1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
جرائم

اٹلی میں بدنام زمانہ سسیلین مافیا کے خلاف چھاپے

18 جولائی 2019

جن مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، ان کا تعلق نیویارک کے بدنام ترین گامبینو خاندان سے بھی ہیں۔ پولیس حکام نے ان چھاپوں کے دوران تین ملین کے اثاثے بھی ضبط کر لیے ہیں۔

https://p.dw.com/p/3MGFV
Italien Sizilien | Polizei führt mutmaßliches Mitglied der Mafia ab
تصویر: picture-alliance/AP Photo/I. Petix

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اطالوی حکام نے بدھ کے صبح اطالوی علاقے پالیرمو میں چھاپے مارتے ہوئے سسلین مافیا کے متعدد ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس نے اس حوالے سے مزید معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے لیکن یہ ضرور بتایا ہے کہ گرفتار شدگان کا تعلق نیویارک کی بدنام زمانہ گامبینو فیملی سے ہے۔

اطالوی سکیورٹی ادارے ملک کے مشہور 'انزیریلو قبیلے‘ کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس خاندان کا تعلق 'کوسا نوسٹرا‘ گروپ سے ہے۔

 کوسا نوسٹرا گروپ کے ارکان اسی کی دہائی میں بحیرہ روم کے جزیرے کو چھوڑ کر دیگر مختلف علاقوں میں آباد ہو گئے تھے۔ اس وقت اس گروپ میں اندرونی لڑائی کا آغاز ہو گیا تھا اور انزیریلو قبیلہ انتہائی دہشت ناک سمجھے جانے والے مافیا باس سلواتورے (ٹوٹو) سے شکست کھا چکا تھا۔

کوسا نوسٹرا اٹلی کا ایک مشہور جرائم پیشہ گروہ ہے۔ سن دو ہزار سترہ میں اس گروپ کا باس ٹوٹو انتقال کر گیا تھا اور تب سے اس گروپ میں مزید دراڑیں پڑ چکی ہیں۔

ایف بی آئی بھی شامل

ماضی میں 'انزیریلو خاندان‘ امریکا فرار ہو گیا تھا لیکن سن دو ہزار میں اس خاندان کی کوسا نوسٹرا گروپ سے صلح ہو گئی اور یہ واپس اٹلی آ کر آباد ہو گیا تھا۔

بدھ کی صبح اس مافیا گروہ کے خلاف کی گئی کارروائیوں میں تقریبا دو سو پولیس اہلکار شامل تھے اور ان میں سے متعدد کا تعلق امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) سے بھی تھا۔ مجموعی طور پر انزیریلو اور گامبینو خاندان کے انیس افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔

پولیس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ''تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ کوسا نوسٹرا پالیرمو اور امریکا کے طاقتور جرائم پیشہ گروپوں، خاص طور پر نیویارک کے گامبینو خاندان کے درمیان نئے تعلقات وجود میں آئے ہیں۔‘‘

ابتدائی چھاپوں میں اس مافیا کے تین ملین کے اثاثے بھی ضبط کر لیے گئے ہیں۔

ا ا / ش ح (روئٹرز، ڈی پی اے)