1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

فیس بُک نے روہنگیا عسکری گروپ پر پابندی لگا دی

21 ستمبر 2017

فیس بُک نے روہنگیا عسکریت پسند گروپ کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر معلومات شائع کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ فیس بُک نے اس گروپ کو ایک ’’خطرناک تنظیم‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی طرف سے معلومات شیئر کرنے پابندی لگا دی ہے۔

https://p.dw.com/p/2kTjv
تصویر: Screenshot Facebook

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق میانمار کی ریاست راکھین میں جاری تشدد کے حوالے سے سوشل میڈیا نیٹ ورکس ہی واحد ذریعہ ہیں جن کے ذریعے مختلف معلومات دنیا تک پہنچ رہی ہے۔ میانمار میں جاری تشدد کے باعث اب تک 420,000 سے زائد روہنگیا مسلمان جان بچانے کے لیے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش ہجرت کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ میانمار کی سکیورٹی فورسز کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری آپریشن کو ’’نسلی تطہیر‘‘ قرار دیا جا چکا ہے۔

روہنگیا گروپ بحران میں گِھرے اس علاقے سے متعلق، جہاں عام میڈیا یا انسانی حقوق کی تنظیموں کو رسائی حاصل نہیں ہے، تشدد پر مبنی ویڈیوز اور مواد شائع کرنے کے لیے فیس بُک کو استعمال کرتے رہے ہیں جبکہ میانمار کی فوج اور حکومت تقریباﹰ روزانہ اس حوالے سے اپ ڈیٹ جاری کرتی ہے۔

فیس بُک کی خاتون ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ فیصلہ فیس بُک کی کسی شدت پسند گروپوں کو اپنی سائٹ پر جگہ نہ دینے کی پالیسی کے عین مطابق ہے۔ ترجمان کے مطابق اراکان روہنگیا سالویشن آرمی (ARSA) پر پابندی کے حوالے سے فیس بُک کو کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

میانمار کی ریاست راکھین میں تشدد کا تازہ سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب اگست کے آخری ہفتے میں ARSA نے میانمار کی فوجی پوسٹوں پر حملے کیے تھے۔ میانمار کی فوج پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے ان حملوں کے بعد روہنگیا آبادی کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا تھا جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

 

بے وطن روہنگیا مسلمان کہاں جائیں؟