1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سات باغی ترک فوجی افسران کی یونان میں سیاسی پناہ کی درخواست

مقبول ملک16 جولائی 2016

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت میں شریک متعدد اعلیٰ افسروں نے ایک جنگی ہیلی کاپٹر کے ذریعے یورپی یونین کے رکن اور قبرص کے تنازعے میں ترکی کے حریف ملک یونان پہنچ کر وہاں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی ہے۔

https://p.dw.com/p/1JQ0p
Türkei PKK Irak Attacken
تصویر: dapd

یونانی دارالحکومت ایتھنز سے ہفتہ سولہ جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ترک فوج کے ایک جنگی ہیلی کاپٹر میں سوار یہ افسران مقامی وقت کے مطابق آج قبل از دوپہر شمال مشرقی یونان میں الیگزانڈروپولس (Alexandroupolis) کے ہوائی اڈے پر اترے۔

یونانی پولیس کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ ’بلیک ہاک‘ طرز کے ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں سوار ان ترک شہریوں کی تعداد آٹھ ہے، اور انہوں نے یونانی سرزمین پر اترتے ہی اپنے لیے سیاسی پناہ کی درخواست کر دی۔

یونان کے سرکاری ٹیلی وژن چینل ای آر ٹی (ERT) نے بتایا کہ یونانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی اس ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کی طرف سے شمال مشرقی یونان کے اس شہر میں ایئرپورٹ پر کنٹرول ٹاور کے عملے کو ’ہنگامی حالت میں مدد کی درخواست‘ کا سگنل بھیجا گیا تھا۔

پھر اس ترک فوجی ہیلی کاپٹر کے وہاں اترنے پر پتہ چلا کہ اس میں سوار آٹھ میں سے سات افراد ترک فوج کے اہلکار تھے، جو اپنی وردیاں بھی پہنے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ یونان پہنچنے والا آٹھواں ترک شہری ایک سویلین بتایا گیا ہے۔

ان ترک باشندوں میں سے فی الحال کسی کا بھی نام یا فوجی عہدہ معلوم نہیں ہوا تاہم کچھ ہی دیر بعد یہ بات تقریباﹰ یقین کی حد تک ثابت ہو گئی کہ یہ تمام غیر ملکی ترکی میں کل رات ناکام رہنے والی فوجی بغاوت میں ملوث تھے۔

Türkei Binali Yildirim Premierminister
ترک وزیر اعظم بن علی یلدرمتصویر: Reuters/Prime Ministry Pool

الیگزانڈروپولس سے موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یونانی حکام نے ان تمام ترک فوجی اہلکاروں کو ان کے ہمراہ آنے والے سویلین باشندے سمیت گرفتار کر لیا ہے، جنہوں نے مقامی پولیس کے ساتھ اپنی بات چیت میں فوری طور پر یہ اعلان کیا کہ وہ یونان میں اپنے لیے سیاسی پناہ کے خواہش مند ہیں۔

یونانی پولیس نے ان ترک اہلکاروں کے بارے میں بتایا کہ انہیں یونان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا انہیں یونان میں سیاسی پناہ دی جائے گی یا نہیں۔ ماہرین کے مطابق بظاہر یہ امکان بہت کم ہے کہ ان مفرور ترک فوجی اہلکاروں کو یونان اپنے ہاں پناہ دے دے گا۔

ایتھنز میں یونانی وزارت دفاع کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس فوجی ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے مقامی وقت کے مطابق کنٹرول ٹاور کو صبح 10 بج کر 45 منٹ پر ایک ایمرجنسی سگنل بھیجا تھا، جس کے صرف چھ منٹ بعد یہ ہیلی کاپٹر الیگزانڈروپولس ایئر پورٹ پر اتر بھی گیا تھا۔

ترکی میں جمعہ پندرہ جولائی کو ملکی فوج میں باغی فوجی افسروں کے ایک بہت بڑے گروپ کی طرف سے حکومت کے خلاف بغاوت اور اقتدار پر قبضے کی جو کوشش شروع کی گئی تھی، وہ ہفتہ سولہ جولائی کو علی الصبح تک ناکام بنا دی گئی تھی۔

Türkei beschädigtes Gebäude des türkischen Parlaments in Ankara
فضائی حملوں سے ترک پارلیمان کی عمارت کو شدید نقصان پہنچاتصویر: Getty Images/E. Ortac

باغیوں نے اپنی اس کوشش کے دوران کئی ایف سولہ جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی اپنے قبضے میں لے لیے تھے، جن کے ذریعے دارالحکومت انقرہ میں صدارتی محل اور ملکی پارلیمان کی عمارت پر فضائی حملے بھی کیے گئے تھے۔ ان حملوں میں پارلیمان کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔

قریب تین ہزار ترک فوجی اہلکار گرفتار

اسی دوران ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے ہفتے کی دوپہر اس فوجی بغاوت کو ناکام بنا دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس خونریزی کے دوران کم از کم 265 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک باغی جنرل سمیت بڑی تعداد باغی فوجیوں اور افسروں کی تھی۔

اس کے علاوہ کم از کم پانچ جرنیلوں اور انتیس کرنلوں سمیت ملکی فوج کے قریب تین ہزار اہلکاروں کو برطرف کر کے گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ وزیر اعظم یلدرم نے ناکام بغاوت میں شمولیت یا باغیوں کے ساتھی ہونے کی وجہ سے 2839 فوجی اہلکاروں کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں