1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’خواتین ایسے کپڑے پہنیں گی، تو جنسی حملے تو ہوں گے‘

شمشیر حیدر23 جنوری 2016

جرمن شہر کولون کے دفتر استغاثہ اور پولیس کو ایک امام کے خلاف درجنوں شکایات موصول ہوئی ہیں۔ امام نے مبینہ طور پر ایک روسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کولون جنسی حملوں کا ذمہ دار متاثرہ عورتوں کو ٹھہرایا تھا۔

https://p.dw.com/p/1Hirk
Deutschland Silvesternacht in Köln Reaktionen Kölner Imam Sami Abu-Yusuf
تصویر: YouTube/REN TV

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی کولون سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کولون کے دفتر استغاثہ اور پولیس کو شہر میں موجود مسجد التوحید کے امام سمیع ابو یوسف کے خلاف کئی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ شکایات ابو یوسف کے روسی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو کے بعد جمع کرائی گئیں۔

ابو یوسف نے مبینہ طور پر اپنے انٹرویو میں سالِ نو کے موقع پر کولون میں سینکڑوں خواتین پر ہونے والے جنسی حملوں کا ذمہ دار خواتین ہی کو ٹھہرایا تھا۔ سلفی نظریات رکھنے والے سمیع ابو یوسف کولون کی مسجد التوحید کے امام ہیں، جرمنی کے خفیہ ادارے کافی عرصے سے اس مسجد کی نگرانی کر رہے ہیں۔

جرمنی کے کثیر الاشاعت اخبار ’بلڈ‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ابو یوسف نے روس کے رین ٹی وی Ren TV کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا، ’’خواتین نے جیسے کپڑے پہن رکھے تھے، وہ بھی مسلمان مردوں کی جانب سے خواتین کی عصمت دری اور جنسی حملوں کی ایک وجہ ہے۔ اگر عورتیں نیم عریاں کپڑے پہن کر اور پرفیوم لگا کر گھومیں گی تو ایسے واقعات تو ہوں گے۔ یہ تو جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔‘‘

جرمنی کی وفاقی پارلیمان کے ایک رکن فولکر بیک نے بھی سلفی مسلک سے تعلق رکھنے والے امام ابو یوسف کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔ بیک کا کہنا تھا کہ انہوں نے امام ابو یوسف کے خلاف عوام کو جرم پر اکسانے کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ کولون کے وکیل استغایہ اُلف وِلُوہن کے مطابق کولون شہر میں دیگر کئی شہریوں نے بھی ایسی شکایات درج کرائی ہیں۔

Zeitungscover - Focus
کولون میں ہونے والے جنسی حملوں کے بعد جرمنی میں مہاجرین کے بارے میں بحث نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہےتصویر: Focus

دوسری جانب ابو یوسف نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ صوبے کے عوامی نشریاتی ادارے ڈبلیو ڈی آر سے گفتگو کرتے ہوئے ابو یوسف کا کہنا تھا کہ ان کے بیان کو ’سیاق و سباق سے الگ کر کے‘ پیش کیا گیا ہے۔

ایک مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے ابو یوسف کا کہنا تھا کہ اسلام خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید