1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمن قوم پرست میرکل کے سیاسی گڑھ میں کامیابی کی کوشش میں

افسر اعوان3 ستمبر 2016

انگیلا میرکل کے گزشتہ برس کے فیصلے کے بعد مہاجرین کے لیے جرمنی کی سرحدیں کھُل گئی تھیں۔ تاہم بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد کا مسئلہ جرمنی کی شمال مشرقی ریاست میں ہونے والے انتخابات میں میرکل کے لیے مسائل کھڑے کر سکتا ہے۔

https://p.dw.com/p/1JvKa
تصویر: picture-alliance/dpa/S. Sauer

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق معاشی اعتبار سے نسبتاﹰ کمزور جرمنی کے شمال مشرقی حصے میں مہاجرین مخالف جماعت ’آلٹر نیٹیو فار ڈوئچ لینڈ‘ (AfD) یا ’جرمنی کے لیے متبادل‘ اتوار چار ستمبر کو ہونے والے ریاستی انتخابات میں کامیابیاں حاصل کر سکتی ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق محض تین برس قبل وجود میں آنے والی جماعت AfD اتوار کے روز میکلن بُرگ ویسٹرن پومیرینیا میں ہونے والے ریاستی انتخابات میں 20 فیصد تک ووٹ حاصل کر سکتی ہے۔ جرمنی کا یہ ساحلی علاقہ چانسلر انگیلا میرکل کا پارلیمانی حلقہ بھی ہے۔

اگر AfD وہاں 20 فیصد تک ووٹ حاصل کر لیتی ہے تو وہ میرکل کی کنزرویٹیو جماعت کو پیچھے چھوڑ کر دوسری سب سے بڑی پارٹی بن سکتی ہے۔ بلکہ اس حد تک خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ریاستی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بھی بن سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ چانسلر میرکل کے لیے ایک مشکل صورتحال ہو گی، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب قومی انتخابات آئندہ برس منعقد ہونا ہیں۔

چانسلر میرکل کے مہاجرین دوست فیصلوں اور پالیسیوں کے بعد گزشتہ برس جرمنی میں 10 لاکھ سے زائد مہاجرین پہنچے تھے۔ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد میں جرمنی آمد سے پیدا ہونے والے مسائل اور ان سے وابستہ بعض واقعات کے بعد جرمن معاشرے میں تقسیم دیکھی جا رہی ہے۔ اسی باعث چانسلر انگیلا میرکل کی عوامی مقبولیت میں بھی کسی حد کمی واقع ہوئی۔

ریاست میکلن بُرگ ویسٹرن پومیرینیا‘ پر گزشتہ ایک دہائی سے وہی جماعتیں حکومت کر رہی ہیں جن کی حکومت مرکز میں بھی قائم ہے۔ اعتدال پسند بائیں بازو کی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی علاقائی حکومت کی سربراہ ہے جبکہ میرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کی جونیئر پارٹنر ہے۔

مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد میں جرمنی آمد سے پیدا ہونے والے مسائل اور ان سے وابستہ بعض واقعات کے بعد جرمن معاشرے میں تقسیم دیکھی جا رہی ہے
مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد میں جرمنی آمد سے پیدا ہونے والے مسائل اور ان سے وابستہ بعض واقعات کے بعد جرمن معاشرے میں تقسیم دیکھی جا رہی ہے

میکلن بُرگ کے انتخابات ایسے وقت پر ہو رہے ہیں جب جرمن سیاست دان اپنی توجہ ستمبر 2017ء کے قومی انتخابات پر مرکوز کر رہے ہیں۔ اس سے قبل پانچ ریاستوں میں انتخابات ہونا ہیں اور میکلن برُگ ان میں سے پہلی ریاست ہے۔ اس کے بعد برلن میں 18 ستمبر کو انتخابات شیڈول ہیں۔

میرکل کی طرف سے ابھی یہ اعلان ہونا باقی ہے کہ آیا وہ چوتھی مرتبہ چانسلر بننے کی خواہشمند ہوں گی یا نہیں تاہم امید یہی کی جا رہی ہے کہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کریں گی کیونکہ فی الحال ان کے کنزرویٹیو بلاک میں نہ تو کوئی ان کا متبادل موجود ہے اور نہ ہی مقابلے پر۔ میرکل 1990ء سے میکلن بُرگ ویسٹرن پومیرینیا سے قومی اسمبلی کی نشست پر مسلسل کامیاب ہوتی چلی آ رہی ہیں۔

میکلن برُگ ریاست میں جرمنی کی کُل 80 ملین کی آبادی میں سے محض 1.6 ملین شہری آباد ہیں۔ اس سے قبل جرمنی کی ایک اور مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ میں رواں برس مارچ میں ہونے والے انتخابات میں AfD نے 24.3 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ تاہم اس کے باوجود چانسلر انگیلا میرکل کی سربراہی میں قائم وفاقی حکومت کی طرف سے مہاجرین کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی گئی تھی۔