1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ابوظہبی میں پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ

21 دسمبر 2010

صحرا میں گھری خلیجی ریاستوں میں پانی کی اصل قدر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں اس نایاب قدرتی نعمت کا محفوظ ذخیرہ بنانے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

https://p.dw.com/p/Qh6O
تصویر: AP

خلیجی ریاستیں اگرچہ تیل کی نعمت سے مالا مال ہیں مگر یہاں پینے کا میٹھا پانی ناپید ہونے کے برابر ہے۔ اس ضمن میں ابوظہبی میں ایک ایسے پائلٹ پروجیکٹ پر کام جاری ہے، جس کے تحت 26 ملین کیوبک میٹر پانی کو ذخیرہ کیا جاسکے گا۔

436 ملین ڈالر کے اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد یہ دنیا میں پانی کا سب سے بڑا مصنوعی ذخیرہ قرار پائے گا۔ اس پلانٹ کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے متحدہ عرب امارات کی حکومت غیر معمولی اقدامات کر رہی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ وہ پلانٹ میں کسی ممکنہ رساؤ کی نوبت نہیں آنے دینا چاہتے تاہم بعض مبصرین کی رائے میں حکومت کو دہشت گردی کا خدشہ بھی لاحق ہے۔

Ölteppich im Golf von Mexiko Ölbohrinsel Flash-Galerie
خیلج میکسیکو میں بہہ جانے والے تیل کے سبب آلودہ پانی کا منظرتصویر: AP

زیر زمین پانی کے کم ہوتے ذخائر کی وجہ سے خلیجی ریاستوں کو شدید نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر متحدہ عرب امارات میں ڈی سیلی نیشن پلانٹس کام کرنا چھوڑ دیں تو کسی ہنگامی صورتحال کے لئے محض چار دن کا پانی دستیاب ہوسکے گا۔ بروکنگز دوحا سینٹر سے وابستہ ہادی امر کے بقول ڈی سیلی نیشن پلانٹس میں باآسانی تخریب کاری کی جاسکتی ہے اسی لئے ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے غیر معمولی اقدامات کئے جارہے ہیں۔

ابوظہبی کے پائلٹ پراجیکٹ کے تحت متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان واقع صحرا تلے پانی ذخیرہ کیا جائے گا۔ اس میں 90 دن کی ضرورت کے لئے پانی محفوظ ہوسکے گا۔ بتایا جارہا ہے کہ سعودی عرب، کویت اور قطر بھی ایسے منصوبوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ریاض حکومت قطب جنوبی سے برف کے تودے منگوانے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔

کویت سینٹر فار سٹریٹیجک سٹڈیز سے وابستہ سامی الفراج کا کہنا ہے کہ چونکہ عراق اور ایران کے پاس دریا ہیں اور دیگر خلیجی ریاستوں کے پاس نہیں ہے تو مستقبل میں انہیں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

Amerikanische Bodentruppen in Kuwait 1991
90ء کی دہائی میں کویت اور سعودی عرب کی سرحد کے پاس متعین امریکی فوجتصویر: AP

متحدہ عرب امارات میں جس رفتار سے پانی استعمال کیا جارہا ہے اس مناسبت سے زیر زمین پانی کے موجودہ ذخائر آئندہ 50 سال میں ختم ہوجانے کا خدشہ ہے۔ کھارے سمندری پانی کو میٹھا کرنے کے ڈی سیلی نیشن پلانٹس کو تیل کے رساؤ اور قدرتی آفات سے خطرات لاحق ہیں۔

اس ضمن میں کویت اور عراق کی جنگ کی تلخ یادیں بھی عرب حکمرانوں کے ذہنوں میں ہیں۔1991ء کے دوران سابق عراقی صدر صدام حسین نے کویت شہر کو پانی فراہم کرنے والی پائپ لائن سے سپلائی منقطع کروادی تھی اور سعودی عرب کے ساحل کی جانب پانی میں تیل بہا دیا تھا تاکہ ڈی سیلی نیشن پلانٹ سے وہاں متعین امریکی افواج کو پانی نہ مل سکے۔

خلیج میکسیکو میں تیل کے رساؤ کے واقعے نے بھی خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کو پانی کے معاملے پر سوچنے کے لئے مجبور کردیا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں