1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستبنگلہ دیش

شیخ حسینہ پانچویں بار بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بنیں گی

8 جنوری 2024

حزب اختلاف کے بائیکاٹ اور انتخابی دھاندلیوں کے الزامات نے بنگلہ دیشی انتخابات کی ساکھ کو داغ دار کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے عوامی لیگ کی حکومت پر سیاسی مخالفین کو کچلنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

https://p.dw.com/p/4ayIN
Bangladesch Sylhet | Wahlkampfveranstaltung Awami League vor Parlamentswahlen | Premierministerin Sheikh Hasina
تصویر: Saiful Islam Kallal/AP/picture alliance

بنگلہ دیش میں اتوار سات جنوری کو منعقد ہونے والے انتہائی متنازعہ انتخابات میں عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ واجد نے غیر معمولی اکثریت حاصل کر کے مسلسل چوتھی اور مجموعی طور پر پانچویں مرتبہ وزیر اعظم بننے کے لیے اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔ ان کی جماعت نے پارلیمان میں تین چوتھائی سے بھی زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ 

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔بنگلہ دیشی الیکشن کمیشن کے جوائنٹ سیکرٹری منیر الزمان تالقدار نے کہا،''عوامی لیگ نے الیکشن جیت لیا ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے ووٹ کا بائیکاٹ کرنے کے ایک دن بعد ابتدائی رپورٹوں کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً 40 فیصد رہا۔‘‘

تالقدار کے بقول شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ نے 223 نشستیں حاصل کی ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوامی لیگ کی اتحادی جماعتوں اور دیگر قانون سازوں کی حمایت کے ساتھ شیخ حسینہ دراصل پارلیمان کی 300 سے زیادہ نشستوں پر کنٹرول  حاصل کر لیا ہے۔

Bangladesch Dhaka | Wahl
حزب اختلاف کی جانب سے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا گیا تصویر: Munir Uz Zaman/AFP

 خبر رساں ایجنسی اے ایف کو ایک بیان دیتے ہوئے امریکہ کی الینوائے یونیورسٹی سے منسلک علی ریاض نے ان انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا،''یہ ایک جماعتی پارلیمنٹ ہے، جس میں صرف عوامی لیگ کے اتحادیوں کو شرکت کا موقع ملا۔‘‘

اپوزیشن کا موقف

شیخ حسینہ کی جانب سے ایک بڑے کریک ڈاؤن کا شکار حزب اختلاف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے زیادہ تر لیڈر اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر  گرفتاریوں کے خلاف پہلے ہی شدید تنقید کی جا رہی تھی۔ بی این پی نے سات جنوری کے  ''ناقص انتخاب‘‘ میں حصہ لینے سے انکار کر تے ہوئے ملک بھر میں دو روزہ ہڑتال کی کال دی تھی۔

76 سالہ شیخ حسینہ پولنگ والے دن شہریوں سے جمہوری عمل پر اعتماد ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اتوار کو اپنی بیٹی کے ہمراہ ڈھاکہ میں ووٹ ڈالنے کے بعد حسینہ نے بی این پی کو ایک ''دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دیا۔ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے بیٹے اور لندن میں جلاوطنی اختیار کیے ہونے بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے اتوار کے انتخابی نتائج کو ''بنگلہ دیش کی جمہوری امنگوں کی توہین‘‘ قرار دیا۔

ہیومن رائٹس واچ کی تنقید

انسانی حقوق کی  بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کے اندازوں کے مطابق گزشتہ سال  28 اکتوبر کو اپوزیشن کی ایک ریلی کو کچلنے کے لیے تقریباً 10,000 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور 5,500 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

ایچ آر ڈبلیو  نے حکمران عوامی لیگ پر الزام عائد کیا کہ  اس نے سات جنوری کے الیکشن میں سیاسی مخالفین کو مقابلے کی دوڑ سے باہر رکھنے کے لیے جیلیں بھر یں۔ تاہم عوامی لیگ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

Bangladesch I Wahlen 2024
حکمران عوامی لیگ کو اپوزیشن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے الزامات کا سامنا ہےتصویر: Kamol Das

ہیومن رائٹس واچ سے تعلق رکھنے والی میناکشی گنگولی نے اتوار کو کہا کہ حکومت اپوزیشن کے حامیوں کو یہ یقین دلانے میں ناکام رہی ہے کہ انتخابات منصفانہ ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ''بہت سے لوگوں کو مزید کریک ڈاؤن کا خدشہ ہے۔‘‘

دو خواتین رہنماؤں کی دشمنی

قریب 170 ملین آبادی والے ملک بنگلہ دیش کی سیاست پر ایک طویل عرصے سے ملک کے بانی رہنما کی بیٹی شیخ حسینہ اور سابق فوجی حکمران کی اہلیہ خالدہ ضیاء کے مابین دشمنی کا غلبہ رہا ہے۔ حسینہ 2009 ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد اقتدار میں واپس آنے کے بعد سے اب تک برسر اقتدار ہیں۔

اس سےقبل حسینہ پہلی بار 1996 ء میں ملک کی وزیر اعظم بنی تھیں۔ وہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والی رہنما بن گئی ہیں۔ انہیں گزشتہ دو انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔

 78 سالہ خالدہ ضیاء  کو 2018 ء میں بدعنوانی کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی اور اب وہ علالت کے سبب ڈھاکہ کے ایک ہسپتال میں ہیں۔ ان کی جگہ ان کے بیٹے طارق رحمان پارٹی کی سربراہی کر رہے ہیں۔

ک م/ ش ر(اے ایف پی، اے پی)

بنگلہ دیش: اپوزیشن کے بغیر الیکشن یا سلیکشن؟