جرمنی: سیاسی پناہ کی ہر چھٹی درخواست میں غلطیاں

شکایات سود مند ثابت ہو سکتی ہیں: کیونکہ عدالت نے سیاسی پناہ کی متعدد درخواستوں میں موجود غلطیوں کو درست کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہجرت و تارکین وطن کے ملکی ادارے( بی اے ایم ایف) سے متعدد معاملات میں کوتاہیاں ہوئی ہیں۔

جرمن اخبار زوڈ ڈوئچے سائٹنگ کے مطابق جرمنی میں سیاسی پناہ کی سترہ فیصد درخواستوں میں غلطیاں موجود ہیں۔ اسی وجہ سے ہجرت و تارکین کے ملکی ادارے( بی اے ایم ایف) کی جانب سے سیاسی پناہ کے فیصلوں کی عدالت کی جانب سے تصیح کی گئی ہے۔

اخبار نے یہ رپورٹ ان اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی ہے، جو وفاقی حکومت بائیں بازو کے دھڑوں کی درخواست پر باقاعدگی سے  فراہم کرتی ہے۔

ججوں کی جانب سے جانچ پڑتال کے بعد کم از کم ایک تہائی یعنی تینتیس فیصد سیاسی پناہ کے ایسے فیصلوں کی درستگی کی گئی، جو پناہ گزینوں کے حق میں کیے گئے تھے۔ اس میں افغانستان کے شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بہت سے معاملات میں بی اے ایم ایف کی جانب سے پناہ گزینوں کو یاتو بالکل ہی نہیں یا  پھر بہت کمزور تحفظ دیا گیا۔

پاکستانی تارک وطن، اکبر علی کی کہانی تصویروں کی زبانی

ایران کا ویزہ لیکن منزل ترکی

علی نے پاکستان سے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے ایران کا ویزہ لیا۔ ایران سے انسانوں کے اسمگلروں نے اسے سنگلاخ پہاڑوں کے ایک طویل پیدل راستے کے ذریعے ترکی پہچا دیا۔ تین مہینے ترکی کے مختلف شہروں میں گزارنے کے بعد علی نے یونان کے سفر کا ارادہ کیا اور اسی غرض سے وہ ترکی کے ساحلی شہر بودرم پہنچ گیا۔

پاکستانی تارک وطن، اکبر علی کی کہانی تصویروں کی زبانی

میدانوں کا باسی اور سمندر کا سفر

بحیرہ ایجیئن کا خطرناک سمندری سفر سینکڑوں تارکین وطن کو نگل چکا ہے۔ یہ بات علی کو بھی معلوم تھی۔ پنجاب کے میدانی علاقے میں زندگی گزارنے والے علی نے کبھی سمندری لہروں کا سامنا نہیں کیا تھا۔ علی نے اپنے دل سے سمندر کا خوف ختم کرنے کے لیے پہلے سیاحوں کے ساتھ سمندر کی سیر کی۔ پھر درجنوں تارکین وطن کے ہمراہ ایک چھوٹی کشتی کے ذریعے یونانی جزیرے لیسبوس کے سفر پر روانہ ہو گیا۔

پاکستانی تارک وطن، اکبر علی کی کہانی تصویروں کی زبانی

دیکھتا جاتا ہوں میں اور بھولتا جاتا ہوں میں

سمندر کی خونخوار موجوں سے بچ کر جب علی یونان پہنچا تو اسے ایک اور سمندر کا سامنا تھا۔ موسم گرما میں یونان سے مغربی یورپ کی جانب رواں مہاجرین کا سمندر۔ علی کو یہ سفر بسوں اور ٹرینوں کے علاوہ پیدل بھی طے کرنا تھا۔ یونان سے مقدونیا اور پھر وہاں سے سربیا تک پہنچتے پہنچتے علی کے اعصاب شل ہو چکے تھے۔ لیکن منزل ابھی بھی بہت دور تھی۔

پاکستانی تارک وطن، اکبر علی کی کہانی تصویروں کی زبانی

کھنچی ہے جیل کی صورت ہر ایک سمت فصیل

ہزاروں مہاجرین کی روزانہ آمد کے باعث یورپ میں ایک بحرانی کیفیت پیدا ہو چکی تھی۔ علی جب سربیا سے ہنگری کے سفر پر نکلا تو ہنگری خاردار تاریں لگا کر اپنی سرحد بند کر چکا تھا۔ وہ کئی دنوں تک سرحد کے ساتھ ساتھ چلتے ہنگری میں داخل ہونے کا راستہ تلاشتے رہے لیکن ہزاروں دیگر تارکین وطن کی طرح علی کو بھی سفر جاری رکھنا ناممکن لگ رہا تھا۔

پاکستانی تارک وطن، اکبر علی کی کہانی تصویروں کی زبانی

متبادل راستہ: ہنگری براستہ کروشیا

کروشیا اور ہنگری کے مابین سرحد ابھی بند نہیں ہوئی تھی۔ علی دیگر مہاجرین کے ہمراہ بس کے ذریعے سربیا سے کروشیا کے سفر پر روانہ ہو گیا، جہاں سے وہ لوگ ہنگری میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ہنگری سے بذریعہ ٹرین علی آسٹریا پہنچا، جہاں کچھ دن رکنے کے بعد وہ اپنی آخری منزل جرمنی کی جانب روانہ ہو گیا۔

پاکستانی تارک وطن، اکبر علی کی کہانی تصویروں کی زبانی

جرمنی آمد اور بطور پناہ گزین رجسٹریشن

اکبر علی جب جرمنی کی حدود میں داخل ہوا تو اسے پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کے مرکز لے جایا گیا۔ علی نے جرمنی میں پناہ کی باقاعدہ درخواست دی، جس کے بعد اسے جرمنی کے شہر بون میں قائم ایک شیلٹر ہاؤس پہنچا دیا گیا۔ علی کو اب اپنی درخواست پر فیصلہ آنے تک یہاں رہنا ہے۔ اس دوران جرمن حکومت اسے رہائش کے علاوہ ماہانہ خرچہ بھی دیتی ہے۔ لیکن علی کا کہنا ہے کہ سارا دن فارغ بیٹھنا بہت مشکل کام ہے۔

پاکستانی تارک وطن، اکبر علی کی کہانی تصویروں کی زبانی

تنہائی، فراغت اور بیوی بچوں کی یاد

علی جرمن زبان سے نابلد ہے۔ کیمپ میں کئی ممالک سے آئے ہوئے مہاجرین رہ رہے ہیں۔ لیکن علی ان کی زبان بھی نہیں جانتا۔ اسے اپنے بچوں اور بیوی سے بچھڑے ہوئے سات ماہ گزر چکے ہیں۔ اپنے خاندان کا واحد کفیل ہونے کے ناطے اسے ان کی فکر لاحق رہتی ہے۔ اس کا کہنا ہے، ’’غریب مزدور آدمی ہوں، جان بچا کر بھاگ تو آیا ہوں، اب پچھتاتا بھی ہوں، بیوی بچوں کے بغیر کیا زندگی ہے؟ لیکن انہی کی خاطر تو سب کچھ کر رہا ہوں۔‘‘

بائیں بازو کی جماعت ڈی لنکے کی داخلہ امور کی ترجمان اولا یلپکے نے کہا کہ غلطیوں کی یہ شرح اس وفاقی ادارے کی کوئی شاندار کارکردگی نہیں ہے، خاص طور پر پناہ گزینوں کے حقوق کے تناظر میں، ’’وفاقی حکومت کے مطابق جنوری سے ستمبر 2018ء کے دوران ایسے تقریباً 28 ہزار پناہ گزینوں کو تحفظ دیا گیا، جن کی بی اے ایم ایف کی جانب سے ابتدائی طور پر درخواستیں مسترد کی جا چکی تھیں۔‘‘ ان میں تقریباً دس ہزار شامی جبکہ نو ہزار افغان شہریوں کی درخواستیں تھیں۔ اطلاعات کے مطابق انتظامی عدالتوں میں سیاسی پناہ کے حصول کے مقدموں کی تعداد میں بھی معمولی سی کمی آئی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:39
Now live
02:39 منٹ
ڈی ڈبلیو ویڈیو | 19.06.2018

کیا جرمنی آنا درست فیصلہ تھا؟

موضوعات