امریکی شہری ڈے ہیون کا جوڈیشل ریمانڈ

پاکستان کی ایک عدالت نے ملکی ویزا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے امریکی باشندے ایرن مارک ڈے ہیون کو دو ہفتے کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ ایسی خبریں بھی ہیں کہ ڈے ہیون ایک نجی سکیورٹی ادارے سے منسلک ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے ایرون مارک ڈے ہیون کو جمعہ کو پشاور سے حراست میں لیا تھا۔ اس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ویزے کی معیاد ختم ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر پاکستان میں قیام پذیر تھا۔

ہفتے کو ڈے ہیون نے عدالتی کارروائی کے دوران جج قدرت اللہ کو بتایا کہ اس کا امریکی حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اپنے نجی بزنس کے لیے پاکستان آیا تھا۔ دوسری طرف پاکستانی خفیہ ایجنسی کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا ہے کہ ڈے ہیون امریکہ کی ایک نجی سکیورٹی فرم 'کیٹالسٹ' سے وابستہ ہے۔ اہلکار کے مطابق ڈے ہیون اس نجی سکیورٹی ادارے کا علاقائی سربراہ ہے،’پاکستان میں خفیہ اداروں سے وابستہ ہر شخص جانتا ہے کہ ڈے ہیون کس کے لیے کام کر رہا تھا۔ اس میں کوئی شک کی بات نہیں ہے۔‘

Flash Galerie Demonstration in Pakistan

ریمنڈ ڈیوس تنازعہ کے بعد پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

خیال رہے کہ امریکی اور پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی کا متنازعہ نجی ادارہ بلیک واٹرز اب پاکستان میں کام نہیں کر رہا ہے تاہم کچھ پاکستانی خفیہ اہلکاروں کا اصرار ہے کہ بلیک واٹرز اب ایک نئے نام ‘کیٹالسٹ سروسز‘ کے تحت پاکستان میں اپنی کارروائیاں سر انجام دے رہا ہے۔

دریں اثناء پاکستان میں امریکی سفارتخانے نے تصدیق کی ہے کہ انہیں علم ہے کہ ایک امریکی باشندہ پاکستان میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم سفارتخانے کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ابھی اس امریکی باشندے سے رابطے کی کوشش میں ہیں۔ اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے نے اس حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔

امریکی باشندے ڈے ہیون کی گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب پہلے ہی ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ امریکہ اور پاکستانی حکومتوں کے مابین تناؤ کا باعث بنا ہوا ہے۔ کئی سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں ڈے ہیون کی گرفتاری سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین سفارتی سطح پر خلیج مزید بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: افسر اعوان

ہمیں فالو کیجیے