سعودی شہزادے کی آمد: تیاریوں کے اخراجات زیرِ بحث آئیں گے؟

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد پر غیر معمولی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ اے کو ملنے والے پروٹوکول اور ان تیاریوں پر کئی حلقے حیران بھی ہیں۔ ان پر اٹھنے والے اخراجات کو بھی کچھ حلقے حیرانی سے دیکھ رہے ہیں۔

یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوگا کہ کوئی غیر ملکی سربراہِ حکومت وزیرِ اعظم ہاؤس میں قیام کرے گا، جب کہ ان کے ذاتی محافظ پاکستانی سکیورٹی حکام کے ساتھ مل کر وزیرِ اعظم ہاؤس کی حفاظت پر مامور ہوں گے۔ اس سے پہلے دو امریکی صدور جارج ڈبلیو بش اور بل کلنٹن نے اپنے ہی سفارتخانے میں قیام کیا تھا جب کہ دوہزار پندرہ میں آنے والے چینی صدر اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں رکے تھے۔

ان انتظامات پر اٹھنے والے اخراجات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف تین سو گاڑیوں کا تین دن کا کرایہ تقریباً بیس کروڑ روپے ہے۔ یہ ٹھیکہ اسلام آباد کی ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کو دیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے جن گاڑیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے ان میں پراڈو، بی ایم ڈبلیو، مرسیڈیز اور لیکسس شامل ہیں۔

Hotel Islamabad Marriott Hotel


کرائے پر کاریں دینے والے بابر سلیم جاوید نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہوں نے اتنی بڑی تعداد میں کبھی حکومت کو گاڑیاں کرائے پر لیتے ہوئے نہیں دیکھا، ’’دوہزار پندرہ میں جب چینی صدر آئے تھے، تو ہمارے خیال میں وہ سب سے بڑی تقریب تھی، جس میں سو ڈیڑھ سو کے قریب گاڑیاں لی گئی تھیں۔ آخری جو سارک کانفرنس ہوئی تھی، اس میں سب سے زیادہ یعنی چار سو کے قریب گاڑیاں کرائے پر لی گئیں لیکن اس موقع پر کئی حکومتوں کے سربراہان بھی پاکستان میں موجود تھے۔ کسی ایک ملک کے سربراہ کے لیے کرائے پر لی جانے والی گاڑیوں کی یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ سعودی بہت بڑی سرمایہ کاری ساتھ لارہے ہیں اور ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے۔ تو میرا خیال ہے کہ ہمارے ملک کے لیے یہ اچھا ہے۔‘‘
لیکن ایک ریٹائرڈ وفاقی سکریٹری نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’یہ تصور غلط ہے کہ سعودی شہزادہ ہمارے پاس آرہا ہے۔ وہ یہاں سے بھارت اور ملائیشیا بھی جائے گا۔ بھارت میں ریاض کی طرف سے چالیس بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا امکان ہے جب کہ سعودی عرب نے حال ہی میں نریندر مودی کو بھائی بھی کہا ہے۔‘‘


ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس طرح کا پروٹوکول اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا، ’’میرے خیال میں یہ پروٹوکول چینی صدر کو دیے جانے والے پروٹوکول سے دس گناہ زیادہ ہے۔ صرف دو سی ون تھرٹی ذاتی استعمال کی اشیاء لائے ہیں۔ اس کے علاوہ سات سو کے قریب کمرے بک گئے ہیں۔ لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ سارے اخراجات کون اٹھارہا ہے۔ سرکاری دورے میں زیادہ تر اخراجات دعوت دینے والا ملک اٹھاتا ہے لیکن ممکن ہے کہ دفترِ خارجہ نے سعودی دفترِ خارجہ سے طے کیا ہو کہ فلاں فلاں اخراجات پاکستان اٹھائے گا اور بقیہ دوسرے اخراجات سعودی عرب کو برداشت کرنا ہوں گے۔ بہرحال بہت پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔‘‘
اسلام آباد میں ہوٹل ذرائع کے مطابق سکیورٹی کے پیشِ نظر ہوٹل کے عملےکو بھی خصوصی اجازت نامے دیے جارہے ہیں۔ اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں کام کرنے والی ایک خاتون باورچی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’دو سال پہلے ترکی کے صدر آئے تھے۔ اس سے پہلے چینی صدر آئے تھے۔ اس وقت بھی اجازت نامے جاری کئے گئے تھے لیکن اس مرتبہ کچھ زیادہ ہی سختی ہے۔ پورا ہوٹل چھاؤنی کا منظر پیش کر رہا ہے۔‘‘

