٹیوں میںاٹلی کی پاڈوآ اور پیسا کے علاوہ پیرس اور پولش شہر کراکاؤ کی جامعات تھیں۔ جن کا نصاب چرچ کی جانب سے مقرر کیا جاتا تھا۔ لیکچر کے کمرے کے ساتھ دوسرے کمرے میں کھڑکی ہوتی تھی۔ یہاں راہب بیٹھ کر پورا لیکچر سنا کرتا تھا۔ تا کہ اُستاد کوئی مذہبی عقیدے کے خلاف بات نہ کر سکے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ علمی آزادی کا فقدان تھا، اور نصاب کو عقیدے کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا تھا۔

چرچ کے مشہور راہنما تھامس ایکویناس نے ارسطو کے فلسفے کو عیسائیت میں ڈھال دیا تھا اور اُسے تعلیم کا حصہ بنا دیا تھا۔ کیمبرج یونیورسٹی کے چارٹر میں لکھا ہوا تھا کہ جو ارسطو کے اس فلسفے کو نہیں مانتا ہے اُسے یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ملے گا۔ ایک ہزار برس تک یہ نصاب کا حصہ رہا جس کی وجہ سے کوئی نئے خیالات و افکار پیدا نہیں ہو سکے۔ اس کو سب سے پہلے برطانوی فلسفی فرانسس بیکن (1626)  نے چیلنج کیا جس کی وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ علمی آزادی کی جانب ایک اہم قدم تھا۔

علمی آزادی پر ایک جانب چرچ کی پابندیاں تھیں تو دوسری جانب ریاست بھی اس سے خوفزدہ تھی۔ لیکن تاریخ میں کوئی چیز ٹھہری ہوئی نہیں رہتی ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ان دانشوروں کی آواز کو دبا دیا گیا، جنہوں نے چرچ اور ریاست کے خلاف اپنے نظریات پیش کیے تھے۔ ان کی کتابوں کو جلا دیا گیا۔ ان کے خیالات و افکار کو معاشرے پر اثر انداز ہونے کا موقع نہیں دیا گیا۔

اس لیے دانشوروں نے علمی آزادی کے لیے دوسرے طریقے استعمال کیے۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ اگر ان کے ملک میں پاپندیاں ہوں تو یہ جلاوطنی اختیار کر کے ان ملکوں میں چلے جائیں، جہاں رہ کر وہ اپنا علمی کام کر سکیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ فرانسیسی فلسفی اور ادیب والٹیئر (1778) کو زبردستی جلاوطن کیا گیا۔ کچھ عرصے وہ انگلستان اور یوریشیا میں رہا اور بقیہ زندگی اس نے اپنی جاگیر پر گزاری جو فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحدوں پر تھی۔ یہاں اس نے آزادی کے ساتھ کتابیں لکھیں اور مذہبی انتہاپسندی کے خلاف جدوجہد کی۔ فرانس کے ایک دوسرے دانشور ڈینی ڈیڈرو (Denis Diderot) کو ایک ناول لکھنے پر بیسٹِل کے قلعے میں قید کیا گیا اور پھر معافی مانگنے پر اسے رہائی ملی۔ اس نے انسائیکلوپیڈیا کو مرتب کی، جس میں تقریباً ہر موضوع پر مقالے شامل تھے۔ جلاوطن دانشوروں کی کتابیں ہالینڈ میں شامل ہو کر فرانس میں اسمگل ہوتیں تھیں۔

لہٰذا اٹھارہویں اور اُنیسویں صدی میں فرانس، ہالینڈ اور انگلستان مُنحرف دانشوروں کے لیے پناہ گاہیں تھیں۔ جب کارل مارکس کو جرمنی سے نکالا گیا تو پہلے اس نے فرانس میں جلاوطنی کے دن گزارے پھر کچھ عرصے بیلجیم میں رہ کر لندن چلا گیا۔ یہاں اُس نے پوری زندگی گزاری اور آزادی کے ساتھ اپنے علمی خیالات کو تحریر کیا۔ منحرف دانشوروں کے لیے جلاوطنی ایک سہارا تھی۔ 1848ء کے انقلاب میں جب فرانس انتشار کا شکار تھا۔ تو ناول نگار وکٹر ہیوگو جلاوطن ہو کر بیلجیم چلا آیا۔ یہی اُس نے اپنا مشہور ناول Les Miserable  لکھا۔ (d.1874) Jules Michelet جس نے اپنا کچھ وقت جلاوطنی میں اٹلی میں گزارا۔ فرانس واپس آنے پر جب اسے تعلیمی ادارے کی ملازمت سے نکالا گیا تو اس نے بقیہ زندگی فرانس کی تاریخ لکھنے میں گزاری۔

