جنوبی کوریا میں امریکی فوجی: سیئول اس سال ایک ارب ڈالر دے گا

جنوبی کوریا اپنے ہاں ساڑھے اٹھائیس ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر اٹھنے والے اخراجات میں اپنے حصے کے طور پر اس سال امریکا کو تقریباﹰ ایک ارب ڈالر ادا کرے گا۔ سیئول واشنگٹن کو ان اخراجات کا چالیس فیصد حصہ ادا کرتا ہے۔

جنوبی کوریائی دارالحکومت سیئول سے اتوار دس فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق امریکا نے جزیرہ نما کوریا پر شمالی اور جنوبی کوریا کے مابین عشروں سے جاری کشیدگی کے باعث اپنے کُل 28,500 فوجی جنوبی کوریا میں تعینات کر رکھے ہیں، جن پر سالانہ اربوں ڈالر کا فوجی بجٹ خرچ کیا جاتا ہے۔

شمالی کوریائی رہنما کم جونگ ان اور امریکی صدر ٹرمپ کی دوسری ملاقات اسی مہینے ویت نام میں ہو گی

ان فوجیوں کی وہاں موجودگی کا سارا خرچ امریکا اکیلا برداشت نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے سیئول حکومت واشنگٹن کو باقاعدہ ادائیگی کرتی ہے، جس کے لیے ایک باضابطہ دوطرفہ معاہدہ بھی موجود ہے۔

جنوبی کوریائی حکومت نے 2018ء میں ان امریکی فوجی اخراجات میں اپنے حصے کے طور پر واشنگٹن کو 830 ملین ڈالر ادا کیے تھے۔ تاہم اس بارے میں ان دونوں عسکری حلیف ممالک میں کچھ عرصے سے اختلاف رائے بھی پایا جاتا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے امریکا کا یہ مطالبہ تھا کہ سیئول کو اس مد میں امریکا کو زیادہ رقوم ادا کرنا چاہییں۔

آج اتوار کے روز جنوبی کوریا اور امریکا کے مابین سیئول میں ایک ایسا اتفاق رائے ہو گیا، جس کے تحت جنوبی کوریائی حکومت اپنے ملک کی سرزمین پر امریکی فوجیوں کی موجودگی کے سلسلے میں واشنگٹن کو آئندہ زیادہ رقوم ادا کیا کرے گی۔ سال رواں کے لیے ان رقوم کی مالیت 10.4 کھرب وون (جنوبی کوریائی کرنسی) ہو گی، جو 924 ملین امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔

دونوں کوریاؤں کے مابین غیر فوجی علاقے کی سرحد پر کھڑے جنوبی کوریائی اور امریکی فوجی

اس اتفاق رائے کے طے پا جانے کے موقع پر سیئول میں دونوں ممالک کی طرف سے کہا گہا کہ جزیرہ نما کوریا پر بدلتی ہوئے صورت حال میں جنوبی کوریا میں امریکی عسکری موجودگی کو مستحکم رکھا جائے گا۔ اس موقع پر سیئول میں ملکی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکا نے جنوبی کوریا کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ واشنگٹن جزیرہ نما کوریا پر سلامتی کے حوالے سے خود پر عائد ہونے والی ذمے داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور جنوبی کوریا میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کسی کمی کا بھی فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‍

جب اِن کی اُن سے ملاقات ہوئی

پہلا قدم

کم جونگ اُن پہلے شمالی کوریائی رہنما ہیں، جنہوں نے کوریائی جنگ میں فائر بندی کے 65 برس بعد جنوبی کوریا کی سرزمین پر قدم رکھا۔ کم نے کہا کہ جنوبی کوریا داخل ہوتے ہی وہ ’جذبات کی ایک بڑی لہر میں بہہ نکلے‘۔ جنوبی کوریائی صدر مون جے اِن سرحد پر کم جونگ اُن کا استقبال کرنے کو موجود تھے۔ ان دونوں رہنماؤں کی سمٹ کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔

جب اِن کی اُن سے ملاقات ہوئی

نئے تعلقات کے آغاز کا عہد

کیمونسٹ رہنما کم جون اُن نے کہا کہ وہ ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی ایک نئی تاریخ رقم کرنا چاہتے ہیں۔ سن انیس سو ترپن میں کوریائی جنگ کے خاتمے کے بعد سے پہلی مرتبہ کسی شمالی کوریائی رہنما نے جنوبی کوریا کا دورہ کیا ہے۔ جب کم جونگ اُن نے جنوبی کوریا کی سرحد عبور کی تو جنوبی کوریائی صدر مون جے اِن نے ان کا استقبال کیا۔

جب اِن کی اُن سے ملاقات ہوئی

تاریخی مصافحہ

جنوبی کوریا داخل ہونے پر اُن نے اِن سے ہاتھ ملایا۔ اس موقع پر کم نے کہا کہ یہ مصافحہ خطے میں قیام امن کی طرف ’افتتاحی قدم‘ ہے۔ کم جونگ اُن کی طرف سے جوہری اور میزائل پروگرام منجمد کرنے کے اعلان کے بعد جزیرہ نما کوریا پر کشیدگی کا خاتمہ ہوتا ممکن نظر آ رہا ہے۔ چین اور امریکا نے بھی دونوں کوریائی ممالک کے رہنماؤں کے مابین اس براہ راست ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

جب اِن کی اُن سے ملاقات ہوئی

شمالی کوریائی وفد

جنوبی کوریا کا دورہ کرنے والے شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ ان کی ہمشیرہ اور قریبی مشیر کم یو جونگ کے علاوہ کمیونسٹ کوریا کے بین الکوریائی تعلقات کے شعبے کے سربراہ بھی تھے۔ اسی طرح جنوبی کوریائی صدر کے ہمراہ ان کے ملک کے انٹیلیجنس سربراہ اور چیف آف سٹاف بھی تھے۔

جب اِن کی اُن سے ملاقات ہوئی

’ہم ایک قوم ہیں‘

شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اُن نے جنوبی کوریائی صدر مون جے اِن کے ساتھ سمٹ میں کہا، ’’اس میں کوئی منطق نہیں کہ ہم آپس میں لڑیں۔ ہم تو ایک ہی قوم ہیں۔ چند ماہ قبل کم جونگ اُن کی طرف سے ایسے کلمات سننے کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی تھی۔ جنوبی کوریا میں کئی حلقے اس سمٹ پر محتاط انداز سے ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے میں کئی رکاوٹیں حائل ہو سکتی ہیں۔

جب اِن کی اُن سے ملاقات ہوئی

ایٹمی ہتھیاروں کا معاملہ

اس سمٹ کے پہلے دور میں دونوں لیڈروں نے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے علاوہ قیام امن کے امکانات پر بھی بات چیت کی۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق جنوبی کوریائی صدر مُون جے اِن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے جزیرہ نما کوریا کو غیر ایٹمی خطہ بنانے کے موضوع پر انتہائی سنجیدگی اور ایمانداری سے تبادلہ خیال کیا۔

جب اِن کی اُن سے ملاقات ہوئی

عالمی برداری خوش

1953ء میں کوریائی جنگ میں فائر بندی کے بعد سے مجموعی طور پر یہ تیسرا موقع ہے کہ شمالی اور جنوبی کوریائی رہنماؤں کی آپس میں کوئی ملاقات ہوئی۔ جاپان، چین اور روس نے اس ملاقات کو خطے میں قیام امن کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

جب اِن کی اُن سے ملاقات ہوئی

مذاکرات جاری رہیں گے

اس سمٹ کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک تمام شعبوں میں مذاکراتی عمل جاری رکھیں گے اور اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ دونوں ممالک کے مابین طے پانے والے تمام بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور دونوں ریاستوں کے مابین سفری پابندیوں کو ختم کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔

جب اِن کی اُن سے ملاقات ہوئی

ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی، کم

شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ان کا ملک ماضی میں کی جانے والی غلطیوں کو نہیں دہرائے گا۔ اس سمٹ کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک بنانے کے لیے پیونگ یانگ حکومت مکمل تعاون کرے گی۔ طے پایا ہے کہ دونوں ممالک اس تناظر میں جامع مذاکرات کا عمل شروع کریں گے۔ تاہم اس بارے میں تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔

جب اِن کی اُن سے ملاقات ہوئی

مون جے اِن شمالی کوریا جائیں گے

اس سمٹ کے بعد جنوبی کوریائی صدر کے دفتر کی طرف سے بتایا گیا کہ صدر مون جے اِن شمالی کوریا کا دورہ کریں گے۔ ممکنہ طور پر وہ رواں برس موسم خزاں میں یہ دورہ کریں گے، جہاں وہ شمالی کوریائی رہنما کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ مون جے اِن کے اس آئندہ جوابی دورے کو بھی دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں بہتری کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

جب اِن کی اُن سے ملاقات ہوئی

مقامی آبادی خوش

کم جونگ اُن کی جنوبی کوریا آمد پر کوریائی باشندوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پہلی مرتبہ کم کو دیکھا اور براہ راست سنا۔ اس موقع پر کئی افراد نے خصوصی لباس بھی زیب تن کر رکھا تھا۔ دونوں سربراہان نے جنوبی کوریائی علاقے میں واقع سرحدی گاؤں پان مُون جوم میں قائم ’پیس ہاؤس‘ یا ’ایوان امن‘ میں ملاقات کی۔

آج طے پانے والے اتفاق رائے سے قبل سیئول اور و اشنگٹن کے مابین اس موضوع پر دس مذاکراتی دور ہوئے تھے جو سب بے نتیجہ ہی رہے تھے۔ دونوں ممالک کے مابین امریکا کے لیے جنوبی کوریائی ادائیگیوں کا جو سمجھوتہ اب طے پا گیا ہے، اس سے قبل ایسا گزشتہ معاہدہ 2014ء میں پانچ سال کے لیے طے پایا تھا، جس کی مدت 2018ء میں پوری ہو گئی تھی۔

ٹرمپ کا دوگنا رقوم کا مطالبہ

اس ڈیل سے قبل جنوبی کوریائی میڈیا نے بتایا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے سیئول حکومت سے پہلے تو یہ کہا تھا کہ وہ امریکا کو فوجی دستوں کی تعیناتی پر لاگت کی مد میں دو گنا رقوم ادا کرے۔ پھر واشنگٹن نے کافی زیادہ کمی کے بعد یہ مطالبہ کر دیا کہ سیئول اس مد میں واشنگٹن کو 11.3 کھرب وون یا ایک ارب امریکی ڈالر کے برابر سالانہ ادائیگیاں کرے۔ کافی طویل مذاکرات کے بعد اتفاق رائے اگلے پانچ برسوں کے لیے 924 ملین امریکی ڈالر سالانہ پر ہوا۔

ادائیگیوں کے خلاف مظاہرہ بھی

سیئول میں وزارت خارجہ کی عمارت کے باہر آج اتوار کے روز چند درجن امریکا مخالف جنوبی کوریائی مظاہرین نے احتجاج بھی کیا، جو یہ نعرے لگا رہے تھے کہ امریکا کو اس کے فوجیوں کی جنوبی کوریا میں موجودگی کی وجہ سے کوئی بھی رقوم ادا نہ کی جائیں۔ جنوبی کوریا نے اپنے ہاں امریکی فوجی موجودگی کی وجہ سے واشنگٹن کو مالی ادائیگیوں کا سلسلہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں شروع کیا تھا۔

ٹرمپ اور شمالی کوریائی رہنما کارٹونسٹوں کے ’پسندیدہ شکار‘

’میرا ایٹمی بٹن تم سے بھی بڑا ہے‘

بالکل بچوں کی طرح لڑتے ہوئے شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ ایٹمی ہتھیار چلانے والا بٹن ان کی میز پر لگا ہوا ہے۔ جواب میں ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے پاس بھی ایک ایٹمی بٹن ہے اور وہ تمہارے بٹن سے بڑا ہے‘۔

ٹرمپ اور شمالی کوریائی رہنما کارٹونسٹوں کے ’پسندیدہ شکار‘

ہیئر اسٹائل کی لڑائی

دونوں رہنماؤں کے ہیئر اسٹائل منفرد ہیں اور اگر ایک راکٹ پر سنہری اور دوسرے پر سیاہ بال لگائے جائیں تو کسی کو بھی یہ جاننے میں زیادہ دقت نہیں ہو گی کہ ان دونوں راکٹوں سے مراد کون سی شخصیات ہیں۔

ٹرمپ اور شمالی کوریائی رہنما کارٹونسٹوں کے ’پسندیدہ شکار‘

اگر ملاقات ہو

اگر دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہو تو سب سے پہلے یہ ایک دوسرے سے یہی پوچھیں گے، ’’تمہارا دماغ تو صحیح کام کر رہا ہے نا؟ تم پاگل تو نہیں ہو گئے ہو؟‘‘

ٹرمپ اور شمالی کوریائی رہنما کارٹونسٹوں کے ’پسندیدہ شکار‘

ماحول کو بدبودار بناتے ہوئے

اس کارٹونسٹ کی نظر میں یہ دونوں رہنما کسی اسکول کے ان لڑکوں جیسے ہیں، جو ماحول کو بدبودار کرنے کے لیے ایک دوسرے سے شرط لگا لیتے ہیں۔

ٹرمپ اور شمالی کوریائی رہنما کارٹونسٹوں کے ’پسندیدہ شکار‘

دو موٹے رہنما

سوئمنگ پول میں یہ دو موٹے رہنما شرط لگاتے ہیں کہ آؤ دیکھیں کہ پانی میں گرتے ہوئے کون زیادہ آواز پیدا کرتا ہے۔ انہیں کب پتہ چلے گا کہ سوئمنگ پول میں تو پانی ہی نہیں ہے؟

ٹرمپ اور شمالی کوریائی رہنما کارٹونسٹوں کے ’پسندیدہ شکار‘

گرینیڈ سے کم نہیں

یہ امریکی صدر کسی گرینیڈ سے کم نہیں ہیں، ’’خود کو بچانے کے لیے اب آپ کے پاس چند ہی سیکنڈ باقی بچے ہیں۔‘‘

ٹرمپ اور شمالی کوریائی رہنما کارٹونسٹوں کے ’پسندیدہ شکار‘

نجات کا راستہ

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جوہری فضلے کو عموماﹰ زمین میں ہی دفن کر دیا جاتا ہے لیکن اب اس زمین کو بچانے کے لیے یہ واحد طریقہ بچا ہے۔

امریکی فوجی موجودگی کی تاریخ

جزیرہ نما کوریا کو جاپان نے 1910 سے لے کر 1945 تک اپنی نوآبادی بنا رکھا تھا۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی شکست کے بعد امریکی فوجی وہاں جاپانی دستوں کو غیر مسلح کرنے گئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر 1949ء میں واپس امریکا چلے گئے تھے لیکن 1950 سے لے کر 1953 تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ کے دوران  یہی امریکی دستے صرف ایک سال بعد ہی بہت بڑی تعداد میں واپس بھیج دیے گئے تھے۔

کوریائی جنگ میں امریکی فوجی جنوبی کوریا کی طرف سے کمیونسٹ شمالی کوریا کے خلاف لڑتے رہے تھے۔ اس جنگ میں فائر بندی کے بعد سے تکنیکی طور پر دونوں کوریائی ریاستیں آج تک حالت جنگ میں ہیں۔ اس لیے کہ ان کے مابین ابھی تک کئی باقاعدہ امن معاہدہ طے نہیں پایا۔

موضوعات

م م / ع ت / اے پی

کوریائی جنگ کے ساٹھ برس

تین سالہ جنگ کا آغاز

شمالی کوریا کی فوجیں 25 جون 1950ء کو جنوبی کوریا میں داخل ہو گئی تھیں۔ جنگ شروع ہونے کے چند دنوں بعد ہی جنوبی کوریا کے تقریبًا تمام حصے پر کمیونسٹ کوریا کی فوجیں قابض ہو چکی تھیں۔ تین سال جاری رہنے والی اس جنگ میں تقریباً 4.5 ملین افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

کوریائی جنگ کے ساٹھ برس

جنگ سے پہلے کی تاریخ

جزیرہ نما کوریا 1910ء سے لے کر 1945ء تک جاپان کے قبضے میں رہا اور دوسری عالمی جنگ کے بعد سے منقسم چلا آ رہا ہے۔ شمال کا حصہ سوویت کنٹرول میں چلا گیا جب کہ جنوبی حصے پر امریکی دستے قابض ہو گئے۔ اگست 1948ء میں جنوبی حصے میں ری پبلک کوریا کے قیام کا اعلان کر دیا گیا جب کہ اس کے رد عمل میں جنرل کم ال سونگ نے نو ستمبر کو عوامی جمہوریہ کوریاکی بنیاد رکھ دی۔

کوریائی جنگ کے ساٹھ برس

اقوام متحدہ کا کردار

شمالی کوریا کی جانب سے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کے بعد امریکا اور اقوام متحدہ نے فوری طور پر جنوبی کوریا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ بیس ممالک کے چالیس ہزار فوجیوں کو جنوبی کوریا روانہ کیا گیا، ان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 36 ہزار تھی۔

کوریائی جنگ کے ساٹھ برس

آپریشن ’ Chromite‘

15ستمبر 1950ء کو امریکی جنرل ڈگلس مک کارتھر کی قیادت میں اتحادی دستے ساحلی علاقے ’ Incheon ‘ پہنچے اور اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد سیول دوبارہ سے جنوبی کوریا کے زیر قبضہ آ چکا تھا۔

