بریگزٹ، سکاچ وہسکی کی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ

سال 2018ء میں سکاچ وہسکی کی برآمدات میں تقریباً آٹھ فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔ برطانوی ٹیکس محکمے ’ HMRC ‘ کے اعداد وشمار کے مطابق بھارت، فرانس اور امریکا میں وہسکی کی مانگ بڑھی ہے، جس کا اثر اس کی قیمت پر بھی پڑا ہے۔

برطانیہ کے یورپی یونین کے تجارتی بلاک سے اخراج میں اب تقریباً چھ ہفتے رہ گئے ہیں اور ابھی تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہو پایا کہ مستقبل میں تجارتی قواعد اور ضوابط کیا ہوں گے اور یورپی یونین سے انخلاء کے بعد برطانوی اشیاء کی برآمدات کیسے کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں سکاچ وہسکی بنانے والے کچھ زیادہ ہی پریشان ہیں کیونکہ یورپی یونین ان کے مشروبات کی بہت بڑی مارکیٹ ہے، عالمی منڈی میں اسکاچ کی ایک تہائی برآمد یورپی ممالک کو کی جاتی ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ سنگل مالٹ وہسکی کی مانگ میں اضافہ بھی  ہے۔ بات اگر بھارت کی کی جائے تو شراب کی مانگ میں بڑا فرق آیا ہے۔ کل تک جس شراب کا استعمال 23.1 ملین بوتلوں تک محدود تھا وہ بڑھ کر 112.6 ملین بوتلوں تک جا پہنچا ہے۔

رہی بات امریکا اور فرانس کی، جو پوری دنیا میں اسکاچ سب سے زیادہ پیتے ہیں، ان دونوں ممالک کو برآمد کی جانے والی بوتلوں میں 9.4 ملین کا اضافہ ہوا ہے جبکہ جرمنی اور اسپین کو برآمد بالترتیب تقریباً 10 ملین اور  4.5 ملین کم ہوئی۔  

اسکاچ وہسکی ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکیٹوکیرن بیٹس کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مانگ پر خوشی اپنی جگہ، ’’مگر ہمیں اسے آسان نہیں سمجھنا چاہیے۔‘‘ اسکاچ وہسکی ایسوسی ایشن 90  فیصد وہسکی بنانے والوں کی نمائندہ ہے۔

 کیرن بیٹس نے اس بات پر  زور دیا کہ بریگزٹ ڈیل کے بغیر برطانیہ کو یورپی یونین نہیں چھوڑنا چاہیے، ’’ہم یہ دیکھنا بھی چاہتے ہیں کہ برطانیہ اور یورپی یونین اپنے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک ایسے معاہدے تک پہنچیں، جس کی وجہ سے بغیر کسی پریشانی یا رکاوٹ کے یورپی یونین کے ساتھ تجارت کی جا سکے۔ ‘‘

Now live
03:41 منٹ
عنوانات | 08.10.2018

شراب صحت کے لیے بہتر ہے یا مضر، سچ کیا ہے؟

ہمیں فالو کیجیے