1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

غزہ احتجاج: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے سات فلسطینی ہلاک

عنبرین فاطمہ/ نیوز ایجنسیاں
30 مارچ 2018

غزہ بارڈر پر اسرائیلی افواج اور  درجنوں فلسطینی مظاہرین کے درمیان اس وقت تصادم ہوا جب ہزاروں افراد فلسطینی زمین کی اسرائیل سےواپسی کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ یہ احتجاج یروشلم میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح تک جاری رہے گا۔

https://p.dw.com/p/2vFks
Westjordanland Ausschreitungen & Proteste gegen Verlegung der US-Botschaft
تصویر: Reuters/M. Torokman

خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں فلسطینیوں نے نے غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کی۔ اس دوران فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوج کے مابین تصادم کے نتیجے میں اب تک سات فلسطینی ہلاک جب کہ ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق بعض مظاہرین نے ٹائروں کو آگ لگائی اور فوج پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں پُر تشدد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوج کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو باڈر پر موجود حفاظتی باڑ تک آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ انہیں عسکری انفرا سٹرکچر کو نقصان پہنچانے دیا جائے گا۔

دوسری جانب غزہ سے محکمہ صحت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے حفاظتی باڑ کے قریب مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم سات ہلاکتوں کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں33 سالہ محمود راحیمی، 33 سالہ جہاد فارینہ اور 16 سالہ احمد شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر تین افراد کی ہلاکت بھی اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے واقع ہوئی جبکہ ایک شخص اسرائیلی ٹینک کا گولہ لگنے سے ہلاک ہوا۔

Palästina Ausschreitungen in Gaza
تصویر: Reuters/I. Abu Mustafa

’قبضے میں انصاف ممکن نہیں‘، احد تمیمی

امریکا کا اپنے سفارت خانے کی مئی میں یروشلم منتقلی کا ارادہ

خیال کیا جا رہا ہے کہ فلسطینیوں کے بااثر گروپ حماس کی ایما پر ہونے والا یہ عوامی احتجاج مزید چھ ہفتوں تک جاری رہے گا۔  اس عوامی احتجاج کے منتظمین نے احتجاج کا نام ’واپسی کا عظیم احتجاج، ٹرمپ کے لیے پیغام‘ رکھا ہے اور یہ 15 مئی تک جاری رہے گا۔ اس  دن سن 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے وقت  مقبوضہ علاقوں سے فلسطینیوں کے جبری انخلاء کے خلاف نقبہ یا تباہی کہلانے والا  دن منایا جاتا ہے۔ اس وقت 7 لاکھ فلسطینیوں کو اپنے گھر بار یا تو چھوڑنا پڑے تھے یا پھر انہیں بے دخل کر دیا گیا تھا۔

امریکا کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد 70 ویں ’یوم نقبہ‘ کے موقع پر وہاں سفاتخانے کے افتتاح کے منصوبے نے فلسطینیوں میں مزید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