1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان میں بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کا منفرد منصوبہ

16 جولائی 2010

پاکستان میں زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے۔ اِس سطح کو بارش کے پانی کی مدد سے پھر سے بلند کرنے کے ایک منفرد آزمائشی منصوبے پر آج کل پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/ON1l
شاہ فیصل مسجدتصویر: Jutta Schwengsbier

سرکاری طور پر پاکستان کی آبادی 158 ملین بتائی جاتی ہے اور اِس میں ہر سال تین ملین کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسے میں یہ بات اور بھی زیادہ خطرناک ہے کہ اس ملک میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اِس زرخیز ملک کے کئی علاقوں میں صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گزشتہ برسوں کے دوران بارشوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

صدیوں سے اِس خطے کے دریاؤں کو پانی فراہم کرنے والے گلیشئرز مسلسل پگھل رہے ہیں۔ یہ گلیشئرز نہ ہوئے تو پورے ایشیا میں پانی کی فراہمی خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔

Regenwasser Erntesystem in Pakistan
فیصل مسجد کے قریب بنے یہ بڑے بڑے ڈھکنے بظاہر بے ضرر اور غیر اہم لگتے ہیں لیکن دراصل ان کے نیچے بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کا ایک منفرد نظام موجود ہےتصویر: Jutta Schwengsbier

جب کبھی بھی اسلام آباد کی فیصل مسجد کی بڑی بڑی نوک دار چھتوں پر بارش ہوتی ہے، روزانہ اندازاً تین ملین لیٹر پانی اِس مسجد کے نکاسیء آب کے بڑے پائپ سے ہو کر گزرتا ہے۔ دنیا کی تیسری اور پاکستان کی سب سے بڑی یہ مسجد نہ صرف ایک خوبصورت عبادت گاہ ہے بلکہ گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے آس پاس بسنے والے انسانوں کی پانی کی ضروریات کو بھی پورا کر رہی ہے۔

اسلام آباد بلدیہ کے فراہمیء آب کے شعبے کے ڈائریکٹر جنرل ثناء اللہ امان بتاتے ہیں:’’وقت کے ساتھ ساتھ ہم بہت ہی احتیاط اور درستی کے ساتھ اِس بات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ مزید کوئی پانی ضائع نہ ہونے پائے۔ ہمیں اپنے مستقبل کے لئے پانی کو محفوظ بنانا ہے۔ اِسی لئے ہم نے دیگر کوششوں کے ساتھ ساتھ بارش کا پانی جمع کرنے کا بھی ایک نظام وضع کیا ہے۔ فیصل مسجد پر ایک آزمائشی منصوبے میں ہم نے اِسے کامیابی سے عملی جامہ بھی پہنایا ہے۔‘‘

Regenwasser Erntesystem in Pakistan
بارش کے پانی کو ان بڑے بڑے پائپوں کے ذریعے تیس تا چالیس میٹر کی گہرائی تک پہنچایا جاتا ہےتصویر: Jutta Schwengsbier

گزشتہ دو عشروں کے دوران دارالحکومت اسلام آباد کے آس پاس مشاہدے کے لئے چُنے گئے کنووں میں یہ دیکھا گیا کہ ہر سال زیر زمین پانی کی سطح میں ایک سے لے کر دو میٹر تک کی کمی ہوتی جا رہی تھی۔ اب حکومتِ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام UNDP کے ساتھ مل کر ایک آزمائشی منصوبہ شروع کیا ہے اور فیصل مسجد پر پانی کے حصول کا ایک پلانٹ نصب کیا ہے۔

آبی وسائل پر تحقیق کی پاکستانی کونسل سے وابستہ عبدالمجید بتاتے ہیں:’’مَیں نے اِس پلانٹ کو ابھی چند ہفتے پہلے ہی نصب کیا ہے۔ اِس کی سب سے اہم بات زمین میں کئے گئے وہ سوراخ ہیں، جو تیس سے چالیس میٹر کی گہرائی تک جاتے ہیں۔ تین روز کی بارش کے بعد مَیں نے مشاہدہ کیا کہ زیرِ زمین پانی کی سطح چار میٹر تک بلند ہو گئی تھی۔ یہ ایک زبردست کامیابی ہے۔‘‘

Regenwasser Erntesystem in Pakistan
اِس منصوبے کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد میں اِسی طرح کے ایک سو مزید پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو شہر بھر کو صاف پانی فراہم کر سکیں گےتصویر: Jutta Schwengsbier

فیصل مسجد کا نکاسیء آب کا نظام تو شروع ہی سے موجود تھا اور اِس کا مقصد مسجد کی بنیادوں کو پانی کی دست بُرد سے بچانا تھا۔ تاہم جہاں پہلے بارش کا سارا پانی استعمال شُدہ پانی میں شامل ہو کر باہر نکل جاتا تھا، وہاں اِس نئے نظام کے ذریعے اُس پانی سے پینے کا صاف پانی حاصل کیا جا رہا ہے۔ عبدالمجید بتاتے ہیں:’’قدرتی بات ہے کہ جب پانی مختلف سمتوں میں بہہ جائے گا تو پانی کی سطح پھر نیچے چلی جائے گی۔ لیکن اگر ہم اسلام آباد میں اس ٹیکنالوجی کو پھیلا دیں تو شہر بھر کو پینے کا پانی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ بلدیہ کا سربراہ اِس منصوبے سے اتنا متاثر ہوا ہے کہ اب پورے اسلام آباد میں 100 مقامات پر یہ پلانٹ لگائے جائیں گے۔‘‘

اسلام آباد کی آبادی تقریباً دو ملین نفوس پر مشتمل ہے، جس کا پانی کا روزانہ استعمال 200 ملین لیٹر ہے۔ بارش ہونے کی صورت میں صرف فیصل مسجد سے حاصل ہونے والے پانی کی مدد سے روزانہ شہر کی پینے کے صاف پانی کی پانچ فیصد ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ: یُوٹا شوینگزبیئر (اسلام آباد) / امجد علی

ادارت: کشور مصطفیٰ