بسنت پر پابندی: جان و مال کا تحفظ یا ثقافتی سانجھ کا قتل؟

جہاں ٹریفک حادثات ميں اوسطاً سالانہ اموات پندرہ ہزار ہوں، وہاں عوامی تحفظ کے نام پر خوشیوں، رنگوں اور محبتوں بھرا تہوار بند کر دیا گیا جو پاکستان کی مثبت عالمی پہچان بن گیا تھا۔

پاکستان کائیٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعلان کے مطابق فیصل آباد میں سات اور آٹھ فروری کو بسنت رت کا جشن کچھ اس طرح منایا گیا کہ اسے اپنی نوعیت کی ایک ’ثقافتی نا فرمانی‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔ فیصل آباد کے لوگ ہر برس بسنت پر عائد پابندی کو ہوا میں اڑا دیتے ہیں، اس پر فخر کرتے ہیں اور لاہوریوں کو شہہ دینے کے لیے ’فیصل آباد، فیصل آباد ہے‘ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اس مرتبہ لاہور کے دل پر یہ چوٹ خاصی گہری تھی جہاں بسنت کی تاریخ نو اور 10 فروری طے کی گئی تھی۔

لاہور میں بسنت نہیں منائی گئی۔ تمام دن پولیس کی ٹولیاں محلوں، گلیوں، بازاروں، چھتوں، میدانوں اور آنگنوں میں ’مجرموں‘ کو رنگے ہاتھوں پکڑنے، (مبینہ طور پر ’خوش‘ ہو کر چھوڑ دینے)، بحث و تکرار کرنے، زور زبردستی کرنے میں مصروف رہی اور آخر کار، اطلاعات کے مطابق، 174 پتنگ باز گرفتار کیے، سینکڑوں پتنگیں اور ڈوریں برآمد کیں اور ایک خاتون سمیت کئی پتنگ فروشوں کو قانون کے آہنی شکنجے میں کَس لیا۔ مختلف علاقوں میں البتہ آسمان میں رنگ چڑھتے اترتے رہے لیکن مجموعی طور پر لاہوربسنت نہیں منا سکا۔

یہ تہوار لاہور سے منسوب ہے۔ لاہور نے بسنت کو وہ شہرت اور مقام دیا کہ یہ ایک عالمی میلہ قرار دیا جانے لگا۔ لگ بھگ ایک ہفتہ کی معاشی سرگرمی 250 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ تین لاکھ سے زائد  افراد بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اس سے وابستہ ہو گئے۔ لاہور کے تمام چھوٹ بڑے ہوٹل، چراغاں، آتش بازی، آرائش و زیبائش، موسیقی، ڈھول، بھنگڑے اور پکوان کے متوالوں سے بھر جاتے۔ لاہوریوں کے گھروں میں پورے پاکستان اور پوری دنیا سے مہمان آ جاتے۔ یہ عوامی جشن کسی مذہبی، فرقہ ورانہ، نسلی، لسانی، صنفی یا طبقاتی تفریق سے بالا تھا۔ پھر میلہ چراغاں، ہارس اینڈ کیٹل شو، جشن بہاراں، شاہ جمال کے ڈھول کے طرح بسنت بھی عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر بند کر دیا گیا۔

قانون کی عمل داری

پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت کا امتناعی آرڈیننس، 26 دسمبر 2001 کو نافذ کیا گیا جس کے مطابق، پتنگ سازوں، پتنگ فروشوں، اور پتنگ سازی سے متعلقہ ساز و سامان کی تیاری اور خرید و فروخت سے وابستہ افراد پر متعلقہ مقامی حکومت کے دفتر میں رجسٹریشن کرانا لازم قرار پایا۔ پتنگ بازی کے لیے استعمال ہونے والی جگہ کے لیے یونین ناظم سے اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا۔ ضلعی ناظم کے خصوصی اجازت نامہ کے تحت 15 دن کے لیے پتنگیں اڑانے اور خرید و فروخت کی اجازت دی گئی۔ قانون شکنی کی سزا چھ مہینے قید یا ایک لاکھ روپے (یا دونوں) قرار دیے گئے۔

