1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

دہشت گردی کے خلاف اتفاق اور متحد رہنا ضروری ہے، اوباما

عابد حسین10 ستمبر 2016

اتوار گیارہ ستمبر کو امریکا میں سن 2001 میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی پندرہویں برسی ہے۔ اس دن کے اعتبار سے نیویارک میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/1Jzpf
تصویر: AP

امریکی صدر باراک اوباما نے نائن الیون دہشت گردانہ حملوں کی پندرہویں برسی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ امریکی عوام کو کسی بھی دہشت گردی کے واقعہ کے دوران اتفاق، اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ امریکی صدر نے اپنی عوام کو یہ تلقین ریڈیو اور آن لائن نشر ہونے والے اپنے ہفتہ وار خطاب میں کی۔ یہ خطاب ہفتہ، دس ستمبر کے روز نشر کیا گیا۔

اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر اپنی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کے سامنے ہار نہیں ماننی جو انسانی تقسیم کا پیغام لیے پھرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرتی اعتبار سے بھرپور ردعمل صرف اُسی وقت ممکن ہے جب سماج کی دیوار میں دراڑیں پیدا نہ ہوئی ہیں۔

USA New York Angela Merkel am Ground Zero Memorial
نیویارک میں نائن الیون دہشت گردانہ حملے کا مقام اب ’گراؤنڈ زیرو‘ کہلاتا ہےتصویر: picture-alliance/AP Photo/J. DeCrow

 امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کثیرالجہتی ملک ہے اور یہ دوسرے معاشروں کے افراد کو خوش آمدید کہنے والا سماج ہے۔ اوباما نے یہ بھی کہا کہ امریکا میں ہر رنگ اور نسل کے لوگوں کے ساتھ مساوی برتاؤ ممکن ہے اور اس ملک میں عقیدوں کی کثرت ہے اور یہی رویہ طبقات کی پیروی کرنے والوں کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔

اوباما کی تقریر میں طبقات کی بات اور عقیدوں کی بہتات کا اشارہ خاص طور پر  ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب تھا جو اپنے انتخابی جلسوں میں مسلمانوں اور دوسرے مہاجرین کے لیے سخت الفاظ استعمال کر چکے ہیں۔ نائن الیون حملوں کی برسی کے موقع پر ٹرمپ کی مخالف اور ڈیموکریٹک پارٹی  سے تعلق رکھنے والی امیدوار ہلیری کلنٹن نے نیویارک شہر میں ’گراؤنڈ زیرو‘ جانے کا اعلان کیا ہے۔

Barack Obama und Hillary Clinton Democratic National Convention USA Rede
امریکی صدر باراک اوباماتصویر: Reuters/M. Segar

سن 2001 کے نویں مہینے ستمبر کی گیارہ تاریخ کو امریکی سرزمین پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کو اولین غیر ملکی حملے قرار دیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے وفادار انتہاپسندوں نے دو مسافر بردار ہوائی جہاز اغوا کر کے نیویارک شہر کا نشان سمجھے جانے والے ٹوِن ٹاور سے ٹکرا دیے تھے۔ ان حملوں میں ستائیس سو سے زائد انسان ہلاک ہوئے تھے۔

اپنی ہفتہ وار تقریر میں امریکی صدر اوباما نے گیارہ ستمبر کو امریکی تاریخ کا سیاہ ترین دنوں میں شمار کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اِس واقعے کو پندرہ برس گزرنے کے بعد بہت کچھ تبدیل ہو گیا ہے اور اِس دوران القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کو ہلاک کر کے مزید کئی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچا لیا گیا ہے۔

 اوباما نے اپنے پیغام میں واضح طور پر کہا کہ امریکا کو دہشت گردانہ خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان، عراق، شام اور کئی دوسرے ممالک میں القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ اوباما نے ان دہشت گرد عناصر کو پوری طرح تباہ کرنے کے عزام کا اظہار بھی کیا۔