ہوٹل ذرائع کا کہنا ہے کہ دو ہزار پندرہ میں چینی صدر کی آمد پر ایک سو کے قریب کمرے بک کیے گئے تھے جب کہ دو ہزار سولہ میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی آمد پر اس سے بھی کم کمرے بک کیے گئے تھے۔ جب کہ سعودی شہزادے کی آمد پر سات سو کمرے بک گئے ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی سفارتی تنازعے

کینیڈا کے ساتھ تنازعہ

شہزادہ محمد بن سلمان کے دور میں تازہ ترین سفارتی تنازعہ کینیڈا کے ساتھ جاری ہے۔ اس سفارتی تنازعے کی وجہ کینیڈا کی جانب سے سعودی عرب میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی رہائی کے لیے کی گئی ایک ٹویٹ بنی۔ سعودی عرب نے اس بیان کو ملکی داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کینیڈا کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی روابط ختم کر دیے۔

شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی سفارتی تنازعے

برلن سے سعودی سفیر کی واپسی

نومبر سن 2017 میں سعودی عرب نے اس وقت کے جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل کی جانب سے یمن اور لبنان میں سعودی پالیسیوں پر کی گئی تنقید کے جواب میں برلن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔ جرمن حکومت سعودی سفیر کی دوبارہ تعیناتی کی خواہش کا اظہار بھی کر چکی ہے تاہم سعودی عرب نے ابھی تک ایسا نہیں کیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی سفارتی تنازعے

قطر کے ساتھ تنازعہ

گزشتہ برس قطری تنازعے کا آغاز اس وقت ہوا جب سعودی اور اماراتی چینلوں نے قطر پر دہشت گردوں کی معاونت کرنے کے الزامات عائد کرنا شروع کیے تھے۔ ریاض حکومت اور اس کے عرب اتحادیوں نے دوحہ پر اخوان المسلمون کی حمایت کا الزام عائد کیا۔ ان ممالک نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے علاوہ اس کی ناکہ بندی بھی کر دی تھی۔ یہ تنازعہ اب تک جاری ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی سفارتی تنازعے

لبنان کے ساتھ بھی تنازعہ

سعودی عرب اور لبنان کے مابین سفارتی تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری نے دورہ ریاض کے دوران اچانک استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔ سعودی عرب نے مبینہ طور پر الحریری کو حراست میں بھی لے لیا تھا۔ فرانس اور عالمی برادری کی مداخلت کے بعد سعد الحریری وطن واپس چلے گئے اور بعد ازاں مستعفی ہونے کا فیصلہ بھی واپس لے لیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی سفارتی تنازعے

تہران اور ریاض، اختلافات سفارتی تنازعے سے بھی بڑے

سعودی حکومت کی جانب سے سعودی شیعہ رہنما نمر باقر النمر کو سزائے موت دیے جانے کے بعد تہران میں مظاہرین سعودی سفارت خانے پر حملہ آور ہوئے۔ تہران حکومت نے سفارت خانے پر حملہ کرنے اور کچھ حصوں میں آگ لگانے والے پچاس سے زائد افراد کو گرفتار بھی کر لیا۔ تاہم سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے۔

شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی سفارتی تنازعے

’مسلم دنیا کی قیادت‘، ترکی کے ساتھ تنازعہ

سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے ہیں اور دونوں ممالک اقتصادی اور عسکری سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں۔ تاہم شہزادہ محمد بن سلمان کے اس بیان نے کہ ریاض کا مقابلہ ’ایران، ترکی اور دہشت گرد گروہوں‘ سے ہے، دونوں ممالک کے تعلقات کو شدید متاثر کیا ہے۔ محمد بن سلمان کے مطابق ایران اپنا انقلاب جب کہ ترکی اپنا طرز حکومت خطے کے دیگر ممالک پر مسلط کرنے کی کوشش میں ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی سفارتی تنازعے

مصر کے ساتھ تنازعے کے بعد تیل کی فراہمی روک دی

شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد مقرر ہونے سے قبل اکتوبر سن 2016 میں مصر اور سعودی عرب کے تعلقات اقوام متحدہ میں ایک روسی قرار داد کی وجہ سے کشیدہ ہو گئے تھے۔ بعد ازاں مصر نے بحیرہ احمر میں اپنے دو جزائر سعودی عرب کے حوالے کر دیے تھے جس کی وجہ سے مصر میں مظاہرے شروع ہو گئے۔ سعودی عرب نے ان مظاہروں کے ردِ عمل میں مصر کو تیل کی مصنوعات کی فراہمی روک دی۔

شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی سفارتی تنازعے

سعودی عرب اور ’قرون وسطیٰ کے دور کے ہتھکنڈے‘

مارچ سن 2015 میں سویڈن کی وزیر داخلہ نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے ہوئے ریاض حکومت کی پالیسیوں کو ’قرون وسطیٰ کے دور کے ہتھکنڈے‘ قرار دیا تھا جس کے بعد سعودی عرب نے سٹاک ہوم سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔


اسلام آباد کے مہنگے ہوٹلوں میں کرایہ اوسطً دو سو اسی امریکی ڈالر ہے۔ یہ کرایہ سب سے نچلے درجے یعنی ڈیلیکس روم کا ہے۔ اس طرح سے اگر چینی صدرکے دو ہزار پندرہ کے دورے کے دوران ایک سو روم بک کیے گئے تھے توان کا ایک دن کا کرایہ اٹھائیس ہزار امریکی ڈالرز بنتا تھا۔ جب کہ محمد بن سلمان کے دورے کے موقع پر بک ہونے والے سات سو کمروں کا ایک دن کا کرایہ تقریباً $210,000 بنتا ہے۔

اسی طرح چینی صدر کے لیے کرائے پر لی جانے والی گاڑیوں کی تعداد اگر ڈیڑھ سو کے قریب تھی تو ان کا ایک دن  اوسط کرایہ تقریباً تیس لاکھ روپے بنتا ہے لیکن سعودی شہزادے کے لیے تین سو گاڑیوں کا ایک دن کا کرایہ ساٹھ لاکھ بنتا ہے۔

بالکل اسی طرح اسلام آباد کے کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹیکس لگا کر ایک شخص کے کھانے کا خرچہ تقریباً ستائیس سو روپے ہوتا ہے۔ اگر چینی صدر کے ساتھ دو سو افراد تھے تو ان کے ایک وقت کا کھانا تقریباً پانچ لاکھ چالیس ہزار روپے بنا تھا جب کہ اگر محمد بن سلمان کے ساتھ سات سو افراد ہیں تو ان کا ایک وقت کا کھانا تقریباً اٹھارہ لاکھ نوے ہزار روپے بنتا ہے۔ ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کا تین وقت کا کھانا، ان کے اضافی پیسے، ان کے پیٹرول اور ڈیزل کا خرچے اس کے علاوہ ہے۔

سعودی اصلاحات یا پھر اقتدار کی رسہ کشی

انسداد بد عنوانی کمیٹی کا قیام

سعودی دارالحکومت ریاض میں انسداد بد عنوانی کی غرض سے شروع کی جانے والی نئی مہم کے دوران اب تک قریب گیارہ سعودی شہزادے، اڑتیس وزراء اور متعدد معروف کاروباری افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں ہفتے کے روز شاہ سلمان کی جنب سے اپنے بیٹے اور ولی عہد محمد بن سلمان کی سربراہی میں بد عنوانی کے سد باب کے لیے ایک کمیٹی کے قیام کے بعد عمل میں لائی گئیں۔

