1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’ناٹ یور حبیبتی‘: ’می ٹُو‘ تحریک فلسطینی علاقے میں بھی

عابد حسین
3 فروری 2018

یاسمین مجالی ایک نوجوان فلسطینی نژاد امریکی لڑکی ہے۔ لیکن اُس کی ہمت نے فلسطینی علاقوں میں خواتین کے اندر اپنے حقوق کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا شروع کر دی ہے۔ اس نوجوان لڑکی کو فلسطینی مردوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔

https://p.dw.com/p/2s4Jf
Ramallah - Junge palästinisch- amerikanische Yasmeen Mjalli zur #metoo Bewegung
تصویر: picture-alliance/AP Photo/N. Shiyoukhi

فلسطین کے علاقے ویسٹ بینک کے ایک مصروف چوراہے پر ایک نوجوان لڑکی جنسی استحصال کے خلاف بین الاقوامی تحریک می ٹُو (MeToo#) کے سلوگن والی اشیا فروخت کرتی پھرتی ہے۔ اس لڑکی کو فلسطینی مرد تحسینی نگاہوں سے نہیں دیکھتے بلکہ اُس پر نگاہ ڈالتے وقت اُن کے ماتھے غصے کی شکنوں سے بھرے ہوتے ہیں۔

’پاکستان گیارہ سے پندرہ برس کے بچوں کے لیے بہت پُرخطر‘

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والا گروہ گرفتار

جب مائیں بچوں کے جنسی استحصال کو نظر انداز کرنے لگیں

’پاکستانی مدارس میں جنسی استحصال ایک عام سی بات‘

ویسٹ بینک کے چوک میں کھڑی یہ لڑکی یاسمین مجالی ہے۔ اب یہ ایسی اشیا سڑک پر بیچ رہی ہیں جن پر ’ناٹ یور حبیبتی‘ (یعنی میں تمہاری محبوبہ نہیں) کے الفاظ درج ہے۔ یہ ٹی شرٹس، ہُڈیز اور ڈینم جیکٹیں ہیں، جو آج کل خاصے مقبول پہناوے خیال کیے جاتے ہیں۔

یاسمین مجالی کا کہنا ہے کہ وہ عام لوگوں کے ساتھ گفتگو کرکے اُن کی توجہ خواتین کی شکایتوں کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ وہ اس کا احساس کرتے ہوئے اپنے اندر بہتری محسوس کر سکیں۔ یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ فلسطینی علاقوں کو خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ استحصال کا بھی سامنا ہے۔ مجالی اسی تناظر میں گفتگو کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

New York Demonstration No means no
جنسی استحصال اور ہراساں کرنے کے خلاف سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی تحریک عالمی صورت اختیار کر چکی ہےتصویر: picture-alliance/dpa/Zuma/Pacific Press/E. Mcgregor

اکیس سالہ یاسمین مجالی کو فلسطینی کے ’پدر سری‘ یا مردانہ اثر کے حامل معاشرے کی مخالفت کا بھی سامنا ہے۔ فلسطینی معاشرت بنیادی طور پر قدامت پسندانہ ہے اور اس باعث آزادی کی تحریک کے لیے سرگرم مردوں کا خیال ہے کہ اس وقت اولین ترجیح اسرائیل کی قابضانہ سرگرمیوں پر توجہ مبذول کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

یاسمین مجالی فلسطینی کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئی تھی۔ اس کے والدین مہاجرت اختیار کر کے امریکا میں آباد ہو گئے تھے۔ وہ پانچ برس قبل امریکا سے واپس ویسٹ بینک منتقل ہوئی ہیں۔ مجالی کی امریکا سے فلسطین واپسی پر اُس کے والدین بھی برہم ہیں۔ وہ شمالی کیرولینا یونیورسٹی کی فارغ التحصیل ہے اور تاریخ اُن کا پسندیدہ مضمون ہے۔

MeToo Kampagne
مجالی امریکا میں بھی جنسی استحصال کے خلاف شروع کی جانے والی تحریک ’ہیش ٹیگ می ٹُو‘ میں شامل رہی ہیںتصویر: Imago/Bildgehege

فلسطینی قدامت پسند حلقوں کی تنقید کے جواب میں مجالی کا کہنا ہے، ’’اِن کی سوچ سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ میں اپنی نسائیت گھر میں داخل ہونے سے قبل دہلیز پر رکھ دوں اور یہ ممکن نہیں کیونکہ اٍس کے بغیر میری کی شناخت مکمل نہیں ہو سکتی۔‘‘

یاسمین مجالی امریکا میں بھی جنسی استحصال کے خلاف شروع کی جانے والی تحریک ’ہیش ٹیگ می ٹُو‘ (MeToo#) میں شرکت کر چکی ہیں۔

بس اب بہت ہو گیا!