1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مہاجرین کی ایک مناسب تعداد قبول کریں گے: آسٹریلوی وزیراعظم

عابد حسین7 ستمبر 2015

آسٹریلوی وزیراعظم کو مزید مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دینے کے حوالے سے تمام ملکی جماعتوں کی جانب سےدباؤ کا سامنا تھا۔ جمعے کے روز انہوں نے مزید مہاجرین قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

https://p.dw.com/p/1GS8C
مہاجرین کا خیر مقدم کرنے والے آسٹریلوی شہریتصویر: picture-alliance/AA/Recep Sakar

آج پیر کے روز آسٹریلیا کے قدامت پسند وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کہا ہے کہ وہ ایک مناسب تعداد میں مہاجرین کو قبول کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جنیوا سے اُن کے امیگریشن منسٹر کی واپسی کے بعد وہ منگل کے روز مہاجرین کی حتمی تعداد بارے حکومتی اعلان کر سکتے ہیں۔ آسٹریلوی امیگریشن منسٹر پیٹر ڈُوٹن جنیوا پہنچے ہوئے ہیں اور امکاناً وہ آج پیر کے روز اقوام متحدہ کے ریفیوجیز کے کمشنر سے ملاقات کریں گے۔ ڈُوٹن کی ریفیوجیز کے کمشنر سے ملاقات میں امکاناً مہاجرین کی ممکنہ تعداد بارے کوئی فیصلہ ہو سکتا ہے۔

مرکزی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی نے وزیراعظم کو جنگ زدہ علاقوں میں پیدا انسانی بحران سے نمٹنے کی یورپی کوششوں کا حصہ بنتے ہوئے کم از کم دس ہزار مہاجرین کو قبول کرنے کا مشور دیا ہے۔ اُدھر آسٹریلیا کی گرین پارٹی کے لیڈر رچرڈ ڈی نتالی نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ وہ کم از کم بیس ہزار مزید شامی مہاجرین کو پناہ دیں۔

Syrische Flüchtlinge versuchen die Grenze zu Ungarn zu passieren
شام کے اندر جنگ زدہ حالات کے باعث لوگ زندگیاں بچانے کی فکر میں ہیںتصویر: Getty Images/AFP/A. Messinis

خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ آسٹریلیا اقلیتی مہاجرین کو ترجیحی بنیاد پر پناہ دینے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ ٹونی ایبٹ نے اِسی مناسبت سے کہا ہے کہ مہاجرین کے کیمپوں میں اقلیتی کمیونٹیز کی خواتین اور بچوں کو ترجیح دی جائے گی۔ شامی بحران کے شدید اور گھمبیر ہونے پر آسٹریلوی حکومت نے پہلے ہی سن 2017-18 میں 16 ہزار 250 اور سن 2018-19 میں 18 ہزار 750 مہاجرین کو پناہ دینے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔

دو روز قبل آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے شام سے مزید مہاجرین کو آسٹریلیا میں پناہ دینے کی ملکی اور بین الاقوامی اپیلوں کو مسترد کر دیا تھا۔ ایبٹ کو کابینہ کی جانب سے بھی مزید شامی مہاجرین کو قبول کرنے کے مشورہ دیا گیا تھا۔ آسٹریلیا کے مہاجرین کے سابق وزیر فلپ روڈک نے آسٹریلوی وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سن1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے کوسووو بحران کے پس منظر میں اقدامات کریں۔ تب بے شمار مہاجرین کو پناہ دی گئی تھی اور وہ جنگ ختم ہونے کے بعد اپنے ملک روانہ ہو گئے تھے۔