سعودی اصلاحات یا پھر اقتدار کی رسہ کشی

ملکی بہتری یا پھر ممکنہ حریفوں کی زباں بندی؟

نئی تشکیل دی گئی اس کمیٹی کے پاس مختلف طرز کے اختیارات ہیں۔ ان اختیارات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنا، اثاثوں کو منجمد کرنا اور سفر پر پابندی عائد کرنا شامل ہے۔ پرنس سلمان نے حال ہی میں ملک سے بد عنوانی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

سعودی اصلاحات یا پھر اقتدار کی رسہ کشی

شہزادہ الولید بن طلال کے ستارے گردش میں

الولید کا شمار مشرق وسطی کی امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے ٹویٹر، ایپل، روپرٹ مرڈوک، سٹی گروپ، فور سیزن ہوٹلز اور لفٹ سروس میں بھی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ وہ سعودی شہزادوں میں سب سے بے باک تصور کیے جاتے ہیں۔

سعودی اصلاحات یا پھر اقتدار کی رسہ کشی

سرکاری تصدیق نہیں ہوئی

گرفتار شدہ افراد میں اطلاعات کے مطابق سابق وزیر خزانہ ابراہیم الاصف اور شاہی عدالت کے سابق سربراہ خالد التویجری بھی شامل ہیں۔ تاہم اس بارے میں سعودی حکومت کا کوئی بیان ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر ان گرفتاریوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

سعودی اصلاحات یا پھر اقتدار کی رسہ کشی

اتنا بہت کچھ اور اتنا جلدی

دوسری جانب نیشنل گارڈز کی ذمہ داری شہزادہ مِتعب بن عبداللہ سے لے کر خالد بن ایاف کے سپرد کر دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کو شاہ سلمان اور ان کے بیٹوں کی جانب سے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی ایک کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ادھر لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے بھی اپنے عہدے سے استعفے کا اعلان کر دیا ہے اور وہ ریاض ہی میں موجود ہیں۔


پاکستان میں وی آئی پی شخصیات کے دوروں پر اٹھنے والے اخراجات پر بڑی بحث ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے دوہزار تیرہ سے دو ہزار سترہ کے دوران  65 غیر ملکی دورے کیے، جس پر ایک ارب روپے سے زیادہ خرچہ آیا۔ وہ مجموعی طور پر ایک سو پچاسی دن ملک سے باہر رہے۔ اس دوران مجموعی طور پرچھ سو اکتیس افسران بھی ان کے ساتھ تھے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے سعودی ولی عہد کی آمد پر اٹھائے جانے والے اخراجات بھی آنے والے دنوں میں زیرِ بحث آسکتے ہیں۔

محمد بن سلمان کی آمد کے موقع پر ہوائی اڈےسے لے کر وزیرِ اعظم ہاؤس تک مختلف بینرز اور تصویریں آویزاں کی جارہی ہیں، جن پر پاک سعودی دوستی کے حوالے سے نعرے درج ہیں۔ اس کے علاوہ خوش آمدید کے بینرز بھی لگائے جائیں گے۔ اسلام آباد کی شہری انتظامیہ نے برسوں سے نظر انداز کیے گئے کئی علاقوں کی صفائی کرنی شروع کر دی ہے، جو ایئرپورٹ سے وزیرِ اعظم ہاؤس کے راستے میں آتے ہیں۔ پولیس اور سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی آمد کے موقع پر ایئر اسپیس کو بند کیا جائے گا۔ جڑوں شہروں میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند ہوگا جب کہ کئی علاقوں میں موبائل فون سروس بھی جزوی طور پر بند ہو گی۔ رینجرز اور پولیس کے ہزاروں اہلکار سکیورٹی پر مامور ہوں گے۔

Now live
00:44 منٹ
ڈی ڈبلیو ویڈیو | 21.05.2017

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی تلوار رقص

ہمیں فالو کیجیے