1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یروشلم کے مفتی اعظم کو گرفتار کر لیا

عاطف توقیر
14 جولائی 2017

دو سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی فورسز نے یروشلم میں اعلیٰ ترین مسلم مبلغ کو حراست میں لے لیا ہے۔

https://p.dw.com/p/2gZOU
Israel Tempelberg in Jerusalem
تصویر: Getty Images/AFP/T. Coex

یروشلم کے مفتیٰ اعظم محمد احمد حسین کو جمعے کے روز مسجد الاقصیٰ کے قریب سے اس وقت حراست میں لے لیا، جب دو اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد مفتیٰ اعظم مسجد الاقصیٰ کے قریب ایک احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے۔

مسجد الاقصیٰ کا علاقہ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان کشیدگی کے اعتبار سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے، جب کہ مفتی اعظم محمد احمد حسین مسجد الاقصیٰ کی بندش کے خلاف بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع کر کے مظاہرہ کر رہے تھے۔

دو سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل نے مسجد الاقصیٰ کی ناکہ بندی کر دی تھی اور اسی تناظر میں مسلمان جمعے کے روز مسجد الاقصیٰ میں نماز نہیں پڑھ سکے۔ محمد احمد حسین کی گرفتاری پر اسرائیلی پولیس نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

Israel Tempelberg Anschlag in Jerusalem
دو سکیورٹی اہکاروں کی ہلاکت کے بعد مسجد الاقصیٰ کی ناکہ بندی کر دی گئی ہےتصویر: Getty Images/AFP/A. Gharabli

حسین کے صاحب زادے جہاد حسین نے جمعے کے روز خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی پولیس ان کے والد کو گرفتار کر کے یروشلم کے قدیمی حصے کے ایک تھانے لے گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’اب تک ہمیں اپنے والد سے متعلق کوئی خبر نہیں ملی ہے۔‘‘

مفتی اعظم کے ایک محافظ خالد حامو نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس احتجاجی اجتماع کے اندر سے مفتی اعظم کو گرفتار کر کے لے گئی۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے، جب تین عرب اسرائیلی شہریوں نے اسرائیلی پولیس اہکاروں پر فائرنگ کر دی اور حملے کے بعد مسجد الاقصیٰ میں جا چھپے۔ ان دونوں حملہ آوروں کو بعد میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا، تاہم حالیہ کچھ برسوں میں مسجد الاقصیٰ میں اس طرز کی خون ریزی کا یہ پہلا سنگین واقعہ تھا۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے مسجد الاقصیٰ کی مکمل ناکہ بندی کرتے ہوئے نماز جمع کے لیے مسجد کا رخ کرنے والے مسلمانوں کو روک دیا تھا۔ اس طرز کے سخت اسرائیلی اقدام کی نظیر بھی حالیہ برسوں میں نہیں ملتی۔

حسین نے گرفتاری سے قبل مسجد کے قریب صحافیوں سے بات چیت میں کہا تھا، ’’مجھے اس واقعے سے متعلق انتہائی کم معلومات ہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسجد میں نماز پر پابندی عائد کر دی جائے۔‘‘