1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روس میں جرمن پارلیمانی عمارت کی نقل، وجہ ’روسی قبضے کی مشق‘

مقبول ملک
24 فروری 2017

روسی حکومت ماسکو کے نواح میں برلن میں جرمن پارلیمانی عمارت کی ایک ایسی نقل تعمیر کرنا چاہتی ہے، جہاں ’اس تاریخی عمارت پر روسی قبضے کی شوقیہ مشق‘ کی جا سکے گی۔ جرمن حکومت نے اس روسی منصوبے کو ’حیران کن‘ قرار دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/2YDxy
Symbolbild - Berlin
برلن میں رائش ٹاگ کی تاریخی عمارت کی ایک حالیہ تصویرتصویر: Fotolia/Stefan Delle

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے جمعہ چوبیس فروری کو موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے بدھ بائیس فروری کے روز کہا تھا کہ وہ ماسکو کے مضافات میں ایک فوجی تھیم پارک میں جرمن پارلیمان کی عمارت ’رائش ٹاگ‘ کی ایک نقل تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

برلن میں ’رائش ٹاگ‘ وہی عمارت ہے، جس پر دوسری عالمی جنگ کے آخری دنوں میں نازی جرمنی کی حتمی شکست کے وقت کالعدم سوویت یونین کی ریڈ آرمی کے دستوں نے 1945ء میں قبضہ کر لیا تھا۔

نازی رہنما گوئبلز کی سیکرٹری کا 106 برس کی عمر میں انتقال

نازی دور میں یہودی قتل عام ’پندرہ افراد کا فیصلہ‘ تھا

روسی وزارت دفاع کے مطابق ماسکو کے نواح میں فوجی نوعیت کے ایک تفریحی پارک میں اس عمارت کی نقل تیار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہاں آنے والے ’نوجوان محب وطن‘ مہمان اگر چاہیں، تو سوویت فوجوں کی طرف سے اس عمارت پر قبضے کا ’تفریحی اعادہ‘ کر سکیں۔

اس روسی منصوبے پر جرمن حکومت کے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے برلن میں ایک حکومتی ترجمان نے جمعے کے روز کہا، ’’یہ روسی فیصلہ حیران کن ہے، جو خود ہی اپنی وضاحت کے لیے کافی ہے۔‘‘ جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان مارٹن شیفر نے ایک سرکاری پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا، ’’جرمنی اپنے ہاں نوجوانوں کی ’بہتر تربیت‘ کے لیے اس طرح اس عمارت کی کوئی نقل تیار نہ کرتا۔‘‘

Deutschland Sowjetunion Zweiter Weltkrieg die Rote Armee in Berlin Flagge auf Reichstag
رائش ٹاگ پر قبضے کے بعد ایک روسی فوجی اس تباہ شدہ عمارت پر سوویت یونین کا پرچم لہراتے ہوئےتصویر: picture-alliance/akg
Reichstag Berlin Ruine Flash-Galerie
دوسری عالمی جنگ کے خاتمے تک اتحادیوں کی بمباری اور آتشزدگی کے باعث رائش ٹاگ کی عمارت بری طرح تباہ ہو چکی تھیتصویر: AP

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ روسی وزارت دفاع جس ملٹری تھیم پارک میں ’رائش ٹاگ‘ کی ہو بہو نقل تیار کرنا چاہتی ہے، وہ ماسکو سے کچھ دور کیوبِنکا کے مقام پر واقع ہے، جسے ’پیٹریئٹ پارک‘ یا ’محب وطن لوگوں کا پارک‘ کہا جاتا ہے۔ اس پارک کا افتتاح موجودہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے 2015ء میں اس وقت کیا تھا، جب روس میں فوجی بیان بازی اور حب الوطنی کے جذباتی مہم عروج پر تھے۔

آبے کا پرل ہاربر کا دورہ امریکی جاپانی ’مفاہمت کی علامت‘

سابقہ نازی جرمن جنگی قیدی ساری پونجی سکاٹش گاؤں کو دے گیا

جرمنی میں نازی دور حکومت اور دوسری عالمی جنگ کے آخری دنوں میں برلن میں ’رائش ٹاگ‘ کی عمارت پر قبضہ بنیادی طور پر روسی (سوویت) دستوں نے ہی کیا تھا، اور تب اس تاریخی عمارت کے تقریباﹰ ہر کمرے میں لڑائی لڑی گئی تھی۔

روسی حکومت کے اندازوں کے مطابق دوسری عالمی جنگ میں سوویت یونین کے 20 ملین یا دو کروڑ سے زائد شہری مارے گئے تھے۔ نازی جرمنی کے خلاف اتحادی ملکوں کی اس جنگی فتح کو، جس میں سوویت یونین بھی شامل تھا، روس میں آج بھی قومی سطح پر ایک انتہائی قابل فخر کامیابی سمجھا جاتا ہے۔