1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

گلوبل میڈیا فورم اور ڈی ڈبلیو ٹیلی وژن چینل کا آغاز

افسر اعوان22 جون 2015

بون میں ڈی ڈبلیو کے سالانہ میڈیا کانفرنس گلوبل میڈیا فورم کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس ایونٹ میں دنیا بھر کے دو ہزار مندوبین شریک ہیں۔ اس فورم کے پہلے دن ڈی ڈبلیو کے انگریزی ٹیلی وژن چینل کا افتتاح بھی کیا گیا۔

https://p.dw.com/p/1FlVi
تصویر: DW/M. Müller

آٹھویں گلوبل میڈیا فورم کا عنوان ہے ’ڈیجیٹل دور میں میڈیا اور خارجہ پالیسی‘۔ اس تین روزہ کانفرنس کے دوران جن سوالات پر غور کیا جائے گا ان میں ’سوشل میڈیا کے سیاست پر اثرات‘ اور ’انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والا 24 گھنٹے دستیاب خبریں میڈیا کو کیسے بدل رہی ہیں‘ جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سیاست اور سفارت کاری کے لیے اہم آلات بن چکے ہیں۔ دنیا بھر میں 170 سے زائد ممالک کے حکمران اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ عوام بھی عالمی سیاست میں اپنی آواز پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا اور بلاگز کا سہارا لیتے ہیں۔ ڈیجیٹل انقلاب نہ صرف سیاست تک پہنچ چکا ہے بلکہ وہ اس کو تبدیل بھی کر رہا ہے۔

22 جون سے شروع ہونے والے ڈی ڈبلیو گلوبل میڈیا فورم میں 130 ممالک کے 2000 سے زائد مندوبین شریک ہیں جن میں 500 صحافی بھی شریک ہیں۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لِمبُرگ نے ڈیجیٹل انقلاب کے حوالے سے امکانات اور مشکلات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے بہت سے حصوں میں طاقت حاصل کیے ہوئے ایسے لوگوں کے ہاتھوں آزادی اظہار اور آزادی صحافت خطرے میں ہے جو اس بات پر اپنا کنٹرول چاہتے ہیں کہ کس طرح کی معلومات پھیلائی جا رہی ہے۔

ڈی ڈبلیو کا ’بیسٹ آف بلاگ ایوارڈ‘ بنگلہ دیش کی رافدہ بونیا احمد کو بھی دیا جا رہا ہے
ڈی ڈبلیو کا ’بیسٹ آف بلاگ ایوارڈ‘ بنگلہ دیش کی رافدہ بونیا احمد کو بھی دیا جا رہا ہےتصویر: Reuters/Str

آزادی صحافت اور BoBs

ڈی ڈبلیو گلوبل میڈیا فورم کی ایک روایت یہ بھی رہی ہے کہ اس سالانہ ایونٹ پر ڈی ڈبلیو کے ’بیسٹ آف بلاگ ایوارڈ‘ کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ اس برس جن لوگوں کو یہ ایوارڈ دیا جا رہا ہے ان میں بنگلہ دیش کی رافدہ بونیا احمد بھی شامل ہیں۔ رافدہ نے اپنے شوہر اویجیت رائے کے سیکولرازم کے حق میں آواز کو سربلند کیا ہوا ہے۔ اویجیت رائے کو اسی باعث رواں برس فروری میں بنگلہ دیش میں قتل کر دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ پہلی آزادی اظہار کا BoBs ایوارڈ سعودی بلاگر رائف بداوی کو دیا جا رہا ہے۔ بداوی اپنی ویب سائٹ ’فری سعودی لبرلز‘ پر کئی برسوں سے آزادی اظہار کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سعودی معاشرے میں موجود مسائل کی بھی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔ مئی 2014ء میں 31 سالہ بداوی کو سعودی حکومت نے ایک ہزار کوڑوں اور 10 برس قید کی سزا سنائی تھی اس کے علاوہ ان پر دو لاکھ یورو کے برابر رقم کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