آدم خور چیتے کو پکڑنے کے لیے کیمروں کی تنصیب

نیپال میں جنگلی حیات کے ماہرین نے ایک آدم خور چیتے کو پکڑنے کے لیے کیمرے نصب کر دیے ہیں۔ حکام اس کوشش میں ہیں کہ اس چیتے کو زندہ پکڑ کراس کا کسی طرح علاج کیا جا سکے۔

نیپال کے علاقے تاناہون کے جنگلوں میں ایک آدم خور چیتے نے دہشت پھیلا رکھی ہے۔ اس چیتے نے گزشتہ ہفتوں کے دوران کم از کم دو بچوں کو ہلاک کر کے اُنہیں اپنی خوراک بنایا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک چار سالہ لڑکی ہے، جسے اِس چیتے نے بھانو گاؤں میں اُس کو گھر سے باہر کھیلتے ہوئے اٹھایا تھا۔ اب شک کیا جا رہا ہے کہ پہلی دسمبر کو اس نے ایک دس سالہ بچے کو بھی ہلاک کیا ہے۔ یہ ہلاکت بھی اس بھانو گاؤں میں ہوئی ہے۔

جنگلی حیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس وقت یہ چیتا بھانو نامی گاؤں کے قریبی جنگلات میں مقیم ہے اور موقع دیکھتے ہوئے گاؤں میں مال مویشی کو شکار بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

نیپال کے علاقے تاناہون کے فاریسٹ افسر کیدار برال نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ اس وقت مختلف مقام پر چار کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں اور اُن سے اس چیتے کی حرکات پر نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ ان کیمروں میں نشاندہی پر شکاری ٹیمیں فوری طور پر چیتے کے قریب پہنچنے کی کوشش کریں گی۔

Galerie - Asiatischer Gepard

نیپال کے جنگلات میں خونخوار جنگلی حیات کو خوراک کی کمیابی کا سامنا ہے

کیدار برال نے یہ بھی بتایا کہ ایک سو افراد پر ایک ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے اور اس ٹیم میں پولیس، رینجرز اور مقامی دیہاتی شکاری بھی شامل ہیں۔ سرکاری اہلکار نے واضح کیا کہ اس ٹیم کا اولین مقصد اس چیتے کو زندہ پکڑنا ہے اور اس مقصد کے لیے بے ہوش کرنے والی رائفلیں بھی ٹیم کو مہیا کی گئی ہیں۔

مقامی جنگلاتی انتظامیہ نے تاناہون علاقے کے دیہاتیوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ رات کے وقت غیرضروری طور پر اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی ہر گز کوشش مت کریں۔ اس کے علاوہ دیہاتیوں کو یہ بھی کہا گیا کہ وہ دن کے وقت بھی اپنے بچوں کو تنہا مت چھوڑیں اور کسی بھی وقت اُن کی نگرانی سے کوتاہی نہ برتیں۔

نیپال کے جنگلات میں خونخوار جنگلی حیات کی بہتات ہے اور انسانی بستیوں پر ان کے حملوں اور مقابلوں کی کہانیاں عام طور پر زبان زدِ عام ہیں۔ ان جانوروں کے حملوں کی بنیادی وجوہات جنگلات کا کٹاؤ اور خونخوار جانور کی خوراک کا سامان بننے والے چھوٹے جانوروں کی کمیابی ہے۔

کوئی امکان نہیں

غیر قانونی شکار کرنے والوں کے ہاتھوں کوئی جانور محفوظ نہیں۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے عالمی ادارے WWF کے مطابق افریقی ہاتھیوں کی نسل خاص طور پر خطرے میں ہے۔ صرف گزشتہ دو برس کے دوران کم از کم 60 ہزار افریقی ہاتھی ہلاک کر دیے گئے۔ 100 برس قبل براعظم افریقہ میں ہاتھیوں کی تعداد 50 لاکھ کے قریب تھی جو کم ہو کر اب چار لاکھ 70 ہزار سے چھ لاکھ 90 ہزار کے درمیان رہ گئی ہے۔

امارت کی نشانی

ہاتھیوں کو ہلاک کرنے کی سب سے بڑی وجہ ان کے دانت ہوتے ہیں۔ عالمی سطح پر ہاتھی دانت سے بنی اشیاء کی برآمد پر پابندی ہے۔ تاہم گزشتہ برس یعنی 2013ء کے دوران حکام نے 42 ٹن ہاتھی دانت ضبط کیے۔ چین جہاں ہاتھ دانت کی بنی اشیاء کی بہت زیادہ مانگ ہے، وہاں ہاتھی دانت کے بدلے سونا تک دیا جاتا ہے۔ کھدائی کے ذریعے نقش ونگار والی ہاتھی دانت سے بنی اشیاء چین میں امارت کی نشانی سمجھی جاتی ہیں۔

گینڈے کا سینگ

ہاتھیوں کی طرح گینڈے بھی غیر قانونی شکار کے سبب شدید خطرات کا شکار ہیں۔ گینڈے کے تجارتی مقاصد کے لیے شکار اور اس کے جسمانی اجزاء سے بنی اشیاء پر پہلے ہی ایشیا اور افریقہ میں پابندی عائد ہے۔ اس جانور کو کئی طرح کے خطرات کا سامنا ہے۔ شمالی سفید گینڈے کی نسل تو اب تقریباﹰ ختم ہی ہو چکی ہے۔

گینڈے کا سینگ علاج کے لیے

گینڈے کے جسمانی اعضاء سے بنی اشیاء کے سب سے زیادہ گاہک بھی چین اور دیگر ایشیائی ممالک ہی میں موجود ہیں۔ گینڈے کے سینگ کو روایتی ایشیائی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے، جو بخار حتیٰ کہ کینسر تک کے علاج کا ذریعہ بھی سمجھی جاتی ہیں۔ گینڈے کے سینگ کی قیمت بھی ہاتھی دانت کی طرح کافی زیادہ ہوتی ہے۔

انتہائی پسند کی جانے والی کھال

جن جانوروں کی کھال بہت بیش قیمت سمجھی جاتی ہے ان میں شیر کی کھال بھی شامل ہے۔ جنگلی شیروں کی تعداد اب محض 3200 کے قریب رہ گئی ہے۔ 100 برس قبل ان کی تعداد ایک لاکھ کے قریب تھی۔ شیروں کے شکار کے بعد تیار کردہ مصنوعات کی فروخت پر پابندی 1975ء میں عائد کی گئی تھی۔ غیر قانونی شکار کے علاوہ جنگلات کا کم ہوتا ہوا رقبہ بھی ان شیروں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

ریچھ بھی خطرے میں

ریچھ بھی غیر قانونی شکاریوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہیں۔ ان کے جسمانی اعضاء کو نہ صرف بطور ٹرافی استعمال کیا جاتا ہے بلکہ ان کے بعض اعضاء ایشیائی ادویات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ عام طور پر ریچھ کے شکار پر پابندی عائد نہیں ہے۔

قطبی ریچھ

قطبی ریچھ کی نسل کو سب سے بڑا خطرہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہے۔ قطب شمالی پر پگھلتی ہوئی برف کے باعث ان کا رہائشی علاقہ سکڑتا جا رہا ہے۔ اس وقت ان کی تعداد 20 سے 25 ہزار کے قریب ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال قریب 700 قطبی ریچھوں کا شکار کیا جاتا ہے۔

خطرناک اعتقاد

پہاڑی گوریلا جانوروں کی ان اقسام میں شامل ہے جو ناپید ہو جانے کے شدید خطرات سے دو چار ہیں۔ ان کی نسل اگلے 15 برسوں کے دوران بالکل ختم بھی ہو سکتی ہے۔ بندروں اور گوریلوں کا شکار عام طور پر ان کے گوشت کے لیے کیا جاتا ہے۔ بعض مقامی لوگوں کا اعتقاد ہے کہ گوریلے کا گوشت کھانے سے ان میں گوریلوں جیسی طاقت پیدا ہو سکتی ہے۔

بچاؤ کا ایک طریقہ فارمنگ

مگر مچھ شکار کیے جانے کے باعث لمبے عرصے سے معدومیت کے خطرے دو چار ہیں۔ مگر مچھ کی کھال کافی زیادہ پسند کی جاتی ہے۔ تاہم اچھی بات یہ ہے کہ اب اس جانور کو خطرے سے بچا لیا گیا ہے۔ مگر مچھوں کی فارمنگ کے ذریعے پیداوار بڑھا کر اس کی کھال کی صنعت کی ضرورت پوری کی جا رہی ہے۔

ہجرت کے دوران ہلاکت

یورپ میں ہجرت کرنے والے پرندوں کو سب سے بڑا خطرہ غیر قانونی شکاریوں سے لاحق ہوتا ہے۔ افریقہ سے واپس آنے والے پرندوں کو یا تو شکار کر لیا جاتا ہے یا پھر بڑے بڑے جالوں کے ذریعے پکڑ لیا جاتا ہے۔ قدرتی ماحول کے تحفظ کی جرمن تنظیم NABU کے مطابق افزائش نسل کے لیے ہجرت کرنے والے پرندوں کی بہت سے اقسام خطرات کا شکار ہیں۔