موضوعات

بعد ازاں، عدالت عظمٰی نے 25 اکتوبر 2005کو بسنت پر پابندی عائد کر دی جب اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بتایا گیا کہ اس تہوار کے دوران 19 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، لاہور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو ایک ارب روپے کا نقصان ہوا اور ایک مہینہ میں بجلی کی  15566  ’ٹرپنگ‘ ہوئیں۔ بعد ازاں مارچ  2006میں سپریم کورٹ نے 15 دن کے لیے پابندی ہٹا لی لیکن 10 مارچ کو اسوقت کے وزیر اعلٰی، چوہدری پرویز الہی نے دوبارہ پابندی عائد کر دی۔ پھر عوامی دباؤ پر چار جنوری 2006 کو ایک دن کی اجازت دی گئی۔

2007 میں پنجاب حکومت کی جانب سے دائر کردہ بسنت منانے کی اجازت کی درخواست پر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ’’امن عامہ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر بسنت کے نتیجہ میں کسی کی ہلاکت ہوئی تو اس کی ذمہ دار سپریم کورٹ نہیں بلکہ صوبائی حکومت ہو گی‘‘۔  اس فیصلہ کے بعد پنجاب حکومت نے 27 فروری 2007 کو دوبارہ پابندی عائد کر دی۔ اس دوران 2008 اور 2009میں جزوی طور پر بسنت منانے کی اجازت دی گئی۔

تاہم 2009میں پنجاب پولیس کی جانب سے اس پر حتمی پابندی کی بھر پور سفارش  کے بعد پنجاب کا بسنت امتناعی ترمیمی ایکٹ منظور کیا گیا۔ بعد ازاں، 16 مارچ 2016 کو عدالت عظمٰی کے جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس تصدق حسین جیلانی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے 2005 کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو بسنت منعقد کرانے یا نہ کرانے کا مکمل اختیار دے دیا۔ اکتوبر 2016 میں پنجاب حکومت نے ایک نمائندہ کمیٹی تشکیل دی جس نے 24 گھنٹوں کے تہوار کی اجازت، دھاتی ڈور پر پابندی، پتنگ کے سائز کا تعین اور پتنگ بازی کے لیے مخصوص علاقوں کا انتخاب جیسی سفارشات پیش کیں۔    

 سرسوں کا پیلا اور جوگی کا جوگیا

فروری 2009 میں اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے بیان دیا کہ وہ ہر حالت میں بسنت منائیں گے اور  پابندی کے حکومتی فیصلے کا احترام نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دھاتی تار پر پابندی اور مجرموں کی پکڑ حکومت کی ذمہ داری ہے اور وہ اپنی نا اہلی کی سزا عوام کو نہیں دے سکتی۔ اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے ونگ، پاسبان ملی نے، 16 فروری 2009 کو شائع ہونے والے ایک اخباری بیان میں کہا، ’’گورنر ہاؤس لبرل ازم کا گڑھ بن چکا ہے اور اگر وہاں بسنت منائی گئی تو وہ گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے کیونکہ یہ ایک ہندو تہوار ہے جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘‘  

شیراز راج

26 مارچ 2013 کو معروف صحافی نجم سیٹھی کو پنجاب حکومت کا نگران وزیر اعلٰی مقرر کیا گیا۔ انہوں نے فوراﹰ ایک کمیٹی مقرر کی اور اعلان کیا کہ افہام و تفہیم سے بسنت منائی جائے گی۔ عوامی حلقوں کی جانب سے  اس اعلان کی پرزور تائید اور پزیرائی کی گئی۔ پتنگ سازوں اور پتنگ بازوں کی نمائندہ تنظیم نے پتنگیں اڑانے کے لیے مخصوص مقامات کے تعین کی تجویز کی تائید کی۔ تاہم اس مقصد کے لیے قاتم کردہ کمیٹی نے اس منصوبہ سے ہاتھ اٹھا لیا کیونکہ جماعت الدعوہ نے یہ کہتے ہوئے شدید احتجاج کی دھمکی دی تھی کہ یہ ایک ہندو تہوار ہے۔ دوسری طرف پولیس نے عوام کے تحفظ کی یقین دہانی سے معذرت کر لی تھی۔

