انسان کے ہاتھوں خلائی تسخیر کو ساٹھ برس ہو گئے

آج سے ٹھیک ساٹھ برس قبل جب سپُٹنِک کو خلاء میں بھیجا گیا تھا، تو ایک نیا خلائی دور شروع ہو گیا تھا۔ سرد جنگ کے دور میں یہ انقلابی پیش رفت سوویت یونین کی بہت بڑی کامیابی بن گئی تھی، جس پر پوری دنیا ششدر رہ گئی تھی۔

سابق سوویت یونین کی جانشین ریاست روس کے دارالحکومت ماسکو سے بدھ چار اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ٹھیک چھ عشرے قبل جب سوویت یونین نے Sputnik کو خلا میں بھیجا تھا، تو یہ طے ہو گیا تھا کہ تب سوویت یونین نے عسکری سطح پر اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے امریکا پر بہت متاثر کن برتری حاصل کر لی تھی۔

Laika erster Hund im Weltall

سپُٹنِک ٹو میں پہلی بار ایک مسافر بھی تھا (تصویر)، جو لائیکا نامی کتا تھا

بھارت نے اکتیس مصنوعی سیارے خلا میں روانہ کر دیے

ناسا نے زمین جیسے دس نئے سیارے دریافت کر لیے

خلائی راکٹ کے ملبے سے زمین پر ایک شخص ہلاک

تب ماسکو میں سوویت رہنماؤں نے اس پہلے مصنوعی سیارے کی تیاری اور اس کے اولین خلائی سفر کی جملہ تفصیلات انتہائی خفیہ رکھی تھیں، جو عشروں بعد منظر عام پر آ سکی تھیں۔

سپُٹنِک سوویت یونین کی طرف سے خلاء میں بھیجا گیا دنیا کا پہلا خلائی جہاز تھا اور اس میں کوئی خلاباز سوار نہیں تھا۔

سپُٹنِک کو 1957ء میں چار اکتوبر کے روز خلاء میں بھیجا گیا تھا اور اس منصوبے پر کام کرنے والے سوویت سائنسدانوں کی ٹیم کی رہنما سیرگئی کورولیوف تھے۔

Nikita Sergejewitsch Chruschtschow 1960

سپُٹنِک کے ڈیزائنر کے لیے نوبل انعام کی پیشکش رد کرنے والے نیکیتا خروشیف

خلائی ملبہ، اسپیس پروگراموں کے لیے شدید خطرہ

عام خلائی سیاحوں کا چاند کے گرد پہلا چکر اگلے سال

خلا سے ملبہ اکھٹا کرنے کی جاپانی کوشش

موضوعات

سوویت یونین کا یہ پہلا مصنوعی خلائی سیارہ، جو ایک خلائی جہاز تھا، صرف چند ماہ میں تیار کیا گیا تھا۔ روسی زبان میں اس کے نام کا مطلب تھا، ’سادہ ترین سیٹلائٹ‘ اور اسے مختصراﹰ پی ایس ون کا نام دیا گیا تھا۔

تب کورولیوف نے کہا تھا، ’’دنیا ایک دائرے کی شکل کی ہے۔ اس لیے یہ پہلا مصنوعی سیارہ بھی دائرے کی شکل کا ہونا چاہیے۔‘‘

سپُٹنِک کا وزن 84 کلوگرام سے کچھ ہی کم تھا، اس کے چار اینٹینے تھے اور اپنی جسامت میں وہ ایک باسکٹ بال سے کچھ ہی بڑا تھا۔ اس خلائی جہاز کے اولین سفر کی پہلی خبر بہت ہی مختصر تھی، جسے سوویت کمیونسٹ پارٹی کے جریدے ’پراودا‘ کے اندرونی صفحات میں سے ایک پر شائع کیا گیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 05:11
Now live
05:11 منٹ
ڈی ڈبلیو ویڈیو | 24.02.2016

خواتین اب خلا کے شعبے میں

پھر دو روز بعد اسی اخبار نے یہی خبر پہلے صفحے پر بہت بڑی سرخی کے ساتھ شائع کی تھی، جس میں عالمی سطح پر اس کامیابی کے بعد کی جانے والی سوویت یونین کی بے تحاشا تعریف کو بھی کافی جگہ دی گئی تھی۔

سپُٹنِک ون کی لانچنگ کے ساتھ ہی خلائی سفر کے میدان میں سوویت یونین اور امریکا کے مابین ایک دوڑ شروع ہو گئی تھی۔

پھر اسی سال تین نومبر کو سپُٹنِک ٹو کو خلاء میں بھیجا گیا، جس کا وزن 508 کلوگرام تھا اور جس میں پہلی بار ایک مسافر بھی سوار تھا۔

یہ مسافر لائیکا نامی ایک کتا تھا جو لانچنگ کے کچھ ہی دیر بعد سپُٹنِک ٹو کے اندر بہت زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے مر گیا تھا۔

سپُٹنِک کے پہلے خلائی سفر کے بعد نوبل کمیٹی نے یہ پیشکش بھی کی تھی کہ اس خلائی جہاز کو ڈیزائن کرنے والے انجینیئر کو نوبل انعام دیا جانا چاہیے۔ لیکن اس دور کے سوویت رہنما نیکیتا خروشیف نے یہ پیشکش یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی کہ یہ کامیابی ’سوویت یونین کے تمام شہریوں کی کامیابی‘ تھی۔

