1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

استنبول میں دھماکا، کم از کم گیارہ ہلاکتیں

عدنان اسحاق7 جون 2016

ترک شہر استنبول میں پولیس کی ایک بس پر ہونے والے بم دھماکے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سال کے دوران استنبول اب تک متعدد دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔

https://p.dw.com/p/1J1jI
تصویر: Reuters/O. Orsal

خبر رساں اداروں کے مطابق دہشت گردوں نے پولیس کی بس کو استنبول کے ایک پر ہجوم علاقے میں نشانہ بنایا۔ استنبول کے گورنر واسپ شاہین کے مطابق مرنے والوں میں سات پولیس اہلکار اور چارعام شہری شامل ہیں۔ انہوں نے زخمیوں کی تعداد 36 بتائی ہے، جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق دہشت گردوں نے بس کو ایک ریمورٹ کنٹرول بم سے اس وقت نشانہ بنایا ، جب وہ شہر کے پرانے حصے کے بایزید نامی علاقے سے گزر رہی تھی۔ اس واقعے کے بعد قریبی زیر زمین ٹرین اسٹیشن کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

ترک ٹیلی وژن پر نشر کی جانے والی تصاویر میں تباہ حال بس دکھائی دے رہی ہے جبکہ دھماکے کی شدت سے قریبی دکانوں کے شیشے بکھرے پڑے نظر آ رہے ہیں۔ استنبول کی یونیورسٹی بھی متاثرہ علاقے سے کافی قریب واقع ہے، اسے بھی بند کر دیا گیا ہے اور امتحانات بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دی ہیں۔

Türkei Bombenanschlag auf Polizeibus in Istanbul
تصویر: Reuters/O. Orsal

ابھی تک کسی بھی تنظیم کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے تاہم اس شہر میں اس سے قبل ہونی والی دو دہشت گردانہ کارروائیوں کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ قبول کر چکی ہے۔ دوسری جانب ترک دارالحکومت انقرہ میں اس سال کے آغاز میں ہونے والے دو مختلف دھماکوں کی ذمہ داری کردستان فریڈم فیلکن ’ ٹی اے کے ‘ نامی تنظیم نے قبول کر لی ہے۔ یہ کالعدم کردستان ورکز پارٹی سے علیحدہ ہونے والے چند افراد کی تنظیم ہے۔

ترکی میں رواں سال کے آغاز سے مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں کی وجہ سے سیاحت کی صنعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ موسم گرما کے دوران یورپی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد ترکی کا رخ کرتی ہے اور آج کے واقعے کے بعد ان میں واضح کمی کا امکان ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اپریل کے مہینے میں تقریباً پونے دو ملین غیر ملکی سیاحوں نے ترکی کا رخ کیا تھا اور یہ تعداد اپریل 2015ء کے مقابلے میں اٹھائیس فیصد کم ہے۔

ترک مغربی دفاعی اتحاد ’نیٹو‘ کا رکن ہے اور یہ شام میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف قائم بین الاقوامی اتحاد میں بھی شامل ہے۔ ترکی کی سرحدیں شمالی شام کے ان علاقوں سے بھی ملتی ہیں، جو اسلامک سٹیٹ کے زیر قبضہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی لیے ترکی دہشت گردوں کے لیے ایک آسان ہدف بھی ہے۔