1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان میں سلامتی ذمہ داریوں کی منتقلی پر جرمنی کا موقف

3 جنوری 2010

جرمنی چاہتا ہے کہ بحران زدہ افغانستان کی فوج اور سیکیورٹی فورسز اسی سال سے اپنے ملک کی سلامتی کی ذمہ داریاں نبھانا شروع کریں۔

https://p.dw.com/p/LIxe
جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹرویلےتصویر: AP

جنوری کے اواخر میں برطانوی دارالحکومت لندن میں افغانستان کے مسئلے پر ایک بین الاقوامی کانفرنس بھی منعقد ہو رہی ہے۔

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹرویلے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اب افغان فورسز کو اپنے ملک کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں ادا کرنے پر قائل کرنے کا وقت آن پہنچا ہے اور اس عمل کا آغاز اسی سال ہوجانا چاہیے۔ جرمن وزیر خارجہ کے اس انٹرویو کی تفصیلات ہفتہ کے روز جاری کی گئیں۔

Afghanistan Bundeswehr Deutschland Angriff auf Tanklaster in Kundus
قندوز کا فضائی حملہ جرمنی کے لئے مشکلات کا باعث بناتصویر: AP

گیڈو ویسٹرویلے نے کہا کہ لندن میں افغان مسئلے پر کانفرنس میں ہی اس عمل کو شروع کرنے کے حوالے سے کام کیا جانا چاہیے۔’’لندن میں بحران زدہ افغانستان پر اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہمیں اس عمل کو شروع کرنے کے لئےکام کرنا چاہیے، جس کے نتیجے میں افغانستان کی سلامتی کی ذمہ داریاں افغان فورسز کو منتقل کی جا سکیں۔‘‘

ویسٹر ویلے نے جرمن شہر میونخ سے شائع ہونے والے ہفتہ وار نیوز میگزین ’فوکس‘ کے ساتھ انٹرویو میں مزید کہا کہ بعض حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ اچھی خارجہ پالیسی وہی ہے، جس میں دوسری حکومتوں کے مشوروں کی حمایت میں ’ہاں، ہاں‘ کی جائے۔’’میری گزارش ہے کہ ہم اپنی رائے قائم کرنے کے بعد ہی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکمت عملی وضع کریں۔کچھ لوگ دوسری حکومتوں کے مشوروں کی حامی بھرنے کو اچھی خارجہ پالیسی تصور کرتے ہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔‘‘

ابھی حال ہی میں امریکی صدر باراک اوباما نے نئی افغان حکمت عملی کے تحت شورش زدہ اس ملک میں اپنے مزید تیس ہزار فوجی روانہ کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے فوراً بعد ہی نیٹو ممالک نے بھی افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔

اس وقت جرمنی کے تقریباً ساڑھے چار ہزار فوجی افغانستان میں تعینات ہیں۔ فوجیوں کی تعداد کے اعتبار سے امریکہ اور برطانیہ کے بعد جرمنی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے افغان مشن کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ جرمنی میں کرائے گئے بیشتر عوامی جائزوں کے نتائج کے مطابق جرمن اکثریت افغانستان سے اپنے فوجیوں کی جلد واپسی کے حق میں ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور وزیر خارجہ گیڈو ویسٹرویلے افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں مزید اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ کرنے سے قبل لندن کانفرنس کے نتائج کا انتظار کرنے کے حق میں ہیں۔ چانسلر میرکل کی قدامت پسند جماعت ’کرسچین ڈیموکریٹک یونین‘ CDU اور وزیر خارجہ ویسٹر ویلے کی ’فری ڈیموکریٹک پارٹی‘ FDP کا مؤقف ہے کہ افغان مسئلے پر لندن کانفرنس کے انعقاد تک فوجیوں کی تعداد بڑھانے میں جلد بازی سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

داخلی سطح پر جرمن وزیر خارجہ کو متحارب سیاسی قوتوں کی جانب سے دباوٴ کا سامنا ہے کیونکہ ویسٹرویلے نے دھمکی دی تھی کہ اگر لندن کانفرنس میں صرف افغانستان میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنا مقصود ہے، تو وہ اس اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔ ویسٹرویلے کا اصرار ہے کہ لندن اجلاس میں افغانستان میں آبادکاری کے اہم مسئلے کی طرف بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔

ein Jahr Obama Flash-Galerie
افغانستان میں تعینات غیرملکی افواج کی تعداد کے لحاظ سے جرمنی تیسرا بڑا ملک ہےتصویر: AP

جرمنی کے افغان مشن کو اس وقت سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب گزشتہ ستمبر میں افغان صوبے قندوز میں جرمن فوجی کمانڈر کی ہدایت پر طالبان کے قبضے والے ایندھن کے ٹینکروں پر نیٹو نے فضائی حملہ کیا۔ افغان رائٹس گروپ کے مطابق اس متنازعہ حملے میں متعدد بچوں سمیت زیادہ تر شہری مارے گئے۔ قندوز حملے میں ایک سو سے زائد شہریوں کی ہلاکت کی تفصیلات منظر عام پر آنے کے بعد جرمن کابینہ کے وزیر فرانس یوزف یُنگ اور فوج کے سربراہ شنائڈرہان کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑا۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: ندیم گل

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید