امریکا کے ساتھ جنگ اب ’ناگزیر‘ ہے، شمالی کوریا

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ جزیرہ نما کوریا میں امریکا کے ساتھ جنگ اب ناگزیر ہو چکی ہے اور اب جنگ کا معاملہ ’کیا‘ کی بجائے ’کب‘ تک پہنچ چکا ہے۔

پیونگ یانگ کے مطابق جزیرہ نما کوریا میں جنگ چھڑنے کے امکانات اب واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے خطے میں امریکا اور جنوبی کوریا کی بڑے پیمانے پر شروع ہونے والی فوجی مشقوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب امریکا کے ساتھ جنگ یقینی ہوتی جا رہی ہے۔

امریکا کا عالمی غلبہ اب تاریخ بنتا جا رہا ہے، جرمنی

جرمنوں کی نظر میں ٹرمپ شمالی کوریا اور روس سے زیادہ بڑا خطرہ

خطے میں جنگ کے ناگزیر ہونے سے متعلق یہ بیان شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ اس ترجمان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم پیونگ یانگ کے مطابق حالیہ عرصے کے دوران سی آئی اے کے ڈائریکٹر سمیت اعلیٰ امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیانات سے واضح ہے کہ امریکا شمالی کوریا کے ساتھ جنگ کرنے کی نیت رکھتا ہے۔

معاشرہ

چین

سن 1927 میں قائم کی گئی چین کی ’پیپلز لبریشن آرمی‘ کے فوجیوں کی تعداد 2015 کے ورلڈ بینک ڈیٹا کے مطابق 2.8 ملین سے زیادہ ہے۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز ’’آئی آئی ایس ایس‘‘ کے مطابق چین دفاع پر امریکا کے بعد سب سے زیادہ (145 بلین ڈالر) خرچ کرتا ہے۔

معاشرہ

بھارت

بھارت کی افوج، پیرا ملٹری اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ایسے اہلکار، جو ملکی دفاع کے لیے فوری طور پر دستیاب ہیں، کی تعداد بھی تقریبا اٹھائیس لاکھ بنتی ہے۔ بھارت کا دفاعی بجٹ اکاون بلین ڈالر سے زائد ہے اور وہ اس اعتبار سے دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے۔

معاشرہ

روس

ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق روسی فیڈریشن قریب پندرہ لاکھ فعال فوجیوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے تاہم سن 2017 میں شائع ہونے والی انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق روسی فوج کے فعال ارکان کی تعداد ساڑھے آٹھ لاکھ کے قریب بنتی ہے اور وہ قریب ساٹھ بلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کے ساتھ دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔

معاشرہ

شمالی کوریا

شمالی کوریا کے فعال فوجیوں کی مجموعی تعداد تقربیا تیرہ لاکھ اسی ہزار بنتی ہے اور یوں وہ اس فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔

معاشرہ

امریکا

آئی آئی ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق 605 بلین ڈالر دفاعی بجٹ کے ساتھ امریکا سرفہرست ہے اور امریکی دفاعی بجٹ کی مجموعی مالیت اس حوالے سے ٹاپ ٹین ممالک کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ تاہم ساڑھے تیرہ لاکھ فعال فوجیوں کے ساتھ وہ تعداد کے حوالے سے دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔

معاشرہ

پاکستان

پاکستانی فوج تعداد کے حوالے سے دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستانی افواج، پیرا ملٹری فورسز اور دیگر ایسے سکیورٹی اہلکاروں کی، جو ملکی دفاع کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہیں، مجموعی تعداد نو لاکھ پینتیس ہزار بنتی ہے۔ آئی آئی ایس ایس کے مطابق تاہم فعال پاکستانی فوجیوں کی تعداد ساڑھے چھ لاکھ سے کچھ زائد ہے۔

معاشرہ

مصر

ورلڈ بینک کے مطابق مصر آٹھ لاکھ پینتیس ہزار فعال فوجیوں کے ساتھ اس فہرست میں ساتویں نمبر پر ہے۔ تاہم آئی آئی ایس ایس کی فہرست میں مصر کا دسواں نمبر بنتا ہے۔

معاشرہ

برازیل

جنوبی امریکی ملک برازیل سات لاکھ تیس ہزار فوجیوں کے ساتھ تعداد کے اعتبار سے عالمی سطح پر آٹھویں بڑی فوج ہے۔ جب کہ آئی آئی ایس ایس کی فہرست میں برازیل کا پندرھواں نمبر ہے جب کہ ساڑھے تئیس بلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کے ساتھ وہ اس فہرست میں بھی بارہویں نمبر پر موجود ہے۔