اس نکتہ نظر سے اختلاف رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں میں بسنت کا آغاز نظام الدین اولیا سے ہوا تھا کہ جب انہوں نے امیر خسرو کی پگڑی میں سرسوں کے پھول اڑسے ہوئے دیکھے۔ استفسار پر امیر خسرو نے بسنت کے تہوار کی رنگا رنگی اور آشتی و چاہت کا حال بیان کیا۔ حضرت سلطان جی نے اپنے مریدوں کو یہی کرنے کی ہدایت کی۔ یہ تہوار دہلی کے مسلمانوں میں بہت مقبول ہوا اور صوفیا سے منسوب ہو گیا۔  قدم شریف، خواجہ بختیار کاکی، نظام الدین اولیا، شاہ حسن، شاہ ترکمان جیسے صوفیوں کی درگاہوں پر چراغاں اور محافل سماع ہوتیں۔ تاریخی شواہد کے مطابق، بسنت محمود غزنوی بھی مناتا تھا، مہاراجہ رنجیت سنگھ بھی، مغل بادشاہ بھی اور انگریز سرکار بھی۔ قیام پاکستان کے بعد ضیا دور میں مذہبی حلقوں کی جانب سے اس پر اعتراضات شروع ہوئے۔

تبدیلی کی ناکام کوشش

پنجاب کے وزیر ثقافت فیاض الحسن چوہان کی آٹھ دسمبر 2018 کی پریس کانفرنس کے مطابق، ’’بسنت پر سپریم کورٹ کی جانب سے کوئی پابندی نہیں۔ یہ ایک ثقافتی تہوار ہے اور اس کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ تاہم عدالت کے سامنے حکومت نے اپنا حتمی موقف پیش کیا کہ وہ اگلے برس بھرپور تیاری اور ضروری حفاظتی تدابیر کے بعد ہی بسنت منانے کی اجازت دے گی۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے، سیف کائیٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے صدر عادل قریشی نے کہا، ’’یہ لوگ گزشتہ تیرہ برسوں سے ہمارے ساتھ یہی کر رہے ہیں اور ہمیں کہتے ہیں کہ اس برس ہماری تیاری نہیں۔ جبکہ ان کے سامنے کوئی قانونی رکاوٹ نہیں۔ ہم حکومت کے ساتھ مل کر ہر طرح کے حفاظتی اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس تہوار کے ساتھ ہزاروں خاندانوں اور لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ یہ ایک تہذیبی فن بھی ہے، جس کے استاد تھے۔ ان میں سے کئی یہ کام چھوڑ گئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ قانون کے مطابق اس تہوار کا احیاء کیا جائے۔‘‘

معروف شاعر اور فیصل آباد کے علمی اور ثقافتی حلقوں کی معروف شخصیت، انجم سلیمی کے مطابق، ’اس نوعیت کی پابندیاں عائد کرنے والے در حقیقت احساس کمتری کے شکار، ڈرے ہوئے لوگ ہیں۔ یہ عوام کی سانجھ سے ڈرتے ہیں۔ یہاں عوام کو خوشی دینے والی ہر شے پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ موسمی تہوار معاشرے میں موجود وحشت اور بربریت کے آگے بندہ باندھتے ہیں۔‘‘

معروف شاعر اور براڈ کاسٹر مقصود وفا کے مطابق، ’’بسنت کا تہوار، عوام کی خوشی ہے اور کمزور طبقات کا روزگار ہے۔ یہ ایک طرح کی گھریلو صنعت ہے۔ اس کی حفاظت سب کا فرض ہے۔‘‘

نوٹڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔   

   


ہمیں فالو کیجیے