1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’آزاد ہانگ کانگ اور تائیوان بطور الگ وطن قابلِ قبول نہیں‘

عابد حسین
5 مارچ 2017

چین نے اپنی سالانہ اقتصادی شرح پیداوار کو گزشتہ برس کے مقابلے میں کم کر دیا ہے۔ چینی وزیر اعظم نے نیشنل پیپلز کانگریس کے شرکاء سے خطاب کے دوران اقتصادی و تجارتی و ماحولیاتی حکومتی ترجیحات کی وضاحت کی۔

https://p.dw.com/p/2Yf2p
China CPPCC Chinesische Volkspolitische Beratungskonferenz
تصویر: picture alliance/Photoshot/J. Peng

چین کے وزیراعظم لی کیچیانگ نے اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تائیوان کی مکمل علیحدگی کو کسی طرح بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ نیشنل پیپلز کانگریس کے سالانہ اجلاس کے ابتدائی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے لی کیچیانگ نے یہ بھی واضح کیا کہ ہانگ کانگ کی آزادی کی تحاریک بے فائدہ ہیں۔ نیشنل پیپلز کانگریس کا سالانہ اجلاس آج سے شروع ہوا ہے اور یہ پندرہ مارچ تک جاری رہے گا۔ اس اجلاس میں کانگریس سے حکومت کے تمام منصوبوں کی منظوری حاصل کی جائے گی۔

 نیشنل پیپلز کانگریس کے رواں برس کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لی کیچیانگ نے زور دے کر کہا کہ ایسی کارروائیوں کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائے گا جن کا مقصد تائیوان کو اس کے مادر وطن سے علیحدہ شناخت دینا ہو۔ اپنی تقریر میں چینی وزیراعظم نے کہا کہ اُن کی حکومت تائیوان کے ساتھ رابطوں میں اضافے کی پالیسی جاری رکھے گی۔ اس میں دو طرفہ پروازوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔

چینی وزیراعظم لی کیچیانگ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ فضائی آلودگی کا خاتمہ حکومت کی خاص ترجیحات میں شامل ہے،’’چین کے اوپر وہ نیلا آسمان دوبارہ سے نمودار ہو گا، جو اس آلودگی کے پیچھے چھپ چکا ہے۔‘‘

انتیس سو اراکین کانگریس کے سامنے انہوں نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا۔ اس موقع پر چین کو درپیش ماحولیاتی مسائل سے متعلق ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

China CPPCC Chinesische Volkspolitische Beratungskonferenz
چینی نیشنل پیپلز کانگریس کا سالانہ اجلاس پندرہ مارچ تک جاری رہے گاتصویر: picture alliance/Photoshot/Y. Zongyou

چینی وزیراعظم نے ملکی پارلیمنٹ کے اراکین پر واضح کیا کہ اگلے برس سے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کی تجدید نو کا عمل شروع کیا جائے گا تا کہ ماحول کو نقصان پہنچانے والے زہریلے ذرات اور سبز مکانی گیسوں کے اخراج کو کم کیا جا سکے۔ چین کے پاور پلانٹس ملک کے اندر سے حاصل ہونے والے کوئلے سے چلائے جاتے ہیں۔ انہوں نے توانائی کے متبادل ذرائع کا حکومتی منصوبہ بھی شرکاء کے سامنے پیش کیا۔

لی کیچیانگ نے اس خطاب کے دوران رواں برس کے لیے چینی اقتصادی پیداوار کی شرح میں کمی کا اعلان کیا۔ چینی وزیراعظم کے مطابق عالمی اقتصادی و تجارتی عدم استحکام کی صورت حال میں اُن کا ملک مضبوط انداز میں قدم جمانے کی کوشش میں ہے۔

 بیجنگ حکومت نے اس کمی کے بعد رواں برس کے لیے اقتصادی پیداوار کی شرح 6.5 مقرر کی ہے۔ یہ اعلان چین کی سست ہوتی اقتصادیات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔  اس سے قبل سن 2017 کے لیے اقتصادی پیداواری شرح کا ہدف 6.7 مقرر کیا گیا تھا۔ سن 2016 میں چین کی سالانہ شرح پیدوار کا حجم گیارہ ٹریلین ڈالر کے قریب تھا۔ چین دنیا کی دوسری بڑی اقتصادیات کا حامل ملک ہے۔