معاشرہ

انڈونیشیا

انڈونیشین افواج، پیرا ملٹری فورسز اور دفاعی سکیورٹی کے لیے فعال فوجیوں کی تعداد پونے سات لاکھ ہے اور وہ اس فہرست میں نویں نمبر پر ہیں۔

معاشرہ

جنوبی کوریا

دنیا کی دسویں بڑی فوج جنوبی کوریا کی ہے۔ ورلڈ بینک کے سن 2015 تک کے اعداد و شمار کے مطابق اس کے فعال فوجیوں کی تعداد چھ لاکھ چونتیس ہزار بنتی ہے۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق قریب چونتیس بلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کے ساتھ جنوبی کوریا اس فہرست میں بھی دسویں نمبر پر ہے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اُن ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پائی جانے والی شدید کشیدہ صورت حال سے بے خبر ہیں۔ پومپیو کے اس بیان کے جواب میں شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے اس ترجمان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے شمالی کوریا کے ’عوام کے دلوں میں رہنے والے سپریم لیڈر کے خلاف بیانات دے کر غصہ دلایا جا رہا ہے‘۔

شمالی کوریائی وزارت خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا، ’’اب سوال یہ باقی ہے کہ جنگ کب شروع ہو گی۔ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن ہم اس سے منہ بھی نہیں موڑیں گے اور اگر امریکا نے ہماری صلاحیتوں کا غلط اندازہ لگا کر ایک ایٹمی جنگ کا خطرہ مول لیا تو ہم اپنی مستقل مضبوط ہوتی ہوئی ایٹمی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر یقینی بنائیں گے کہ امریکا کو اس جنگ کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے۔‘‘

شمالی کوریا کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب امریکا اور جنوبی کوریا کی فوجیں مشترکہ مشقیں کر رہی ہیں۔ اس بیان سے محض ایک گھنٹہ قبل ہی امریکا کے بی ون بی جنگی سپر سونک طیاروں نے جنوبی کوریا کی فضا میں پرواز کی تھی۔

فوجی مشقوں سے متعلق جنوبی کوریا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’ان مشقوں کا مقصد شمالی کوریا پر واضح کرنا ہے کہ اگر اس نے ایٹمی ہتھیار یا میزائل استعمال کرنے کی کوشش کی تو امریکا اور جنوبی کوریا اسے شدید سزا دینے کی نیت اور بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘

گزشتہ ہفتے امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر میک ماسٹر نے بھی کہا تھا کہ شمالی کوریا کے ساتھ جنگ کے امکانات میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔

شمالی کوریا: سلامتی کونسل کی قراردار کی ایک اور خلاف ورزی

موضوعات

شمالی کوریا دہشت گردی اسپانسر کرنے والی ریاست ہے، امریکا

تین سالہ جنگ کا آغاز

شمالی کوریا کی فوجیں 25 جون 1950ء کو جنوبی کوریا میں داخل ہو گئی تھیں۔ جنگ شروع ہونے کے چند دنوں بعد ہی جنوبی کوریا کے تقریبًا تمام حصے پر کمیونسٹ کوریا کی فوجیں قابض ہو چکی تھیں۔ تین سال جاری رہنے والی اس جنگ میں تقریباً 4.5 ملین افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

جنگ سے پہلے کی تاریخ

جزیرہ نما کوریا 1910ء سے لے کر 1945ء تک جاپان کے قبضے میں رہا اور دوسری عالمی جنگ کے بعد سے منقسم چلا آ رہا ہے۔ شمال کا حصہ سوویت کنٹرول میں چلا گیا جب کہ جنوبی حصے پر امریکی دستے قابض ہو گئے۔ اگست 1948ء میں جنوبی حصے میں ری پبلک کوریا کے قیام کا اعلان کر دیا گیا جب کہ اس کے رد عمل میں جنرل کم ال سونگ نے نو ستمبر کو عوامی جمہوریہ کوریاکی بنیاد رکھ دی۔

اقوام متحدہ کا کردار

شمالی کوریا کی جانب سے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کے بعد امریکا اور اقوام متحدہ نے فوری طور پر جنوبی کوریا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ بیس ممالک کے چالیس ہزار فوجیوں کو جنوبی کوریا روانہ کیا گیا، ان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 36 ہزار تھی۔

