1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

تہران حملوں میں 12 ہلاکتیں، داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

William Yang/ بینش جاوید RT, DPA, AFP
7 جون 2017

تہران میں ہونے والے دو حملوں کی ذمہ داری دہشت گرد گروہ داعش نے قبول کر لی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ اور انقلابِ ایران کے سربراہ آیت اللہ خمینی کے مقبرے پر ہونے والے ان حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے۔

https://p.dw.com/p/2eFci
[No title]
تصویر: Ilna

خودکش حملہ آور اور مسلح افراد نے آج بدھ سات جون کو ایرانی دارالحکومت تہران میں ملکی پارلیمان کی عمارت اور ایرانی انقلاب کے سربراہ آیت اللہ خمینی کے مقبرے پر دہشت گردانہ حملے کیے۔ ایرانی میڈیا اور حکام کے مطابق ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 12 ہے۔

ایرانی دارالحکومت میں کیے گئے ان دونوں حملوں کی ذمہ داری دہشت گرد گروپ داعش نے قبول کر لی ہے۔ داعش کی طرف سے ایران میں اس طرح کی یہ پہلی کارروائی ہے۔ داعش کی طرف سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے، جس میں مسلح افراد کو پارلیمان کی عمارت کے اندر دکھایا گیا ہے جبکہ ایک شخص زخمی حالت میں فرش پر گرا نظر آتا ہے۔

Iran Parlament in Teheran
’’حملہ آور خواتین کے لباس میں پارلیمان کے مرکزی راستے سے اندر داخل ہوئے‘‘تصویر: picture-alliance/dpa/V. Fedorenko

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے داعش کی پروپیگنڈا ایجنسی کے حوالے سے لکھا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے آیت اللہ خمینی اور ایرانی پارلیمان کی عمارت پر حملے کیے ہیں۔ ایجسنی کے مطابق دو حملہ آوروں نے خود کو خمینی کے مزار پر دھماکے سے اڑا دیا۔ ابھی تک دیگر کسی ذریعے سے داعش کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے ملک کے نائب وزیر داخلہ حسین ذوالفقاری کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملہ آور خواتین کے لباس میں پارلیمان کے مرکزی راستے سے اندر داخل ہوئے۔ ذوالفقاری کے مطابق ان میں سے ایک کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا جبکہ ایک نے اپنی خودکش جیکٹ دھماکے سے اڑا دی۔

اس حملے سے متعلق ابتدائی رپورٹوں کے قریب چار گھنٹے بعد ایرانی نیوز ایجنسیوں نے بتایا کہ پارلیمان پر حملہ کرنے والے چاروں افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ایران کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پیر حیسن کولیوند کے بقول حملہ آوروں نے کم از کم 12 افراد کو ہلاک کر دیا۔

Iran Chomeini Mausoleum in Teheran
’’ پارلیمان پر حملے کے فوری بعد ایک اور خودکش حملہ آور نے تہران کے جنوبی حصے میں واقع انقلاب ایران کے سربراہ آیت اللہ خمینی کے مقبرے پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا‘‘تصویر: Reuters/TIMA

ایک صحافی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’’میں پارلیمنٹ کے اندر ہی تھا جب فائرنگ شروع ہوئی۔ ہر کوئی پریشانی اور خوف میں مبتلا تھا۔ میں نے دو افراد کو دیکھا جو اندھا دھند فائرنگ کر رہے تھے۔‘‘

حسین ذوالفقاری کے بقول پارلیمان پر حملے کے فوری بعد ایک اور خودکش حملہ آور نے تہران کے جنوبی حصے میں واقع انقلاب ایران کے سربراہ آیت اللہ خمینی کے مقبرے پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