بھارتی اليکشن: فلموں کے ذريعے پراپگينڈا کا بازار بھی گرم

بھارت ميں اس سال عام انتخابات ہونے والے ہيں۔ ايسے ميں بھارتی فلم انڈسٹری بھی حرکت ميں ہے اور کئی ايسی فلميں ريليز ہونے والی ہيں جن کا موضوع سياست ہے۔ ناقدين کا البتہ ماننا ہے کہ چند فلميں ’پراپگينڈا‘ کے زمرے ميں آتی ہيں۔

فلموں پر تبصرہ کرنے والی نندنی رام ناتھ کے بقول اس سال متعدد فلميں ريليز ہونے والی ہيں۔ ان ميں سے کچھ کسی ايک فرد اور جماعت کے ايجنڈے، اس کی پاليسيوں اور اس کے سياسی نقطہ نظر کی حمايت کرتی دکھائی ديتی ہيں۔

بھارت ميں فلم انڈسٹری اور سياست کا ملاپ کوئی نئی بات نہيں۔ يہ روايت سالہا سال سے چلی آ رہی ہے۔ کئی نامور اداکار سياستدانوں کے کردار ادا کرتے آئے ہيں اور ان گنت فلموں کی کہانيوں ميں سياسی صورت حال نماياں رہی۔ کرپشن کے خلاف سن 1983 ميں ريليز ہونے والی فلم ’جانے بھی دو يارو‘ کافی مقبول ہوئی۔ پھر سن 2010 ميں ’پيپلی لائيو‘ نے کسانوں کی خود کشی کے معاملے کی عکاسی پر داد وصول کی۔ کبھی کبھار فلموں نے تنازعہ بھی کھڑا کيا۔ مثال کے طور پر ’قصہ کرسی کا‘ اور ’آندھی‘ دونوں ہی فلموں پر ستر کی دہائی ميں اس وقت کی وزير اعظم اندرا گاندھی نے پابندی عائد کر دی تھی۔ ان ميں سے ايک فلم ان کی ذاتی زندگی پر تھی جبکہ دوسری ان کی سياست پر۔ 

بھارت ميں آج جمعہ گيارہ جنوری کو دو فلميں ريليز ہو رہی ہيں۔ ان ميں سے ايک ’دا ايکسيڈنٹل پرائم منسٹر‘ اور دوسری ’اُڑی، دا سرجيکل اسٹرائک‘ شامل ہيں۔ دو معروف سياست دانوں پر بھی اسی ماہ دو فلميں ريليز ہوں گی۔ بھارتی سياسی جماعت کانگريس کے کارکنوں نے ’دا ايکسيڈنٹل پرائم منسٹر‘ کی ريليز رکوانے کے ليے مظاہرے بھی کيے اور عدالت بھی گئے تاہم وہ کامياب نہ ہو سکے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس فلم ميں کانگريس کے ايک سينیئر رکن کو کافی منفی کردار ميں دکھايا گيا ہے، جو بھارتی وزير اعظم نريندر مودی اور ان کی بھارتيہ جنتا پارٹی کے مفاد ميں ’پراپیگنڈا‘ ہے۔ فلم کے ہدايت کار البتہ ان الزامات کو مسترد کرتے ہيں۔

فلم سازوں کا ماننا ہے کہ اليکشن سے قبل کے مہينوں ميں ايسی فلميں جن ميں سياست کا عنصر دکھائی دے، اچھا کاروبار کرتی ہيں۔ تاہم ماہرين کے بقول کچھ ايسے بھی ہيں، جو يہ اميد لگائے بيٹھے ہيں کہ ان فلموں کی بدولت ان کی جماعتوں کو چند اضافی ووٹ مل سکيں گے۔

موضوعات

متنازعہ بھارتی فلمیں

آندھی:

1975 میں اس فلم کی نمائش پر کانگرس کے دور حکومت میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ سیاسی ڈرامے پر منبی یہ فلم، اندرا گاندھی اور ان کے سابق شوہر کی زندگی پر فلمائی گئی ہے۔ بعد ازاں پابندی ہٹا دی گئی اور اسے ٹی وی پر بھی نشر کیا گیا۔

متنازعہ بھارتی فلمیں

انصاف کا ترازو:

بی آر چوپڑا کی پراڈکشن میں تیار کی گئی اس فلم میں بھارتی اداکار راج ببر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ فلم میں ایک 13 سالہ بچی سے زیادتی کا منظر دکھایا گیا جس پر ہر سطح پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔

متنازعہ بھارتی فلمیں

بینڈیتھ کوئین:

ڈاکوؤں کی رانی سمجھی جانے والی پھولن دیوی کی زندگی پر فلمائی گئی شیکھر کپور کی اس فلم کو انتہائی متازعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس فلم میں شامل عریانیت ،زیادتی اور مغلظات سے بھرپور مناظر نے کئی تنازعات کو جنم دیا۔

متنازعہ بھارتی فلمیں

بلیک فرائیڈے:

ممبئی میں 1993ء میں ہونے والے دھماکوں کے تناظر میں بنائی گئی اس فلم کی نمائش پر دو سال کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ فلم عدالتی تحقیقات اور فیصلے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

متنازعہ بھارتی فلمیں

فراق:

بھارتی ریاست گجرات میں 2002 ء میں ہونے والے فسادات کی بیناد پر بنائی گئی اس فلم کو کئی بین الاقوامی فورمز پر پزیرائی ملی اور ایوارڈز دیے گئے۔ لیکن اپنے حساس موضوع کے باعث گجرات میں اس فلم کی ریلیز پر پابندی عائد ہے۔

متنازعہ بھارتی فلمیں

فائر:

بھارتی اداکاراوں شبانہ اعظمیٰ اور نندیتا داس کی یہ فلم ہم جنس پرستی کے موضوع پر بنائی گئی تھی۔ اس کے موضوع کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے شیو سینا اور بجرنگ دل جیسی ہندو انتہا پسند سیاسی تنظیموں کی جانب سے کافی ہنگامہ آرائی کی گئی اور اسے ناقابل قبول قرار دیا گیا۔

متنازعہ بھارتی فلمیں

واٹر:

دیپا مہتا کی اس فلم میں بھارتی آشرم میں رہنے والی ایک بیوہ عورت کی زندگی دکھائی گئی۔ شدت پسند خیالات کے حامل افراد کی جانب سے اسے ہندو معاشرے کے عقائد کے برخلاف قرار دیا گیا۔ جگہ جگہ ہنگامہ آرائی کی گئی اور احتجاجاﹰ فلم کے پوسٹرز جلائے گئے۔

متنازعہ بھارتی فلمیں

مائی نیم از خان:

انڈین پریمئیر لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شمولیت کی خواہش کا اظہار کرنے پر کئی ہندو قوم پرست جماعتوں کی جانب سے بھارتی اداکار شاہ رخ خان کی شدید مخالفت کی گئی اور ان کی اس وقت نئی آنے والی اس فلم کو نمائش میں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

متنازعہ بھارتی فلمیں

لپ اسٹک انڈر مائی برقعہ:

عورت کے صنفی انحراف کی کہانی پر مبنی اس فلم کو بھارتی فلمی سنسر بورڈ سے ایک طویل جنگ لڑنے کے بعد آخر کار ریلیز کر دیا گیا تھا۔ اس فلم  کی کہانی چھوٹے شہروں کی چار ایسی خواتین کے گرد گھومتی ہے، جو مردوں کی اجاراہ داری والے ہندو معاشرے میں عورت پر پابندیوں کے خلاف بغاوت کرتی ہیں۔

ع س / ا ا، نيوز ايجنسياں