جنگ زدہ علاقوں میں روزانہ تین سو بچے مرتے ہیں، سیو دی چلڈرن

بچوں کے حقوق کی بین الاقوامی تنظیم نے کہا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں روزانہ تین سو بچوں کی موت واقع ہو رہی ہے۔ اس تنظیم نے اس صورت حال کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔

بچوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن نے سن 2017 کے اعداد و شمار کی روشنی میں جنگ زدہ اور مسلح تنازعات کے حامل علاقوں میں ہونے والی بچوں کی اموات پر خصوصی رپورٹ جاری کی ہے۔ ان علاقوں میں تقریباً چار سو بیس ملین بچے بستے ہیں اور رپورٹ کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک بچے کی موت روزانہ کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں تاسف کے ساتھ بیان کیا گیا کہ اکیسویں صدی میں حالات کی بہتری کا پہیہ بظاہر آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی جانب گھوم رہا ہے اور اس باعث اخلاقی معیارات میں گراوٹ بڑھتی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ بین الاقوامی ضوابط کا احترام کرتے ہوئے جنگ زدہ علاقوں کے متحارب فریق بچوں اور عام غیر مسلح شہریوں کو آسان ہدف بنانے سے ہر ممکن طریقے سے گریز کریں۔

سیو دی چلڈرن نے امیر ممالک اور بڑے امدادی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس افسوسناک صورت حال پر خصوصی توجہ مرکوز کر کے بچوں کی اموات میں کمی کی کوششیں کریں۔

بچوں کی ہلاکتوں والے ملکوں میں افغانستان، یمن، جنوبی سوڈان، وسطی افریقی جمہوریہ اور شام نمایاں ہیں

بچوں کی ہلاکتوں والے ملکوں میں افغانستان، یمن، جنوبی سوڈان، وسطی افریقی جمہوریہ اور شام خاص طور پر نمایاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان بچوں کو بھوک اور علاج کی ناکافی سہولیات کا سامنا ہے۔ ان علاقوں میں بچوں کی اموات کا یہ سلسلہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے۔

سیو دی چلڈرن نے یہ خصوصی رپورٹ جرمن شہر میونخ میں پندرہ سے سترہ فروری تک منعقد کی جانے والی سالانہ انٹرنیشنل سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر جاری کی ہے۔ توقع کی گئی ہے کہ کانفرنس کے شرکاء رپورٹ کے مندرجات پرتوجہ مبذول کرنے کی کوشش کریں گے۔

یہ رپورٹ سیو دی چلڈرن انٹرنیشنل کی چیف ایگزیکٹو ہیلے تھورننگ شمٹ نے جاری کی ہے۔ ہیلے تھورننگ شمٹ یورپی ملک ڈنمارک کی سن 2011 سے 2015 تک وزیراعظم بھی رہ چکی ہیں۔

اس رپورٹ کی تیاری میں ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے بھی معاونت کی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کا بھی سہارا لیا گیا۔

روسی  فوجی اسکول، ’مورچوں میں بچپن‘

روشن مستقبل

آج کے دور میں اگر کوئی روسی شہری اپنے بچوں کے لیے ایک روشن مستقبل کا خواہاں ہے، تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے بچے ملک میں قائم دو سو سے زائد کیڈٹ اسکولوں میں سے کسی ایک میں تعلیم حاصل کریں۔ ان اسکولوں میں لڑکے اور لڑکیاں روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ عکسری تربیت بھی حاصل کرتے ہیں۔ یہاں سے تعلیم مکمل کرنے والے بچوں کے لیے بہت سے امکانات ہوتے ہیں۔

روسی  فوجی اسکول، ’مورچوں میں بچپن‘

مادر وطن کے لیے

اسکول میں پریڈ: ماسکو حکومت نے 2001ء میں ایک تربیتی منصوبہ تیار کیا تھا، جس کا مقصد بچوں میں خصوصی طور پر وطن کے لیے محبت بڑھانا تھا۔ فوجی اسکول اور نیم فوجی کیمپس اس منصوبے کا حصہ تھے۔ اگر بچے اپنے کیڈٹ اسکول میں ایک فوجی کی طرح پریڈ کرنا چاہتے ہیں تو حب الوطنی کا جذبہ ان کے لیے بہت مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

روسی  فوجی اسکول، ’مورچوں میں بچپن‘

ایک قدیم روایت

جنوبی روسی علاقے اسٹاروپول کے کیڈٹ اسکول کے بچے ایک پُر وقار تقریب کے ساتھ اپنے تعلیمی سال کا آغاز کرتے ہیں۔ جیرمیلوف جیسے دیگر کیڈٹ اسکولز روس میں ایک قدیم روایت رکھتے ہیں۔ زار اور اسٹالن کے زمانے کے اشرافیہ نے انہی اسکولوں سے تعلیم حاصل کی تھی۔ اس وجہ سے ان اسکولوں میں داخلے کا نظام بہت سخت ہے۔ صرف ذہین اور جسمانی طور پر فٹ بچوں کے ہی امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

روسی  فوجی اسکول، ’مورچوں میں بچپن‘

ایک جنرل سے منسوب

جیرمیلوف کیڈٹ اسکول 2002 ء میں بنایا گیا تھا اور یہ جنرل الیکسی پیٹرووچ جیرمیلوف سے منسوب ہے۔ جنرل جیرمیلوف نے انیسویں صدی میں نیپولین کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا اور انہیں روس میں ایک جنگی ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔

روسی  فوجی اسکول، ’مورچوں میں بچپن‘

نظم و ضبط

اس اسکول میں تعلیم کا حصول کسی پتھریلے راستے پر چلنے سے کم نہیں۔ اگر یہ بچے ایک کامیاب فوجی بننا چاہتے ہیں تو انہیں لازمی طور پر سخت تربیت کرنا پڑتی ہے۔ ان کیڈٹس کو باکسنگ اور مارشل آرٹ سکھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فٹنس کے سخت مراحل سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔

روسی  فوجی اسکول، ’مورچوں میں بچپن‘

فائرنگ کیسے کی جاتی ہے

سخت جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ ان بچوں کو ہتھیار بھی دکھائے جاتے ہیں۔ اس دوران انہیں اسلحہ بارود کے بارے میں سمجھایا جاتا ہے اور فوجی انہیں فائرنگ کر کے بھی دکھاتے ہیں۔

روسی  فوجی اسکول، ’مورچوں میں بچپن‘

لڑکیاں بھی خوش آمدید

جیرمیلوف کیڈٹ اسکول میں لڑکیوں کو بھی اعلی فوجی بننے کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ لڑکیاں بھی لڑکوں کی طرح خندقیں کھودتی ہیں اور انہیں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ اگر وہ کبھی کسی جنگل میں پھنس جائیں یا گم ہو جائیں تو وہاں سے کس طرح سے نکلا جا سکتا ہے۔

روسی  فوجی اسکول، ’مورچوں میں بچپن‘

چھاتہ برداری

یہاں پر صرف تندرست اور ذہین ہی نہیں بلکہ بچوں کا باہمت ہونا بھی ضروری ہے۔ بہت سے والدین عام زندگی میں اپنے بچوں کو جن چیزوں سے روکتے ہیں ملٹری اسکولوں میں وہ روز مرہ کے معمول کا حصہ ہیں۔ پپراشوٹ جمپنگ اس کی ایک مثال ہے۔

ملتے جلتے مندرجات

ہمیں فالو کیجیے