ریکارڈ فاصلہ

ناسا کی طرف سے جنوری 2004ء میں مریخ کی سطح پر جو ایک روبوٹک گاڑی اتاری گئی اسے اپورچونٹی کا نام دیا گیا تھا۔ منصوبے کے مطابق اس گاڑی کو ایک کلومیٹر کے اندر اس سُرخ سیارے کی سطح کا جائزہ لینا تھا۔ مگر گزشتہ ایک دہائی کے دوران اپورچونٹی مریخ پر 40 کلومیٹر کا سفر کر چکی ہے۔ جو زمین سے پرے کسی گاڑی کا ریکارڈ سفر ہے۔

کیوروسٹی کا اہم سنگ میل

چھ اگست 2012ء کو مریخ کی سطح پر اتاری جانے والی روبوٹک گاڑی کیوروسٹی ہمارے نظام شمسی کے اس سیارے کی سطح پر مصروف عمل ہے۔ کیوروسٹی زمینی کنٹرول سنٹر کو مریخ کی سطح کی تصاویر بھیجنے میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ اس پر نصب نظاموں نے پہلی بار وہاں کی ایک چٹان کا تجزیہ بھی کیا ہے۔ یہ اس مشن کا ایک اہم سنگ میل ہے۔

مریخ کی سطح پر پہلا سوراخ

کیوروسٹی میں نصب ڈرلنگ نظام نے رواں برس فروری میں مریخ کی سطح پر سوراخ کیا۔ اس کا قطر 1.6 انچ جبکہ گہرائی چھ انچ تھی۔ ناسا حکام نے اس پیشرفت کو ’’مریخ پر اترنے کے بعد کی عظیم ترین کامیابی‘‘ قرار دیا۔

پانی کی موجودگی کا ثبوت

سائنسدان مریخ کی اس چٹان کے تجزیے سے یہ امید کر رہے ہیں کہ یہ بات معلوم ہو سکے گی کہ آیا ماضی میں کبھی اس کی سطح پر پانی موجود رہا ہے یا نہیں۔ اس کے نتائج سے مریخ کے بارے میں مزید اہم معلومات بھی حاصل ہوں گی۔

زندگی کے لیے سازگار فضا

کھدائی کے ذریعے حاصل کیے گئے مریخ کی چٹانی سطح کے نمونے میں سلفر، نائٹروجن، فاسفورس اور کاربن کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ ان کیمیائی اجزاء کو زندگی کے لیے اہم قرار دیا جاتا ہے۔ ناسا ماہرین کے مطابق، ’’یہ کبھی قابل رہائش جگہ رہی ہو گی۔‘‘

سفر جاری ہے

900 کلوگرام وزنی یہ روبوٹک گاڑی شمسی توانائی کے علاوہ جوہری توانائی سے چلتی ہے۔ اس طرح خصوصی ساخت کے چھ پہیوں والی یہ گاڑی ریتلی اور پتھریلی زمین پر با آسانی حرکت کر سکتی ہے۔

اپنی ہی ایک تصویر

کیوروسٹی پر انتہائی جدید آلات نصب ہیں۔ جن میں کمپیوٹرز، انٹینیا، ٹرانسمیٹر، کیمرے اور چیزوں کو پکڑنے والے بازو شامل ہیں۔ کسی خرابی کی صورت میں یہ گاڑی خود ہی اسے دور بھی کر سکتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس پر نصب مختلف کیمرے اس گاڑی کے دیگر حصوں کی تصاویر بھی بنا کر زمین پر بھیجتے رہتے ہیں۔

حرکت کرتی آنکھ

کیوروسٹی کے ایک روبوٹک آرم پر ایک خصوصی کیمرہ نصب ہے جسے ’مارس ہینڈ لینز امیجر‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک طرح کی خوردبین ہے جو روبوٹ کے طویل روبوٹک بازو کو آہستگی کے ساتھ زیرتجزیہ مقام کے چھوٹے چھوٹے حصوں کی طرف لاتی ہے۔

مریخ سے سورج گرہن کا نظارہ

کیوروسٹی پر نصب ایک پول پر لگے کیمرے نے یہ تصاویر بنائی ہیں۔ ان میں مریخ کے دو چاندوں میں سے ایک فوبوز Phobos مریخ اور سورج کے درمیان سے گزر رہا ہے جس سے جزوی سورج گرہن دیکھا جا سکتا ہے۔

مریخ کا پہلا سال

24 جون 2014ء وہ دن تھا جب کیوروسٹی کو مریخ کی سطح پر اترے مریخ ہی کے وقت کے مطابق ایک سال مکمل ہوا۔ مریخ کا سال دنیا کے 687 دنوں کے برابر ہے۔ اور یوں اس نے اپنے لیے مقرر کردہ وقت کا ہدف بھی حاصل کر لیا ہے۔ مگر یہ اب بھی رواں دواں ہے اور ممکن ہے کہ یہ اپورچونیٹی کے ریکارڈ کو بھی توڑ دے۔