امریکا بھارت کے ’دفاع‘ کے حق کو تسلیم کرتا ہے، نئی دہلی

امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے جمعے کی شب اپنے بھارتی ہم منصب اجِیت ڈوال سے بات چیت میں بھارت کو امریکی تعاون کا یقین دلایا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی زیرانتظام کشمیر میں کار بم حملے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے امریکا بھارت کی مدد کرے گا۔ بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان کے مطابق امریکا نے بھارت کے ’ذاتی دفاع کے حق‘ کو تسلیم کیا۔ مبينہ طور پر پاکستانی حمايت يافتہ ایک عسکریت پسند تنظیم ‘جیش محمد‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ جمعرات کے روز بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ایک کار بم حملے میں 44 بھارتی سیکورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔

کشمیر حملہ کیسے عسکری محاذآرائی میں تبدیل ہو سکتا ہے؟

پلوامہ حملہ :ذمہ دار کون؟

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق، اس بات چیت میں بولٹن نے ڈوال سے کہا کہ امریکا سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے خلاف بھارت کے ذاتی دفاع کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔

بھارت نے اس حملے کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جیش محمد کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستان نے اس حملے کی مذمت تو کی ہے، تاہم اس میں کسی بھی قسم کی معاونت کے الزامات کو رد کیا ہے۔

بھارتی بیان کے مطابق، ’’قومی سلامتی کے دونوں مشیروں کی اس گفت گو میں اتفاق کیا گیا کہ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ پاکستان بھارت پر حملوں میں ملوث جیش محمد سمیت تمام دہشت گرد گروہوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرے۔‘‘

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’دونوں رہنماؤں نے پاکستان سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاس داری کرانے پر بھی اتفاق رائے کیا۔‘‘

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

اس موقع پر بھارتی فورسز کی طرف سے زیادہ تر علیحدگی پسند لیڈروں کو پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا یا پھر انہیں گھروں پر نظر بند کر دیا گیا تھا۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

بھارتی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کے ساتھ ساتھ گولیوں کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

مظاہرین بھارت مخالف نعرے لگاتے ہوئے حکومتی فورسز پر پتھر پھینکتے رہے۔ درجنوں مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ ایک کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

ایک برس پہلے بھارتی فورسز کی کارروائی میں ہلاک ہو جانے والے تئیس سالہ عسکریت پسند برہان وانی کے والد کے مطابق ان کے گھر کے باہر سینکڑوں فوجی اہلکار موجود ہیں۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

برہان وانی کے والد کے مطابق وہ آج اپنے بیٹے کی قبر پر جانا چاہتے تھے لیکن انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

باغی لیڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے شروع ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائیوں میں اب تک ایک سو کے قریب انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

کشمیر کے علیحدگی پسند لیڈروں نے وانی کی برسی کے موقع پر ایک ہفتہ تک احتجاج اور مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

ایک برس قبل آٹھ جولائی کو نوجوان علیحدگی پسند نوجوان لیڈر برہان وانی بھارتی فوجیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارا گیا تھا۔

یہ بات اہم ہے کہ جمعرات کے روز بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہوئے ایک خودکش کار بم حملے میں چوالیس سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد پاکستان اور بھارت کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔ اس حملے پر ردعمل میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ‘سخت جوابی کارروائی‘ کی دھمکی دی تھی۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، جو واضح کرتے ہیں کہ اس حملے میں پاکستان ملوث ہے۔ تاہم بھارت کی جانب سے ایسے شواہد عوامی سطح پر پیش نہیں کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے اس حملے میں معاونت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اس سلسلے میں ثبوت پيش کرے۔

ع ت، ع س (روئٹرز، اے ایف پی)

موضوعات

ہمیں فالو کیجیے