1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

وینس میلہ: سویڈش فلم طلائی شیر کی حقدار

عابد حسین7 ستمبر 2014

اٹلی کے شہر وینس میں دنیا کا قدیم ترین فلم فیسٹول ختم ہو گیا ہے۔ وینس فلم فیسٹول کے اکہترویں ایڈیشن میں شریک سویڈن کے ہدایت کار روئے اینڈرسن کی فلم کو سب سے اعلیٰ ایوارڈ یعنی گولڈن لائن دیا گیا۔

https://p.dw.com/p/1D8GS
اٹلی کی اداکارا ایلبا رہورواچرتصویر: Reuters

سویڈش ہدایت کار روئے اینڈرسن کی فلم کا نام ’اے پیجن سیٹ آن آ برانچ ریفلیکٹنگ آن ایگزیسٹنس‘ (A pigeon sat on a Branch reflecting on Existence) ہے۔ اِس فلم کی تخلیق میں مختلف کامیڈی سکیچز کا سہارا لےکر انسانی کیفیات کو سلولائیڈ پر منتقل کیا گیا ہے۔ وینس فلم کے ناقدین نے سویڈش فلم کو عام ڈگر سے انتہائی مختلف قرار دیا۔ اُن کے مطابق اسی انفرادیت نے ججوں کو مجبور کیا کہ وہ اِسے فیسٹول کی بہترین فلم قرار دیں۔ کسی بھی سویڈش فلم کو پہلی مرتبہ گولڈن لائن سے نوازا گیا ہے۔

Venedig Filmfestival 06.09.2014
سویڈش ہدایت کار روئے اینڈرسنتصویر: Reuters

اِس میلے میں مبصرین اور تجزیہ کار جوشوا اوپن ہائمر کی فلم ’دی لُک آف سائلینس‘ (The Look of Silence) کو بہترین فلم قرار دے رہے تھے۔ یہ دستاویزی فلم انڈونیشیا میں نسل کُشی سے متعلق ہے۔ یہ فلم فیسٹول کا اعلیٰ ترین انعام حاصل کرنے سے ضرور قاصر رہی لیکن اِسے گرینڈ جیوری پرائز سے نوازا گیا۔ گرینڈ جیوری پرائز کو بھی فیسٹول کا ایک معتبر ایوارڈ خیال کیا جاتا ہے۔ وینس فلم فیسٹول کی جیوری کے سربراہ الیگزانڈر دیسپلا (Alexandre Desplat) کا کہنا تھا کہ روئے اینڈرسن اور جوشوا اوپن ہائمر کی فلمیں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔

گولڈن لائن حاصل کرنے کے بعد سویڈش ہدایت کار روئے اینڈرسن نے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اِس فلم کی تخلیق کا خیال انہیں ویٹوریو ڈی سیکا کی فلم ’بائیسیکل تھیوز‘ سے ملا۔ ویٹوریو ڈی سیکا اٹلی کے مشہور ہدایت کار و اداکار تھے۔ فلم ’بائیسیکل تھیوز‘ سن 1948 میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کو فلمی دنیا میں حقیقت نگاری کے دوسرے عہد کا نشان قرار دیا جاتا ہے۔ ویٹوریو ڈی سیکا کی فلم میں روم شہر کے غریبوں کی حقیقی زندگی کو پکچرائز کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ روئے اینڈرسن کے مطابق ڈی سیکا کی فلم کے کئی سین حقیت نگاری کا شاہ کار تھے اور ایک فلم کو بھی حقیقت کا ترجمان ہونا چاہیے۔

Venedig Filmfestival 06.09.2014
روسی ہدایتکار آندری کونچالوفسکیتصویر: Reuters

وینس فلم فیسٹول میں’ہنگری ہارٹس‘ نامی فلم میں شاندار کردار نگاری پر امریکی اداکار ایڈم ڈرائیور کو بہترین اداکار کا ایوارڈ دیا گیا۔ ایڈم ڈرائیور ایچ بی او سیریز کی فلم ’گرلز‘ سے شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ اٹلی کی اداکارہ ایلبا رہورواچر (Alba Rohrwacher) کو فلم ’ ہنگری ہارٹس’ ہی میں بہترین اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ امر اہم ہے کہ ہفتے کی شب ختم ہونے والے دنیا کے سب سے پرانے فلمی میلے میں ایوارڈز کے لیے منتخب فلمیں مختلف المزاج تھیں اور ان کے موضوعات جنگی کہانیوں، حقیقی ڈراموں، عمر رسیدگی اور غیر معمولی دوستیوں سے جڑے تھے۔

روسی ہدایتکار آندری کونچالوفسکی کی فلم دوسرے مقام پر رہی۔ روسی ہدایتکار کی فلم ’دی پوسٹمینز وائٹ نائٹس’ کو سلور لائن پرائز دیا گیا۔ بہترین ینگ ایکٹر کا ایوارڈ فرانس کے پال روماں کو دیا گیا۔ بھارتی ہدایتکار چیتنیا تمہانے کی پہلی فلم ’کورٹ‘ کو ڈیبیو ایوارڈ دیا گیا۔ بہترین اسکرین پلے کے ایوارڈ کے لیے ایرانی قلمکار رخشان بنی اعتماد کا انتخاب کیا گیا۔ فیسٹول کے ناقدین کو امریکی طربیہ فلم ’برڈ مین‘ کو کوئی ایوارڈ نہ حاصل ہونے پر حیرانی ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں نے اِسے نظرانداز اقدار کا نمونہ قرار دیا۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید