جنوبی جرمنی اور آسٹریا کو موسم سرما کے طوفانوں کا سامنا

گزشتہ ویک اینڈ پر آسٹریا میں موسم سرما کے طوفان کی لپیٹ میں آ کر کم ازکم آٹھ افراد کی موت واقع ہوئی تھی۔ اسی طوفان کی لپیٹ میں آ کر ایک سات سالہ بچہ جرمن شہر میونخ کے قریب بھی ہلاک ہو گيا تھا۔

جنوبی جرمنی ميں اس بار گزشتہ بیس برسوں کی شدید ترین برف باری ہوئی ہے۔ اس برفباری کی وجہ سے پہاڑیوں کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں پر بھی برف کی سفید چادر تن گئی تھی۔ یہی صورت حال آسٹریا میں دیکھی گئی۔ اسی طرح شدید برف باری سے چیک جمہوریہ کے بعض علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ٹریفک اور ریل کا نظام شدید متاثر ہوا۔ سڑکوں کے بند ہونے کی بڑی وجہ برفانی طوفان سے درختوں کا گرنا تھا۔

بدھ نو جنوری کی رات بھی ایک اور طوفانی رات تھی اور جرمنی کے مشرقی حصے میں شاہرائیں اور رابطے کی سڑکیں برف اور گرے ہوئے درختوں کی وجہ سے بند ہو کر رہ گئیں۔ بے شمار گاڑیاں سڑکوں پر گرے درختوں کی وجہ سے مختلف مقامات پر محدود ہو کر رہ گئیں۔ پولیس کے مطابق موٹر وے پر کئی ٹرکوں کے پھسلنے کی وجہ سے پینتیس کلومیٹر لمبا ٹریفک جام ہوا۔ اُدھر آسٹریا کے علاقے بیرشٹس گارٹن کے قریب کوہِ الپس پر دو میٹر برف گر چکی ہے۔ اس علاقے میں ایک آفت کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

جنوبی جرمنی اور آسٹریا میں مزید برفباری کا امکان ہے

اسی شہر کے میئر کے مطابق برف کو ہٹانے پر ہزاروں یورو خرچ کرنے پڑیں گے۔ جمعرات دس جنوری کو لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح پہاڑی علاقے بوشنہوہے کے سیاحتی مقام میں پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے جرمن فوج خوراک لے کر پہنچی۔

آسٹریا میں امدادی تنظیموں نے کم ازکم نو سیاحوں کو برف میں سے بچایا ہے۔ اگر یہ امداد بروقت نہ پہنچتی تو جانی نقصانوں کا ضیاع ممکن تھا۔ کوہ الپس کی مختلف ڈھلوانوں پر قائم سیاحتی مقامات پوری طرح کٹ کر رہ گئے ہیں۔ ان علاقوں میں برفانی تودوں کے خطرات کا بھی امکان ہے اور عام انسانوں کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا گیا ہے۔

بدھ اور جمعرات کے روز کی طوفانی رات نے پہلے سے برف باری سے پیدا سنگین صورت حال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ تازہ برفباری سے کئی علاقوں میں بجلی کی سپلائی بھی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ حکام کے مطابق ساڑھے چار ہزار سے زائد مکانات بجلی کی سپلائی کے بغیر ہیں اور اس کی بحالی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب محکمہٴ موسمیات نے کہا ہے کہ بارہ جنوری کو آسٹریا اور جنوبی جرمنی کے علاقوں میں مزید برف باری کا قوی امکان ہے۔

جرمنی کے شمال اور آسٹریا میں شدید برف باری

جان لیوا موسم

یورپ کے کئی حصوں میں برفانی طوفان نے تباہی مچائی ہے جس کی وجہ سے جرمنی، آسٹریا اور ناروے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ حکام نے اسکیئنگ کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ڈھلانوں پر ایوالانچ یا برفشاری سے محتاط رہیں۔ بظاہر پرسکون صورتحال کے باوجود ماہرین موسمیات نے اس سے بھی بدترین صورتحال سے خبردار کیا ہے۔

جرمنی کے شمال اور آسٹریا میں شدید برف باری

برف سے ڈھکی گاڑیاں

جرمن صوبہ باویریا کے ایک شہر شونگاؤ میں یہ گاڑیاں ایک کار ڈیلر کی ہیں جو برف سے مکمل طور پر ڈھک چکی ہیں۔ جرمنی کے محکمہ موسمیات نے وارننگ جاری کی ہے کہ لوگوں کو برف کے تودے گرنے اور برفباری کے سبب ہونے والے دیگر نقصانات سے خبردار رہنا چاہیے جیسے درختوں کی شاخیں وغیرہ گِرنا۔

جرمنی کے شمال اور آسٹریا میں شدید برف باری

ٹریفک کی طویل قطاریں

درخت گرنے کے سبب جرمن صوبہ باویریا کے ایک گاؤن زیگس ڈورف کی ایک شاہراہ پر ٹریفک کو دوسری جانب موڑنا پڑا۔ یہ شہر آسٹریا کی سرحد سے محض 19 کلومیٹر دور واقع ہے۔ میونخ کے قریب ٹریفک کی قریب 15 کلومیٹر طویل قطار لگ گئی کیونکہ فائر فائٹرز اور دیگر کارکن سڑکوں پر گرے درخت صاف کر رہے تھے۔

جرمنی کے شمال اور آسٹریا میں شدید برف باری

شاہراہوں کی بندش

آسٹریا کے مرکزی حصے کی ایک سڑک کو گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں دونوں کے لیے بند کرنا پڑا جس کی وجہ برفانی تودے گرنے کا خدشہ تھا۔ حکام نے آسٹریا کے شمالی حصے میں کئی ایک سڑکوں کو بند کر دیا جس کی وجہ سے اسکیئنگ کے لیے ان علاقوں میں موجود ہزاروں افراد وہاں پھنس کر رہ گئے۔

جرمنی کے شمال اور آسٹریا میں شدید برف باری

برف کا دن

جرمنی کے ایک جنوبی شہر لینگن وانگ میں بچوں نے بھڑکیلے رنگوں کے کاسٹیوم زیب تن کیے ہفتہ پانچ جنوری کو برف سے ڈھکی گلیوں میں مارچ کیا۔ پیر کے دن برفباری کے سبب کئی ایک اسکولوں نے اپنی کلاسیں معطل کر دیں۔

جرمنی کے شمال اور آسٹریا میں شدید برف باری

عارضی مہلت

اتوار کے روز میونخ کے قریب واقع اس گھر کا مالک راستے سے برف ہٹانے کے لیے اسنوبلوور کا استعمال کر رہا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق آئندہ چند دنوں میں مزید برفباری کا امکان ہے۔

موضوعات