پولینڈ کے مؤرخوں کا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ جب پولینڈ کو آسٹریا، یوریشیا اور روس کے درمیان 1795ء میں تقسیم کر کے اس کی سیاسی وَحدت کو ختم کیا تو اس کے جلاوطن مؤرخوں نے اس کی تاریخ لکھ کر تاریخی شناخت کو قائم رکھا۔ پولینڈ کے مُتحد ہونے کے بعد اس کی تاریخی شناخت نے سیاسی وَحدت کو مستحکم کیا۔

جب عالموں اور دانشوروں کو یونیورسٹیوں میں علمی آزادی نہیں ملی تو انہوں نے سوسائٹیز بنا کر پبلِک لیکچرز کا سلسلہ شروع کیا۔ یہاں انہیں آزادی تھی کہ وہ اپنے خیالات کو پیش کر سکیں۔ یہ پبلِک لیکچرز یونیورسٹیوں سے باہر ہوا کرتے تھے، جنہیں سُننے کے لیے عام لوگوں کی بڑی تعداد آیا کرتی تھی۔ ول ڈیورنٹ (1981)  نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ جب اس نے امریکہ کے مختلف شہروں میں لیکچرز دینا شروع کیے تو اسے اس قدر آمدنی ہوئی کہ اس نے ملازمت چھوڑ کر کتابیں لکھنا شروع کیں، اور گیارہ جلدوں میں تہذیب کی تاریخ پر کتابیں لکھیں۔

فرانس میں جب ژان پال ساتر (D.1980)  لیکچرز دیتا تھا تو لوگوں کی بڑی تعداد لیکچرز میں آتی تھی۔ ان پبلِک لیکچرز میں داخلے کی فیس ہوتی تھی۔ اگر کسی مشہور دانشور کا لیکچر ہوتا تھا تو داخلے کے ٹکٹ جلد ہی ختم ہو جاتے تھے۔

عالموں اور دانشوروں نے اپنے خیالات اور افکار کے لیے تحقیقی جرائد شائع کرنا شروع کیے۔ شائع ہونے والے مقالات پر بحث و مباحثے بھی ہوتے تھے۔ اس کی ایک اور شکل مختلف موضوعات پر کانفرنسوں کا انعقاد تھا۔ ان ذرائع کی وجہ سے امریکہ اور یورپ میں علمی آزادی کو فروغ ملا۔

ایشیا افریقہ اور جنوبی امریکہ کے ملکوں میں جہاں آمرییتیں رہیں ہیں۔ وہاں علمی آزادی پر پابندیاں تھیں۔ نظریاتی ریاستوں میں جن میں روس بھی شامل تھا، وہاں بھی علمی آزادی پر پابندیاں تھیں۔ چین کی نظریاتی حکومت بھی علمی آزادی پر پابندی لگائے ہوئے ہے۔

پاکستان بھی ایک نظریاتی ملک ہے، اس لیے یہاں علمی آزادی پر ایک جانب ریاست کی پابندیاں ہیں تو دوسری جانب معاشرہ بھی علمی آزادی پر سخت گرفت رکھتا ہے۔ جب ریاست اور معاشرہ دونوں ہی علمی آزادی کے خلاف ہوں تو پھر نہ تو پرانی روایات کو چیلنج کیا جا سکتا ہے، اور نہ ان کی جگہ تازہ افکارِنو کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں علمی آزادی کا خاتمہ ہو جائے تو اس کے نتیجے میں ذہنی پسماندگی بڑھ جاتی ہے اور ترقی کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