1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی کی اسلامائزیشن کا کوئی خطرہ نہیں، جرمن کلیسائی رہنما

مقبول ملک5 اکتوبر 2015

جرمنی میں پروٹسٹنٹ کلیسا کی قومی کونسل کے سربراہ نے کہا ہے کہ مہاجرین کے بحران کی وجہ سے جرمنی کی اسلامائزیشن کا کوئی خطرہ نہیں اور لاکھوں نئے تارکین وطن کی آمد سے ملک کے مذہبی منظر نامے میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں۔

https://p.dw.com/p/1Gioo
تصویر: picture-alliance/Frank Rumpenhorst

جنوبی جرمن شہر میونخ سے پیر پانچ اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی کے این اے کی رپورٹوں کے مطابق جرمن پروٹسٹنٹ چرچ کونسل کے سربراہ ہائنرش بیڈفورڈ شٹروہم نے آج شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا، ’’جرمنی میں اس وقت مسیحی باشندوں کی تعداد 50 ملین کے قریب ہے اور اس کے مقابلے میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی صرف تین سے چار ملین تک ہے۔‘‘

ہائنرش بیڈفورڈ شٹروہم نے جرمن بشپس کانفرنس کے سربراہ، کارڈینل رائن ہارڈ مارکس کے ساتھ مل کر اخبار زُوڈ ڈوئچے سائٹُنگ کو مشترکہ طور پر دیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا کہ بہت سے ’نئے مہاجرین، جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، کی آمد کے بعد جرمنی میں مسلمانوں کی تعداد شاید چار ملین سے بڑھ کر پانچ ملین ہو جائے گی‘۔

جرمن پروٹسٹنٹ چرچ کونسل کے سربراہ نے مزید کہا، ’’ان حالات میں مستقبل قریب میں جرمن کی اسلامائزیشن کے ممکنہ خطرات کا اظہار ایسے خدشات ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

میونخ سے چھپنے ہونے والے اخبار ’زُوڈ ڈوئچے ساٹُنگ‘ میں آج شائع ہونے والے اس مشترکہ انٹرویو میں جرمن بشپس کونسل کے سربراہ کارڈینل رائن ہارڈ مارکس نے کہا کہ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیساؤں کو لازمی طور پر اپنی شناخت کا اظہار بہتر طور پر کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا، ’’ہم مسیحیوں کو بہرصورت دوبارہ یہ بات سیکھنا ہو گی کہ اپنے عقیدے کے بارے میں کھل کر بات کر سکیں۔ ہمیں دوبارہ اپنے عقیدے کی اہمیت کا احساس ہونا چاہیے۔ صرف اسی صورت میں ہم بہتر طور پر دوسرے مذاہب کے ساتھ تعمیری رابطوں اور تبادلہ خیال کو یقینی بنا سکتے ہیں۔‘‘

Pro Deutschland Demonstrationen in Berlin
گزشتہ چند ماہ کے دوران انتہائی دائیں بازو کے مظاہرین کی طرف سے جرمن معاشرے کی مبینہ ’اسلامائزیشن‘ کے خلاف کئی مرتبہ احتجاجی مظاہرے بھی کیے جا چکے ہیںتصویر: dapd

اپنے اس انٹرویو میں جرمن کلیساؤں کے ان دونوں اہم ترین نمائندوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں کسی بات پر تشویش ہے تو وہ جرمن معاشرے میں جزوی طور پر پائی جانے والی اجانب دشمنی اور غیر ملکیوں سے نفرت کی سوچ ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اجانب دشمنی یا غیر ملکیوں کے خلاف نفرت کے جذبات ہمیشہ اسی وقت زیادہ ہوتے ہیں، جب انسانوں کے مختلف (نسلی اور مذہبی) گروپوں کے مابین رابطے کم ہو جاتے ہیں۔

ہائنرش بریڈفورڈ شٹروہم اور کارڈینل رائن ہارڈ مارکس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی میں بہت بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد کے تناظر میں اس بات کی ضرورت پہلے کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ ہے کہ مختلف نسلی اور مذہبی گروپوں کے لوگ آپس کے رابطوں کو بڑھاتے ہوئے ایک دوسرے کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں