1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

گورڈن براؤن کا اپنی افغان پالیسی کا دفاع

رپورٹ:ندیم گل، ادارت:مقبول ملک12 جولائی 2009

جولائی کے اوائل سے افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی پے درپے ہلاکتوں نے لندن میں ملکی حکومت کو اپنی خارجہ سیاست اور پالیسی ترجیحات کے حوالے سے وضاحتیں کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

https://p.dw.com/p/Iln7
برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤنتصویر: AP

برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کو اب ارکان پارلیمان کے نام ایک خط لکھنا پڑ گیا ہے جس میں انہوں نے اپنی حکومت کی افغانستان سے متعلق پالیسی کو درست قررا دیا ہے۔

2001 سے اب تک وہاں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی مجموعی تعداد عراق میں عسکری فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد سے تجاوز کرتے ہوئے 184 ہو گئی ہے۔

Selbstmordanschlag in Kabul
گذشتہ جمعہ کے روز افغانستان میں برطانیہ کے آٹھ فوجی ہلاک ہوگئے تھےتصویر: picture-alliance / dpa

رواں ماہ کے آغاز سے ہلمند میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں میں ایک اعلیٰ افسر لیفٹیننٹ کرنل رُوپرٹ تھارنلوئے بھی شامل ہیں۔ 1982 میں فاک لینڈ کی جنگ کے بعد سے برطانوی فوج کے کسی اعلیٰ افسر کی ہلاکت کا یہ پہلا موقع ہے۔

برطانوی ارکان پارلیمان کے نام اپنے خط میں وزیر اعظم گورڈن براؤن نے تسلیم کیا ہے کہ ملکی فوج کے لئے افغانستان میں گذشتہ چند روز غیرمعمولی طور پر مشکل رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ برطانوی فوجی طالبان کا مرکز سمجھے جانے والے صوبے ہلمند میں جنگ جیت رہے ہیں۔

براؤن نے کہا کہ جنگی محاذوں پر موجود ان کے کمانڈروں کے مطابق حالیہ آپریشن کامیاب جا رہا ہے۔ وہ ہلمند میں طالبان کو غیرمعمولی نقصان پہنچا رہے ہیں اور وہاں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے لئے سلامتی کی صورت حال کو بہتر بنا رہے ہیں۔ برطانیہ نے افغانستان میں صدارتی الیکشن سے قبل وہاں تعینات اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا کر نو ہزار کر دی ہے۔

دریں اثناء امریکی صدر باراک اوباما افغانستان کی جنگ میں یورپی ممالک بالخصوص برطانیہ کی شمولیت برقرار رکھنے کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے برطانوی ٹی وی Sky News کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ لندن کو بھی دہشت گردی کا اتنا ہی خطرہ ہے جتنا کہ امریکہ کو۔

Afghanistan, britischer Soldat patrouilliert in der Stadt Kandahar
برطانوی فوج نے گذشہ ماہ صوبہ ہلمند میں طالبان کے خلاف ایک بڑا آپریشن 'پینتھرز کلا' شروع کیا تھاتصویر: AP

صدر اوباما نے افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برطانیہ کا کردار انتہائی اہم ہے ۔ باراک اوباما کے بقول افغانستان اور پاکستان کو القاعدہ کی پناہ گاہیں نہیں بننے دیا جائے گا۔

آپریشن 'پینتھرز کلا' کے بعد سے وہاں لندن کے فوجی دستوں کی ہلاکتوں میں واضح اضافہ ہو چکا ہے۔ برطانوی وزیر دفاع باب اینسورتھ نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات برطانوی فوجی جانتے ہیں کہ انہیں خطروں کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ پیش قدمی بھی کر رہے ہیں۔

اُدھر افغانستان کی جنگ میں برطانیہ کی شمولیت پر حکومت کو اندرون ملک بھی مخالفت کا سامنا ہے۔ حزب اختلاف کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما نک کلیگ نے کہا ہے کہ افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی جانیں ضائع کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان فوجیوں کو ناممکن اہداف دئے جارہے ہیں۔ اسی حوالے سے افغان جنگ کے خلاف اتحاد نامی برطانوی تنظیم Stop The War Coalition نے پیر کے دن لندن میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ برطانوی شہریوں کا یہ جنگ مخالف اتحاد افغانستان سے ملکی فوجی دستوں کی واپسی کامطالبہ کر رہا ہے۔