جرمنی اور سعودی عرب ’’عسکری ساتھی کے لیے اسلحے کی برآمدات‘‘

یمن میں انسانی حقوق کے شدید خلاف ورزیوں کے باوجود سعودی عرب جرمن اسلحے کا ایک بڑا خریدار ہے۔ ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ صحافی خاشقجی کے قتل سے ریاض کو اسلحے کی فراہمی عارضی طور پر ہی معطّل کی گئی تھی۔

یمن میں اکثر اچانک کیے جانے والے فضائی حملے تباہی اور ہلاکتوں کا سبب بنتے ہیں۔ اسکول کے بچوں سے بھری بسوں کو نشانہ بنا دیا جاتا ہے، شادیوں کی محفلیں سوگوار تقریب میں بدل جاتی ہیں، یمن  میں آج کل ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ یمن میں تقریباً روزانہ بے گناہ شہری ایسی کارروائیوں کا نشانہ بنتے ہیں، جن کا کوئی عسکری جواز موجود نہیں ہے۔

Wirtschaftsminister Rösler besucht Saudi Arabien

ریاض جرمن اسلحے کا دوسرا بڑا خریدار

رواں برس جنوری سے ستمبر تک جرمنی کی جانب سے سعودی عرب کو 416 ملین یورو سے زائد کی مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت کی اجازت دی گئی۔ اس طرح الجزائر کے بعد سعودی عرب جرمن اسلحہ خریدنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا۔ اکتوبر میں برلن حکومت نے سعودی عرب کو مزید 254 میلن یورو اسلحہ فراہم کرنے کا گرین سگنل دیا۔

 اس موقع پر جرمنی کی بنی ہوئی عسکری کشتیوں کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ ڈوئچے ویلے کے مطابق ایسی سات جنگی کشتیاں پہلے ہی سعودی عرب کے حوالے کی جا چکی ہیں۔ یہ چالیس میٹر لمبی ہیں اور ان پر اسلحہ بھی نصب ہے۔

ماکس مچلر نامی ایک ماہر کے مطابق ان عسکری کشتیوں کو سمندری ناکہ بندی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، ’’ان کے ذریعے کسی بحری جنگی جہاز کو تباہ نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے ذریعے راستوں کی نگرانی کی جائے گی۔‘‘

Deutsche Rüstungsexporte U-Boot vom Typ 214

کیا جرمنی یمن میں ہونے والی ان ہلاکتوں کا شریک ذمہ دار ہے؟ کیا سعودی عرب کو دی جانے والی کشتیاں سمندری ناکہ بندی میں کردار ادا کر رہی ہیں؟ اور کیا جرمنی سے برآمد کیا جانے والے اسلحہ کا یمنی جنگ میں مارے جانے والے ساٹھ ہزار سے زائد انسانوں کی ہلاکتوں میں کوئی کردار ہے؟

جرمنی کی مخلوط حکومت نے رواں برس کے آغاز میں فیصلہ کیا تھا کہ یمن کی جنگ میں ملوث کسی بھی فریق کو اسلحہ فروخت نہیں کیا جائے گا۔ تاہم یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔

سیاست

10۔ ویت نام

بھاری اسلحہ خریدنے والے ممالک کی فہرست میں ویت نام دسویں نمبر پر رہا۔ سپری کے مطابق اسلحے کی عالمی تجارت میں سے تین فیصد حصہ ویت نام کا رہا۔

سیاست

9۔ پاکستان

جنوبی ایشیائی ملک پاکستان نے جتنا بھاری اسلحہ خریدا وہ اسلحے کی کُل عالمی تجارت کا 3.2 فیصد بنتا ہے۔ پاکستان نے سب سے زیادہ اسلحہ چین سے خریدا۔

سیاست

8۔ عراق

امریکی اور اتحادیوں کے حملے کے بعد سے عراق بدستور عدم استحکام کا شکار ہے۔ عالمی برادری کے تعاون سے عراقی حکومت ملک میں اپنی عملداری قائم کرنے کی کوششوں میں ہے۔ سپری کے مطابق عراق بھاری اسلحہ خریدنے والے آٹھواں بڑا ملک ہے اور پاکستان کی طرح عراق کا بھی بھاری اسلحے کی خریداری میں حصہ 3.2 فیصد بنتا ہے۔

سیاست

7۔ آسٹریلیا

اس فہرست میں آسٹریلیا کا نمبر ساتواں رہا اور اس کے خریدے گئے بھاری ہتھیاروں کی شرح عالمی تجارت کا 3.3 فیصد رہی۔

سیاست

6۔ ترکی

بھاری اسلحہ خریدنے والے ممالک کی اس فہرست میں ترکی واحد ایسا ملک ہے جو نیٹو کا رکن بھی ہے۔ سپری کے مطابق ترکی نے بھی بھاری اسلحے کی کُل عالمی تجارت کا 3.3 فیصد حصہ درآمد کیا۔

سیاست

5۔ الجزائر

شمالی افریقی ملک الجزائر کا نمبر پانچواں رہا جس کے خریدے گئے بھاری ہتھیار مجموعی عالمی تجارت کا 3.7 فیصد بنتے ہیں۔ پاکستان کی طرح الجزائر نے بھی ان ہتھیاروں کی اکثریت چین سے درآمد کی۔

سیاست

4۔ چین

چین ایسا واحد ملک ہے جو اسلحے کی درآمد اور برآمد کے ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہے۔ چین اسلحہ برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے لیکن بھاری اسلحہ خریدنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک بھی ہے۔ کُل عالمی تجارت میں سے ساڑھے چار فیصد اسلحہ چین نے خریدا۔

سیاست

3۔ متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات بھی سعودی قیادت میں یمن کے خلاف جنگ میں شامل ہے۔ سپری کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران متحدہ عرب امارات نے بھاری اسلحے کی مجموعی عالمی تجارت میں سے 4.6 فیصد اسلحہ خریدا۔

سیاست

2۔ سعودی عرب

سعودی عرب دنیا بھر میں اسلحہ خریدنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ سپری کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سعودی عرب کی جانب سے خریدے گئے بھاری ہتھیاروں کی شرح 8.2 فیصد بنتی ہے۔

سیاست

1۔ بھارت

سب سے زیادہ بھاری ہتھیار بھارت نے درآمد کیے۔ سپری کی رپورٹ بھارت کی جانب سے خریدے گئے اسلحے کی شرح مجموعی عالمی تجارت کا تیرہ فیصد بنتی ہے۔

موضوعات