امريکا ميں ہنگامی حالت کا نفاذ

امريکی صدر نے اپنے ايک اور متنازعہ اقدام ميں ملک ميں ايمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر ديا ہے۔ کانگريس کے ارکان نے اس فيصلے کی مخالفت کی ہے اور اسے قانونی سطح پر چيلنج کرنے کا عنديہ بھی ديا ہے۔

ميکسيکو کی سرحد پر ديوار کی تعمير کے ليے مطلوبہ بجٹ کے حصول ميں ناکامی کے تناظر ميں امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک ميں ايمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ ٹرمپ نے اس بارے ميں جمعے کی شب اعلان کيا۔ صدر کے مطابق ميکسيکو کی سرحد سے جرائم پيشہ افراد، گروہ و منشيات امريکا منتقل ہوتے ہيں جو امريکا کی قومی سلامتی کے ليے ايک خطرہ ہے۔ ٹرمپ نے ہنگامی حالت کے نفاذ کا يہ فيصلہ کانگريس کی توثيق کے بغير کيا ہے۔ يہی وجہ ہے کہ ڈيموکريٹس نے اس قدم کو ’آئين کی خلاف ورزی‘ قرار ديتے ہوئے اسے قانونی سطح پر چيلنج کرنے کا کہا ہے۔

2016ء ميں منعقدہ امريکی صدارتی اليکشن سے قبل اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کيا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد ميکسيکو کی سرحد پر ديوار تعمير کرائيں گے تاکہ وسطی و جنوبی امريکی ملکوں کے شہريوں کی اس راستے سے امريکا کی جانب غير قانونی ہجرت کو روکا جا سکے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد البتہ ان کی اس سلسلے ميں بيشتر کوششيں قانونی رکاوٹوں کے سبب بے اثر ثابت ہوئيں۔ اسی تناظر ميں پچھلے دنوں امريکا کی تاريخ کا طويل ترين ’شٹ ڈاؤن‘ يا حکومتی سرگرميوں کی جزوی بندش بھی ديکھنے ميں آئی۔

ٹرمپ نے ديوار کی تعمير کے ليے 5.7 بلين ڈالر کا مطالبہ کر رکھا تھا ليکن کانگريس کی جانب سے صرف 1.4 بلين ڈالر کی فراہمی کے بعد فرق پورا کرنے کے ليے امريکی صدر نے يہ قدم اٹھايا ہے۔ يوں ايمرجنسی کی صورتحال ميں ٹرمپ ديگر کئی منصوبوں کے ليے مختص رقوم کو ديوار کی تعمير پر صرف کر سکيں گے۔ صدر ٹرمپ نے ايمرجنسی نافذ کرنے کے بارے ميں اعلان جمعے کو پچاس منٹ طويل اپنے خطاب کے دوران کيا۔ اس دوران انہوں نے ان قانونی رکاوٹوں کا تذکرہ بھی کيا، جن کا اب اس قدم کو چيلنج کيے جانے کی صورت ميں انہيں سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم امريکی صدر پر اعتماد دکھائی ديے کہ وہ سرخرو ہو جائيں گے۔

امريکی کانگريس کی اسپيکر نينسی پيلوسی نے سينيٹ کے ايک اور رکن چارلز شومر کے ہم راہ ايک مشترکہ بيان ميں کہا کہ صدر کے اقدامات آئين کے خلاف ورزی کے مترادف ہيں۔ ٹرمپ کی جانب سے ايمرجنسی نافذ کرنے کے اقدام کے خلاف کانگريس ميں ايک قرارداد جمع کرائے جانے کے قوی امکانات ہيں۔ بعد ازاں اس پر رائے دہی بھی ہو گی تاہم فی الحال يہ واضح نہيں کہ ايسا کب تک ہو گا۔

دريں اثناء ڈيموکريٹس نے مطالبہ کيا ہے کہ اس فيصلے ميں شامل محکمہ انصاف اور انتظاميہ کے ديگر ارکان کو سوال جواب کے ليے پيش کيا جائے۔ علاوہ ازيں ہنگامی حالت کے نفاذ کی بنياد بننے والے حقائق اور دستاويزات کو بھی آئندہ جمعے تک جمع کرانے کا مطالبہ کيا گيا ہے۔

ع س / ع ت، نيوز ايجنسیاں

موضوعات

ہمیں فالو کیجیے