1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمن صدر کوہلر کی اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب سے ملاقات

8 فروری 2010

جنوبی کوریا کے دورے پر گئے ہوئے جرمن صدر ہورسٹ کوہلر نے پیر کو اپنےجنوبی کوریائی ہم منصب لی مِیُونگ بک کے ساتھ مذاکرات کے بعد کہا کہ عالمی مالیاتی منڈیوں کی بہتر نگرانی کے لئے برلن اور سیئول کا نقطہ نظر ایک ہے۔

https://p.dw.com/p/LvoX
جرمن صدر ہورسٹ کوہلر اور ان کی اہلیہ ایفا کوہلرتصویر: AP

وفاقی جرمن صدر ہورسٹ کوہلر نے آج پیر کے روز اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب لی مِیُونگ بک کے ساتھ ملاقات کے بعد یہ بھی کہا کہ مالیاتی منڈیوں کی بہتر نگرانی کے لئے واضح ضابطے تشکیل دئے جانا چاہییں۔

سیئول میں اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب کے ساتھ مذاکرات کے بعد جرمن سربراہ مملکت ہورسٹ کوہلر نے پیر کے روز کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو ایسے ضوابط کی ضرورت ہے، جن کے ذریعے مالی ادائیگیوں سے متعلق موجودہ نظام مزید بہتر اور شفاف بنایا جا سکے۔

Horst Köhler und Manmohan Singh
جنوبی کوریا سے قبل جرمن صدر کوہلر بھارت کے دورے پر تھے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم من موہن سنگھ اور صدر پرتیبھا پاٹل کے ساتھ ملاقاتیں کیںتصویر: UNI

ہورسٹ کوہلر نے کہا کہ عالمی مالیاتی اور اقتصادی نظام میں اصلاحات سے متعلق جرمنی اور جنوبی کوریا کی سوچ ایک دوسرے سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ جرمن صدر نے لی مِیُونگ بک کے ساتھ اپنی بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی کوریائی صدر کے ساتھ مذاکرات میں انہوں نے کئی مختلف موضوعات پر کھل کر بات چیت کی۔ ان موضوعات میں تجارتی تعلقات، بیس کے گروپ کی اگلی سربراہی کانفرنس اور مستقبل میں دونوں کوریائی ریاستوں کا دوبارہ اتحاد بھی شامل تھے۔

ہورسٹ کوہلر کے بقول صدر لی کے ساتھ ان کی گفتگو میں یہ بات بھی کھل کر زیر بحث آئی کہ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاری کرنے والے اداروں کے بینکار اگر بڑی غلطیاں کرتے ہیں، تو ان کی قیمت عام ٹیکس دہندگان کو ادا نہیں کرنا چاہیے۔ سیئول میں اپنے باضابطہ مذاکرات کے دوران جرمن صدر نے اس ممکنہ آزاد تجارتی معاہدے کی بھی حمایت کی، جس کے آپس میں طے پا جانے کی جنوبی کوریا اور یورپی یونین مشترکہ طور پر کوششیں کر رہے ہیں۔ سیئول اور برسلز کے مابین اس معاہدے سے متعلق بات چیت ابھی تک جاری ہے، اور توقع ہے کہ یہ معاہدہ اسی سال مئی تک طے پا جائے گا۔

جنوبی کوریائی صدر لی مِیُونگ بک نے ہورسٹ کوہلر کے ساتھ اپنی ملاقات میں سیئول کی اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ جرمنی یورپ میں جنوبی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ملک ہے، اور جنوبی کوریا چاہتا ہے کہ جرمنی کے ساتھ اس کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید ترقی دی جائے۔

اس موقع پر جنوبی کوریائی صدر نے جرمن سربراہ مملکت سے اسی سال موسم خزاں میں ہونے والی بیس کے گروپ کی اس سربراہی کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے حوالے سے مدد کی درخواست بھی کی، جو گیارہ اور بارہ نومبر کو سیئول میں ہو گی اور جس کی میزبانی کے علاوہ صدارت بھی جنوبی کوریا ہی کرے گا۔

جرمنی اور کوریا کے بارے میں ایک اور قدر مشرک یہ بھی ہے کہ آج کی دونوں کوریائی ریاستوں کی طرح ماضی میں جرمنی بھی ایک منقسم ریاست تھا۔ مشرقی اور مغربی حصوں پر مشتمل دو مختلف ریاستیں، جو قریب دو عشرے قبل دوبارہ متحد ہو گئی تھیں۔ اس کے برعکس شمالی اور جنوبی کوریا ابھی بھی نہ صرف دو مختلف ریاستیں ہیں، بلکہ ایک دوسرے کی حریف بھی۔ تاہم ان کے دوبارہ اتحاد کی کوششیں بھی اب تک جاری ہیں۔ اس حوالے سے اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ ملاقات میں جنوبی کوریائی صدر نے کہا کہ دوبارہ اتحاد جرمنی کا ایک ایسا تجربہ ہے، جو مستقبل میں دونوں کوریاؤں کے دوبارہ اتحاد کے عمل میں بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: گوہر نذیر گیلانی