1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بحر قطب جنوبی میں بحری جہاز کی غرقابی

13 دسمبر 2010

انٹارکٹیکا کے یخ پانی میں جنوبی کوریائی ماہی گیری بحری جہاز کے ڈوبنے سے کم از کم 22 ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ امدادی عمل جاری ہے۔

https://p.dw.com/p/QWyW
فائل فوٹوتصویر: AP

نیوزی لینڈ کی کھلے سمندروں کی سکیورٹی کے محکمے کا کہنا ہے کہ حادثہ بحر قطب جنوبی کے مقامی وقت کے مطابق علی الصبح ساڑھے چھ بجے پیش آیا۔ کشتی میں سوار 42 میں سے 20 ماہی گیروں کو فوری طور پر بچالیا گیا تھا۔ بحر قطب شمالی کا پانی انتہائی یخ ٹھنڈا ہوتا ہے اوراس لئے دیگر 22 ڈوبنے والے افرادکے بچنے کے امکانات انتہائی کم بتائے جاتے ہیں۔

میری ٹائم سکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈوبنے والے ماہی گیر اتنے ٹھنڈے پانی کے اندر دس منٹ سے زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ امدادی کاموں کے نگراں ڈیوڈ ولسن کے بقول ڈوبنے والوں کو بچانے کی سر توڑ کوششیں کی گئی تھیں اور اس عمل میں پانچ بحری ٹرالر مصروف رہے۔ ان میں سے دو جنوبی کوریا کے جبکہ تین ٹرالر نیوزی لینڈ کے ہیں۔ میری ٹائم نیوزی لینڈ کے ترجمان روز ہینڈرسن نے بتایا کہ ماہی گیروں کا جہاز کی جانب سے کوئی ہنگامی سگنل جاری نہیں کیا گیا تھا اس خاموشی کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

Neuseeland Landschaft
ماحول دوست تنظیم گرین پیس کے مطابق یہ ماہی گیر ’’ٹوتھ فش‘‘ نامی مچھلی کا شکار کر رہے تھےتصویر: AP

ہینڈرسن کے مطابق ’’ ہمیں خطرے کا کوئی اشارہ موصول نہیں ہوا۔ فی الحال ہم نہیں جانتے کہ ڈوبنے کا سبب کیا ہے۔‘‘ ان کے بقول حادثے کے ساڑھے چھ گھنٹے گزرنے کے بعد انہیں خبر ہوئی۔ نیوزی لینڈ حکام نے واضح کیا ہے کہ جس مقام پر حادثہ پیش آیا وہاں مجرمانہ سرگرمیاں بالکل بھی عام نہیں۔ ہینڈرسن کے بقول عمومی طور پر اس قسم کی صورتحال میں ہنگامی رابطہ کیا جاتا ہے تاہم ایسا نہیں ہوا جس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جارہی ہے۔

بچاؤ کے عمل میں مصروف عملے اور ڈوبنے والے جہاز کی کپمنی سے موصولہ اطلاعات سے یہی پتہ چلا ہے کہ جہاز انتہائی تیزی سے ڈوبا اور جو ماہی گیر جہاز سے کودنے میں کامیاب ہوئے انہوں نے انتہائی جلدی میں لائف جیکٹ کے بغیر پانی میں چھلانگ لگائی تھی۔ جنوبی کوریائی بندرگاہ بوسان پر ڈوبنے والا جہاز کی رجسٹریشن کروائی گئی تھی۔ اس کے ریکارڈ کے مطابق جہاز پر آٹھ کوریائی، آٹھ چینی، 11 انڈونیشی، 11 ویتنامی، تین فلپائنی اور ایک روسی ماہی ماہی گیر سوار تھے۔

ماحول دوست تنظیم گرین پیس کے مطابق یہ ماہی گیر ’’ٹوتھ فش‘‘ نامی مچھلی کا شکار کر رہے تھے جو انتہائی بیش قیمت ہونے کے سبب ’سفید سونا‘ کہلاتی ہے۔

رپورٹ :شادی خان سیف

ادارت : عابد حسین

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں