1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

آسٹریا نے پاکستانیوں سمیت متعدد مہاجرین گرفتار کر لیے

عاطف توقیر9 اگست 2016

آسٹریا نے اسمگلنگ کے مقدمے میں پاکستان، بنگلہ دیش، شام اور ترکی سے تعلق رکھنے والے 22 مہاجرین کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان افراد کی گرفتاری سلووینیہ کی سرحد پر عمل میں آئی۔

https://p.dw.com/p/1JeYT
Idomeni Grenze Polizei Flüchtlinge
تصویر: Getty Images/AFP/L. Gouliamaki

پولیس کی جانب سے سامنے آنے والے ایک بیان کے مطابق ان مہاجرین کی عمریں 16 تا 26 برس ہیں اور ان مہاجرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے پانچ سو تا 15 سو یورو ادا کر کے سربیا سے ایک ٹرک میں چھپ کر آسٹریا میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ خیال رہے کہ بلقان کی ریاستوں کی سرحدوں کی بندش کے بعد اب وہاں انسانوں کے اسمگلر متحرک ہیں اور مہاجرین سے بڑی بڑی رقوم لے کر انہیں غیرقانونی طریقے سے مغربی یورپ تک لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آسٹرین پولیس کا کہنا ہے کہ سلووینیہ سے کہا جائے گا کہ وہ ان تمام غیر قانونی تارکین وطن کو واپس لے۔

مغربی بلقان کا خطہ گزشتہ برس مہاجرین کے مغربی یورپی پہنچنے کے لیے سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا راستہ تھا اور اسی راستے سے لاکھوں مہاجرین آسٹریا، جرمنی اور دیگر مغربی اور شمالی یورپی ممالک پہنچے تھے۔

Österreich Grenzkontrollen im Burgenland
آسٹریا نے سرحدوں پر چیکنگ کا نظام سخت بنایا ہےتصویر: picture alliance/APA/picturedesk/R. Jaeger

یورپی یونین اور ترکی کے درمیان رواں برس مارچ میں طے پانے والے معاہدے کے بعد ایک طرف ترکی سے بحیرہء ایجیئن کے ذریعے یورپی یونین میں داخلے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کی تعداد کو کم کیا گیا ہے، جب کہ دوسری جانب بلقان کی ریاستوں نے بھی اپنی اپنی سرزمین کو غیرقانونی تارکین وطن کے لیے بہ طور راستہ استعمال ہونے سے روک رکھا ہے۔ اسی تناظر میں اس صورت حال اور راستے کو انسانوں کے اسمگلر مہاجرین کو غیرقانونی طریقے سے مغربی یورپ پہنچانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، تاہم متعدد ممالک نے اپنی اپنی قومی سرحدوں پر چیکنگ کے نظام کو بھی انتہائی سخت بنا دیا ہے۔