آپریشن ’ Chromite‘

15ستمبر 1950ء کو امریکی جنرل ڈگلس مک کارتھر کی قیادت میں اتحادی دستے ساحلی علاقے ’ Incheon ‘ پہنچے اور اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد سیول دوبارہ سے جنوبی کوریا کے زیر قبضہ آ چکا تھا۔

ماؤ کے دستوں کی مدد

1950ء کے اکتوبر میں چین کی جانب سے اس تنازعے میں باقاعدہ مداخلت کی گئی۔پہلے چھوٹے چھوٹے گروپوں کی صورت میں اور بعد ازاں رضاکاروں کا ایک بہت بڑا دستہ شمالی کوریا کی مدد کو پہنچا۔پانچ دسمبر کو پیونگ یانگ اتحادی فوجوں سے آزاد کرا لیا گیا۔

جوابی کارروائی

جنوری 1951ء میں چین اور شمالی کوریا نے مل کر ایک بڑی پیش قدمی شروع کی۔ اس میں چار لاکھ چینی اور شمالی کوریا کے ایک لاکھ فوجی شامل تھے۔ اس دوران شمالی کوریا کو بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ امریکا نے چین پر جوہری بم سے حملہ کرنے کی تجویز کو بھی مسترد کر دیا۔

تھکاوٹ کا شکار

1951 ءکے آخر میں جنگ اسی مقام پر پہنچ چکی تھی، جہاں سے اس کی ابتدا ہوئی تھی یعنی فریقین جنگ سے پہلے والی پوزیشنوں میں اپنی اپنی سرحدوں میں موجود تھے۔ جولائی 1951ء میں فائر بندی مذاکرات شروع ہونے کے باوجود 1953ء کے موسم سرما تک دونوں وقفے وقفے سے ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہتے تھے۔

دو نظاموں کی جنگ

کوریائی جنگ کو سرد جنگ کے دوران مشرق اور مغرب کے درمیان پہلی پراکسی وار کہلاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے دستوں میں امریکی فوجیوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی جب کہ دوسری جانب شمالی کوریا کی پشت پناہی کے لیے چین اور روس کے لاکھوں سپاہی موجود تھے۔

بے پناہ تباہی

اس جنگ میں امریکی افواج نے ساڑھے چار لاکھ ٹن بارود استعمال کیا۔ بمباری کا یہ عالم تھا کہ1951ء کے اواخر میں امریکی پائلٹوں نے یہ شکایات کی تھیں کہ شمالی کوریا میں اب کوئی ایسی چیز نہیں بچی ہے، جسے وہ ہدف بنا سکیں۔ شمالی کوریا کے تقریباً تمام بڑے شہر ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔

لاکھوں افراد ہلاک

1953ء میں جب اتحادی دستوں کا انخلاء شروع ہوا تو اس وقت تک کئی لاکھ افراد موت کے منہ میں جا چکے تھے۔ اس دوران اندازہ لگایا جاتا ہے شمالی اور جنوبی کوریا کے ملا کر پانچ لاکھ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ چار لاکھ چینی فوجی اور اس جنگ کے دوران مرنے والے اتحادی فوجیوں کی تعداد چالیس ہزار بتائی جاتی ہے۔

جنگی قیدیوں کا تبادلہ

1953ء میں اپریل کے وسط اور مئی کے آغاز میں فریقین کے مابین قیدیوں کا پہلی مرتبہ تبادلہ ہوا اور اسی سال کے اختتام تک تبادلے کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی کوریا کے پچہتر ہزار اور تقریباً سات ہزار چینی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ دوسری جانب سے ساڑھے تیرہ ہزار قیدی رہا کیے گئے، جن میں تقریباً آٹھ ہزار جنوبی کوریا کے تھے۔

فائربندی سمجھوتہ

دس جولائی1951ء کو جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع ہوئے اور بالآخر دو سال بعد 27 جولائی کو معاملات طے پا گئے۔ تاہم اس سمجھوتے پر دستخط نہیں نہ ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک ابھی تک حالت جنگ میں ہیں۔

ساٹھ سال بعد بھی دشمن

اس جنگ کو ختم ہوئے ساٹھ برس گزر چکے ہیں لیکن ابھی بھی یہ دونوں ممالک کشیدگی کی حالت میں ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیانی سرحد کی نگرانی انتہائی سخت ہے۔ ابھی بھی سرحد کے اطراف دونوں ملکوں کے سپاہی چوکنا کھڑے ہوتے ہیں۔