1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کوریائی امن کوششیں، چین اور روس کا خیرمقدم

15 مارچ 2018

چین کے صدر شی جن پنگ نے جنوبی کوریا کی جانب سے کی جانے والی امن کوششوں کو قابل تحسین قرار دیا ہے۔ اسی طرح روسی صدر پوٹن نے بھی اس سلسلے میں جنوبی کوریا کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

https://p.dw.com/p/2uLeO
تصویر: picture-alliance/dpa/Jeon Heon-Kyun

ان دونوں صدور کی جانب سے تعاون و حمایت  کی تفصیلات جنوبی کوریائی صدر کے خصوصی سفیر نے فراہم کی ہیں۔ اس خصوصی سفیر نے گزشتہ ہفتے کے دوران چین و روسی صدور کو امن کوششوں کے حوالے سے معلومات دی تھیں۔ جنوبی کوریائی سفیر نے چین اور روس کے دورے مکمل کرنے کے بعد جمعرات پندرہ مارچ کو دارالحکومت سیئول کے ہوائی اڈے پر رپورٹرز کے ساتھ گفتگو میں یہ تفصیلات فراہم کیں۔

 Nordkorea Führer Kim Jong Un
تصویر: picture-alliance/AP Photo/E. Hoshiko

جنوبی کوریائی سفیر سے بات چیت کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے ایک چینی محاورہ بھی استعمال کیا اور اس کے مطابق جب سخت برف پگھلتی ہے تو پھر بہار کی آمد ہوتی ہے۔ شی جن پنگ کے مطابق سرمائی اولمپکس کے دوران پیدا ہونے والے رابطے یقینی طور پر جزیرہ نما کوریا میں دیرپا امن کی راہ ہموار کریں گے۔

دوسری جانب جنوبی کوریا کے صدر مون جَے اِن اگلے ماہ اپریل کے آخر میں شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن سے ملاقات کرنے کی منصوبہ بندی کیے ہوئے ہیں۔ امکان ہے کہ شمالی کوریائی لیڈر اورامریکی صدر کے درمیان ممکنہ ملاقات مئی میں ہو۔

ٹرمپ- اُن ملاقات: بیجنگ اور ماسکو کا تعاون حاصل کرنے کوشش

شمالی کوریا امن چاہتا ہے، صدر ٹرمپ

دونوں کوریاؤں کے سربراہی اجلاس کی تجویز، کِم جونگ اُن متفق

جنوبی کوریائی سفیر کے مطابق چین کے وزیر خارجہ ونگ یی اگلے ہفتے کے دوران جزیرہ نما کوریا میں جاری امن کوششوں کو تقویت دینے کے لیے سیئول پہنچ رہے ہیں۔ وہ اس دورے کے دوران اپنی توجہ اس خطے کے سکیورٹی امور پر مرکوز کریں گے۔

جنوبی کوریائی صدر کے خصوصی سفیر کے دورہٴ چین و روس کے حوالے سے کمیونسٹ ملک شمالی کوریا نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور ان سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ شمالی کوریا روس اور چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتا ہے۔ چین کو شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر قرار دیا جاتا ہے۔