کوریائی جنگ کے ساٹھ برس

ماؤ کے دستوں کی مدد

1950ء کے اکتوبر میں چین کی جانب سے اس تنازعے میں باقاعدہ مداخلت کی گئی۔پہلے چھوٹے چھوٹے گروپوں کی صورت میں اور بعد ازاں رضاکاروں کا ایک بہت بڑا دستہ شمالی کوریا کی مدد کو پہنچا۔پانچ دسمبر کو پیونگ یانگ اتحادی فوجوں سے آزاد کرا لیا گیا۔

کوریائی جنگ کے ساٹھ برس

جوابی کارروائی

جنوری 1951ء میں چین اور شمالی کوریا نے مل کر ایک بڑی پیش قدمی شروع کی۔ اس میں چار لاکھ چینی اور شمالی کوریا کے ایک لاکھ فوجی شامل تھے۔ اس دوران شمالی کوریا کو بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ امریکا نے چین پر جوہری بم سے حملہ کرنے کی تجویز کو بھی مسترد کر دیا۔

کوریائی جنگ کے ساٹھ برس

تھکاوٹ کا شکار

1951 ءکے آخر میں جنگ اسی مقام پر پہنچ چکی تھی، جہاں سے اس کی ابتدا ہوئی تھی یعنی فریقین جنگ سے پہلے والی پوزیشنوں میں اپنی اپنی سرحدوں میں موجود تھے۔ جولائی 1951ء میں فائر بندی مذاکرات شروع ہونے کے باوجود 1953ء کے موسم سرما تک دونوں وقفے وقفے سے ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہتے تھے۔

کوریائی جنگ کے ساٹھ برس

دو نظاموں کی جنگ

کوریائی جنگ کو سرد جنگ کے دوران مشرق اور مغرب کے درمیان پہلی پراکسی وار کہلاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے دستوں میں امریکی فوجیوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی جب کہ دوسری جانب شمالی کوریا کی پشت پناہی کے لیے چین اور روس کے لاکھوں سپاہی موجود تھے۔

کوریائی جنگ کے ساٹھ برس

بے پناہ تباہی

اس جنگ میں امریکی افواج نے ساڑھے چار لاکھ ٹن بارود استعمال کیا۔ بمباری کا یہ عالم تھا کہ1951ء کے اواخر میں امریکی پائلٹوں نے یہ شکایات کی تھیں کہ شمالی کوریا میں اب کوئی ایسی چیز نہیں بچی ہے، جسے وہ ہدف بنا سکیں۔ شمالی کوریا کے تقریباً تمام بڑے شہر ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔

کوریائی جنگ کے ساٹھ برس

لاکھوں افراد ہلاک

1953ء میں جب اتحادی دستوں کا انخلاء شروع ہوا تو اس وقت تک کئی لاکھ افراد موت کے منہ میں جا چکے تھے۔ اس دوران اندازہ لگایا جاتا ہے شمالی اور جنوبی کوریا کے ملا کر پانچ لاکھ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ چار لاکھ چینی فوجی اور اس جنگ کے دوران مرنے والے اتحادی فوجیوں کی تعداد چالیس ہزار بتائی جاتی ہے۔

کوریائی جنگ کے ساٹھ برس

جنگی قیدیوں کا تبادلہ

1953ء میں اپریل کے وسط اور مئی کے آغاز میں فریقین کے مابین قیدیوں کا پہلی مرتبہ تبادلہ ہوا اور اسی سال کے اختتام تک تبادلے کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی کوریا کے پچہتر ہزار اور تقریباً سات ہزار چینی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ دوسری جانب سے ساڑھے تیرہ ہزار قیدی رہا کیے گئے، جن میں تقریباً آٹھ ہزار جنوبی کوریا کے تھے۔

کوریائی جنگ کے ساٹھ برس

فائربندی سمجھوتہ

دس جولائی1951ء کو جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع ہوئے اور بالآخر دو سال بعد 27 جولائی کو معاملات طے پا گئے۔ تاہم اس سمجھوتے پر دستخط نہیں نہ ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک ابھی تک حالت جنگ میں ہیں۔

کوریائی جنگ کے ساٹھ برس

ساٹھ سال بعد بھی دشمن

اس جنگ کو ختم ہوئے ساٹھ برس گزر چکے ہیں لیکن ابھی بھی یہ دونوں ممالک کشیدگی کی حالت میں ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیانی سرحد کی نگرانی انتہائی سخت ہے۔ ابھی بھی سرحد کے اطراف دونوں ملکوں کے سپاہی چوکنا کھڑے ہوتے ہیں۔