حماس کی مذمت کی خاطر قرارداد منظور نہ ہو سکی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ميں حماس کی مذمت کی خاطر ايک قرارداد منظور نہ ہو سکی جبکہ آئرلينڈ کی جانب سے پيش کردہ ايک اور قرارداد منظور ہو گئی، جس ميں دو رياستی حل پر زور ديا گيا ہے۔

غزہ پٹی ميں سرگرم جنگجو تنظيم حماس کی مذمت کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ميں جعمرات کے دن پيش کی گئی ايک قرارداد منظور نہ ہو سکی۔ امريکا کی حمايت يافتہ اس قرارداد کے حق ميں ستاسی ووٹ ڈالے گئے جبکہ ستاون ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ تينتيس ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہيں کيا۔ قرارداد کو منظور کرانے کے ليے دو تہائی ارکان کی حمايت درکار تھی، جو نہ مل سکی۔

اس قرارداد کے مسودے ميں حماس کی مذمت کی گئی تھی اور يہ مطالبہ بھی کيا گيا تھا کہ يہ جنگجو تنظيم اسرائيلی علاقوں ميں راکٹ حملے ترک کرے۔ واضح رہے کہ اگر يہ قرارداد منظور ہو جاتی، تو يہ پہلا موقع ہوتا کہ جنرل اسمبلی ميں حماس کی مذمت ميں کوئی قرارداد پاس ہوتی۔

جنرل اسمبلی ميں ووٹنگ کے بعد حماس نے اقوام متحدہ کی رکن رياستوں کا شکريہ ادا کيا۔ اس تنظيم نے اپنے بيان ميں کہا کہ ’رکن رياستوں نے فلسطينی عوام کی مزاحمت کے ليے حمايت کا مظاہرہ کيا اور ان کے مقصد کے انصاف کو سمجھا‘۔ فلسطينی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے بھی اس قرارداد کی ناکامی کو سراہا اور کہا کہ فلسطينی جدوجہد کی مذمت کی کسی بھی کوشش کو اتھارٹی کی صدارت کی حمايت حاصل نہيں ہو گی۔

اس کے برعکس اسرائيلی وزير اعظم بينجمن نيتن ياہو نے رکن رياستوں کی جانب سے ايک بڑی تعداد ميں اس قرارداد کے حق ميں ووٹ ڈالے جانے کو سراہا۔ ان کے بقول اکثريتی ملکوں نے حماس کے خلاف ووٹ ڈالا جو کہ اسرائيل اور امريکا کے ليے ايک اہم پيش رفت ہے۔

دريں اثناء جنرل اسمبلی ميں جمعرات چھ دسمبر کو اس امريکی حمايت يافتہ قرارداد پر رائے دہی کے بعد آئر لينڈ کی جانب سے پيش کردہ ايک قرارداد پر بھی رائے دہی ہوئی، جسے 156 کے مقابلے ميں چھ ووٹوں کی بھاری اکثريت کے ساتھ منظور کر ليا گيا۔ اس قرارداد ميں اسرائيلی فلسطينی تنازعے کے ایک ایسے دو رياستی حل پر زور ديا گيا ہے، جس کی بنياد سن 1967 سے قبل کی سرحدوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ دو مختلف قرادادوں پر رائے شماری اور اس کے نتائج اسرائيلی فلسطينی تنازعے پر پائی جانے والی تقسيم کی نشاندہی کرتے ہيں۔

ع س / ع ب، نيوز ايجنسياں