1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا صفایا کر دیں گے، امریکی جنرل

عابد حسین
24 اگست 2017

افغانستان میں امریکی فوج کے اعلیٰ جنرل نے کہا ہے کہ اس ملک میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو پوری طرح مٹا دیا جائے گا۔ امریکی جنرل نے طالبان کو جنگ بند کرنے کا پیغام بھی دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/2ilEy
John W. Nicholson USA NATO Afghanistan Nominierung Oberkommandeur
تصویر: picture-alliance/dpa/M.L. Sprenkle/U.S. Army

افغانستان میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو مشن کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان سرزمین پر ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو جڑ پکڑنے نہیں دیں گے اور اُس کا پوری طرح صفایا کر دیا جائے گا۔ جنرل نکلسن نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے بچے کچھے عناصر کو بھی ملیا میٹ کر دیا جائے گا۔

افغانستان کے لیے امریکی حکمتِ عملی ہے کیا؟

افغانستان میں مزید امریکی فوجی قبول نہیں، حکمت یار

افغانستان میں نئی حکمت عملی اپنائی جائے، امریکی سینیٹرز

جنرل نکلسن نے افغان طالبان کے لیے اپنے پیغام میں کہا ، ’’اپنے ہم وطنوں کے خلاف جنگ بند کر دیں، معصوم شہریوں کو ہلاک کرنے کا سلسلہ ختم کر دیں، افغان قوم کے لیے مشکلات اور مصائب بڑھانے کے عمل کو ترک کر دیں، اپنے ہتھیار پھینک کر افغان معاشرے کی تعمیر میں شامل ہو جائیں، اپنے ملک اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی تعمیر میں عملی طور پر شریک ہو جائیں‘‘۔

Pakistan Islamischer Staat Führer Hafiz Saeed
افغانستان میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو امریکی ڈرون کے حملوں کا سامنا رہتا ہےتصویر: picture-alliance/dpa/TTP

افغان دارالحکومت کابل میں امریکی جنرل جان نکلسن نے ان خیالات کا اظہار میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر کابل میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور ہیوگو لورینز بھی موجود تھے۔ امریکی جنرل نے انتہائی پرعزم لہجے میں کہا کہ افغانستان میں امریکا کسی طور پر ناکام نہیں ہو گا کیونکہ اُن کی ملکی سلامتی کا انحصار افغانستان ، امریکی اتحادیوں اور اُس کے شراکت کاروں کی سلامتی میں مضمر ہے۔

طالبان کے خطرے نے امریکا کو فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دیا

جنرل جان نکلسن کے بیان پر افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹیلی فون نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور اُن کے دوسرے طالبان ساتھی ہرگز اپنے ہتھیار نہیں پھینکیں گے اور افغان سرزمین پر آخری امریکی فوجی کی موجودگی تک لڑائی جاری رکھیں گے۔

ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ 3900 امریکی فوجی افغانستان روانہ کرنے والے ہیں۔ افغانستان میں تعینات اعلیٰ ترین امریکی جنرل جان نکلسن نے بھی نئے امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے نظام الاوقات کے بارے میں میڈیا بریفنگ میں کوئی واضح اشارہ نہیں دیا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اگلے مہینوں میں امریکا اور اُس کے نیٹو پارٹنر افغان فوج کی تربیت، مشاورت اورافغان سکیورٹی فورسز کی فضائی مدد میں اضافہ کریں گے۔