1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایرانی جوہری پروگرام، کشیدگی اور بھی بڑھ گئی

8 فروری 2010

ایرانی ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تہران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو پیر کے روز مطلع کردے گا کہ اب وہ بیس فیصد تک اعلیٰ افزودہ یورینیم کی تیاری اپنے طور پر کرے گا۔

https://p.dw.com/p/LvIQ
ایرانی صدر احمدی نژادتصویر: ISNA

میونخ کانفرنس کے آغاز پرایرانی وزیرخارجہ منوچہر متقی کے بیان کے بعد تہران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کسی مثبت پیش رفت کی ایک امید پیدا ہوگئی تھی تاہم اس امید کو اتوار کے روز اس وقت دھچکا پہنچا، جب ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے بیان دیا کہ ایران اعلیٰ یورینیم کی تیاری اب اپنے طور پرکرے گا۔ اس سے قبل تہران نے عِندیہ دیا تھا کہ وہ مغربی طاقتوں کے اس مجوزہ منصوبے پر عمل کرنے کے حوالے سے بہت قریب ہے، جس کے تحت ایران کم افزودہ یورینیم کی زیادہ افزودگی کے لئے اسے روس برآمد کرے گا۔ احمدی نژاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ مغرب ایرانی قوم کے ساتھ کھیل کھیلنے کا سلسلہ بند کردے تو ایران مذکرات کی میز پر آنے کو تیار ہے۔

ایرانی خبررساں ادارے اِرنا کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں علی اکبر صالحی نے یہ بھی کہا کہ ایرانی صدر نے ان کے ادارے کو حکم دیا ہے کہ وہ مغربی دنیا سے جاری مذاکرات کے ناکام ہونے کی صورت میں یورینیم کی اپنے طور پر افزودگی کے لئے تیار رہیں۔

Robert Gates Washington USA
گیٹس نے کہا ہے کہ تازہ ایرانی اقدام پر انہیں مایوسی ہوئی ہےتصویر: AP

امریکی وزیردفاع رابرٹ گیٹس نے اس ایرانی فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اس اعلان سے ایران کے جارحانہ عزائم کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کے اس اعلان سے انہیں مایوسی ہوئی ہے۔ رابرٹ گیٹس نے یہ بات اٹلی میں ایک نیوز کانفرنس میں کہی۔ رابرٹ گیٹس نے کہا کہ اس ایرانی اقدام پر عالمی برادری کو متحد ہو کر تہران حکومت کے خلاف سخت ترین پابندیوں سے جواب دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صرف اسی طریقے سے ایرانی حکومت کو جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی برادری کے مطالبات کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔

دوسری طرف امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کی جانب سے تائیوان کے لئے چھ اعشاریہ چار بلین ڈالر کے اسلحے کی فروخت کے منصوبے کے کانگریس میں منظوری کے لئے پیش کئے جانے کے باعث ایران کے حوالے سے چین کے نقطہ نظر میں واضح نرمی دیکھی گئی۔ میونخ کانفرنس میں ایک طرف تو چینی وزیرخارجی ینگ جیچی نے اس امریکی اقدام کی مذمت کی اور دوسری جانب کہا کہ ایران پر پابندیوں کے حوالے سے کوئی سخت فیصلہ نہیں کیا جانا چاہئے۔ ینگ جیچی کے مطابق عالمی برادری کو تہران کے حوالے سے صبر وتحمل سے کام لینا چاہئے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق