1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان میں این جی اوز کو تحقیقات کا سامنا

31 مئی 2010

افغان حکام نے سینکڑوں رضا کار اداروں اور تنظیموں سے متعلق جانچ پڑتال کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ ملکی ذرائع ابلاغ میں ایک غیر ملکی رضا کار تنظیم کو مسیحیت کی تبلیغ میں ملوث قرار دیا گیا تھا، جس کی سزا افغانستان میں موت ہے۔

https://p.dw.com/p/NdO8
تصویر: picture-alliance / dpa/dpaweb

کابل حکومت نے اتوار کو اس ضمن میں تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ جنگ زدہ افغانستان میں درجنوں غیر ملکی رضا کار تنظیمیں فلاح و بہبود کے مخلتف شعبوں میں خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ اس ضمن میں زیادہ توجہ صحت اور تعلیم پر دی جارہی ہے۔ افغانستان کے میں بعض حلقے ان کی سرگرمیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیموں کے معاملات پر نظر رکھنے کی ذمہ داری افغانستان کے اقصادی امور کے وزارت کی ہے۔ اس وزارت کے ترجمان صدیق امرخیل کے بقول یہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے، اسی لئے اس کی جامع تحقیقات کی جائیں گی۔ ایک مقامی ٹیلی ویژن چینل نے ناروے سے تعلق رکھنے والے رضا کار ادارے نارویجیئن چرچ ایڈ پر مسیحیت کی تبلیغ کا الزام عائد کیا تھا۔

Afghani
کابل حکومت بیس رضا کار اداروں کی بندش کا حکم دے چکی ہے۔ ان اداروں نے اپنے کاموں اور مالی معاملات کی تفصیل فراہم نہیں کی تھیتصویر: AP

امرخیل کے بقول : ’’اگر یہ ثابت ہوگیا کہ کوئی این جی او افغان دستور اور اسلام مخالف کام میں مصروف عمل ہے، تو نہ صرف اس کے دفتر کو بند کردیا جائے گا بلکہ اس کے عملے کو حراست میں لے کر حکومتی انصاف کے محکمے کے حوالے کردیا جائے گا۔‘‘ نارویجئین غیر سرکاری تنظیم نے معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہ این جی اور افغانستان میں کئی دہائیوں سے مصروف عمل ہے۔

افغانستان میں متعین غیر ملکی افواج کے خلاف برسرپیکار طالبان کی جانب سے بھی ان امدادی تنظیموں پر مسیحیت کی تبلیغ کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ 2007ء میں طالبان نے جنوبی کوریا کے 21 شہریوں کو اسی بناء پر اغوا کیا تھا۔ ان میں سے دو کو بعد میں قتل کردیا گیا تھا جبکہ باقی امریکی فوج کی کارروائی کے ذریعے رہائی پانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

این جی اوز کے معاملات جانچنے کے لئے تحقیقاتی کمیشن کے حالیہ اعلان سے قبل کابل حکومت بیس رضا کار اداروں کی بندش کا حکم دے چکی ہے۔ ان اداروں نے اپنے کاموں اور مالی معاملات کی تفصیل فراہم نہیں کی تھی۔ اسی جرم کی پاداش میں ڈیڑھ سو سے زائد افغان غیر سرکاری تنظیموں کو بھی بند کیا جاچکا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف توقیر

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید