دولت مشترکہ کھیل: پاکستان کو صرف ایک طلائی تمغہ ہی کیوں ملا؟

اکیسویں دولت مشترکہ کھیلوں کے اختتام سے ایک دن پہلے پاکستان کو ریسلنگ کے اکھاڑے سے سب سے بڑی خوش خبری اس وقت ملی، جب محمد انعام نے ملک کا پہلا طلائی تمغہ جیت لیا۔

چھیاسی کلو گرام ویٹ کے فائنل میں گوجرانوالہ کے محمد انعام نے نائجیریا کے پہلوان کو دو راونڈز میں ہی 0-6 سے ہی مات دے دی۔ اس سے قبل انعام نے کوارٹر فائنل میں بھارتی حریف سومویر کو ہرایا تھا۔ یہ پاکستان کو گولڈ کوسٹ آسٹریلیا میں جاری کامن ویلتھ گیمز 2018ء میں پہلا اور تاریخ کا ان کھیلوں میں 25 واں گولڈ میڈل تھا۔

29 سالہ محمد انعام اس سے قبل 2010ء کے نئی دلی کامن ویلتھ گیمز اور ایشین گیمز میں بھی گولڈ میڈل جیت چکے ہیں۔ اس سے قبل ہفتے کو ہی ریسلنگ میں ہی پاکستان کے طیب رضا نے 25 کلوگرام کلاس میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ یہ پاکستان کو موجودہ کھیلوں میں ملنے والا کانسی کا چوتھا میڈل ہے۔ اس سے قبل دو ویٹ لفٹرز طلحہ بلال اور نوح بٹ کے علاوہ ریسلر محمد بلال ایک ایک برونز میڈل اپنے سینے پر سجا چکے ہیں۔

دریں اثنا پاکستان ہاکی ٹیم نے کینیڈا کو 1-3 سے ہرا کر ساتویں پوزیشن حاصل کی۔

پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی پر رائے دیتے ہوئے سابق اولمپئن نوید عالم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستان کا اکلوتا طلائی تمغہ صرف ٹیلنٹ کا مرہون منت ہے، اس کامیابی میں سسٹم کا کوئی عمل دخل نہیں۔ نوید کے بقول پاکستان کو ملنے والے پانچوں میڈلز کھلاڑیوں کی انفرادی کوششوں کا نتیجہ تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں کھیلوں کا ٹیلنٹ ہے اور اگر اس کی آبیاری کی جائے تو عالمی کھیلوں میں پاکستان کو درجنوں طلائی تمغے مل سکتے ہیں۔

1992ء کے بارسلونا اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے نوید عالم کا مزید کہنا تھا اب وقت ہے کہ کامن ویلتھ گیمز میں میڈل جیتنے والوں کو ملک میں ہیرو بنا کر پیش کیا جائے۔ انعام اور پوڈیم پر آنیوالے دوسرے ایتھلیٹس کی کارکردگی قابل فخر ہے۔ انہیں چند لاکھ روپے اور چند دنوں کے لئے ہیرو بنانے کی بجائے ان کی کارکردگی کا مکمل اعتراف ہونا چاہیے۔

Wrestling - Commonwealth Gold - Muhammad Inam aus Pakistan

چھیاسی کلو گرام ویٹ کے فائنل میں گوجرانوالہ کے محمد انعام نے نائجیریا کے پہلوان کو دو راونڈز میں ہی 0-6 سے ہی مات دے دی

گولڈ میڈل جیتنے والا انعام انعام کا منتظر

ہاکی ٹیم کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے نوید عالم کا کہنا تھا کہ کامن ویلتھ گیمز میں پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستان کوئی میچ نہیں ہارا۔ یہ درست ہے کہ ٹیم وکٹری اسٹینڈ پر نہ آسکی لیکن پچھلے ٹورنامنٹس میں 9،9 گول سے ہارنے کے بعد بھارت اور انگلینڈ سے ڈرا کرکے ٹیم کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ پہلے ٹیمیں کوچز منتخب کرتے تھے اس بار یہ کام سلیکٹرز نے کیا جس کا نتیجہ تسلی بخش کارکردگی کی صورت میں آیا۔

کھیلوں کے ممتاز پاکستانی تجزیہ کار اور سابقہ انٹرنیشنل ایتھلیٹ کرنل آصف ڈار کہتے ہیں کہ پاکستانیوں کو گولڈ میڈل جیتنے کے لئے دس دن کا صبر آزما انتظار کرنا پڑا۔ انعام نے یہ کارنامہ انجام دے کر آسٹریلیا جانیوالے 90 رکنی پاکستانی دستے کی لاج رکھ لی۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کرنل ڈار نے کہا کہ گولڈ کوسٹ کامن ویلتھ گیمز میں شریک ملکوں میں بھارت کے بعد آبادی کے لحاظ سے پاکستان دوسرا بڑا تھا لیکن سوئمنگ، ایتھلیٹکس، شوٹنگ اور ٹیبل ٹینس میں کہیں پاکستانی کھلاڑی نظر تک نہیں آئے۔ انعام نے دستے کی ناکامیوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔

پاکستانی اسپورٹس فیڈریشنز کے عہدیداروں کا واحد مقصد سیر سپاٹے کرنا ہے۔ سائیکلنگ اور ہینڈ بال جیسی فیڈریشنوں کے عہدیدار بھی سرکاری خرچے پر آسٹریلیا گئے جبکہ ان کھیلوں میں پاکستان شریک ہی نہ تھا۔

کرنل آصف ڈار جو ماضی میں چیف آرمی کوچ رہ چکے ہیں، نے مطالبہ کیا کہ جہاں اب میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں کو انعامات سے نوازا جائے گا وہیں ناکام فیڈریشنز چلانے والوں کا محاسبہ بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بد انتظامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جویلین تھرو میں ارشد ندیم کی تھرو راتوں رات ساڑھے چار میٹر کم ہوگئی جس کے بعد انعام ہی میڈل کی آخری امید رہ گئے تھے۔