1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سعودی عرب میں سماجی اصلاحات کس طبقے کے لیے؟

28 جون 2021

سعودی عرب کی شاہی حکومت ملکی عوام کے لیے سماجی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ جون کے اوائل میں ایک قانون میں ترمیم کر کے بالغ خواتین کو والدین کے بغیر تنہا رہنے کی اجازت دے دی گئی۔

https://p.dw.com/p/3vgMK
Saudi Arabien | Fahrerlaubnis für Frauen
تصویر: The Yomiuri Shimbun/AP Images/picture alliance

اس قانونی ترمیم کے بعد سعودی حکام نے اعلان کیا ہے کہ حج کی ادائیگی کے لیے خواتین اکیلی بھی اجازت نامے کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔ ان خواتین کو حج کا مذہبی فریضہ انجام دینے کے لیے کسی والی یا والدین کی اجازت درکار نہیں ہو گی۔ ایسی خواتین کو کسی ساتھی کے طور پر کسی خاتون کو رفیق بنانے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

سعودی عرب: چھبیس سالہ نوجوان کو سزائے موت دے دی گئی

ادب پر سینسرشپ

اسی ہفتے سعودی حکومت کے میڈیا سے متعلق  ادارے جنرل کمیشن برائے آڈیو ویژؤل میڈیا (GCAM) نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ بیرون ممالک سے منگوائی جانے والی کتب اور رسائل و جرائد کو سینسر کرنے کے طریقے کو بھی آسان بنا دیا گیا ہے۔ سعودی عرب کو بیرونی ممالک سے آنے والی کتب پر سخت سینسر کی پالیسی والا ملک سمجھا جاتا ہے۔ نئی قانون سازی سے مراد یہ لی گئی ہے کہ سینسر کی شرائط نرم کرنے سے عام لوگوں کو زیادہ سے زیادہ غیر ملکی کتب تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔

Saudi Arabien | Kronenprinz Mohammed bin Salman
سماجی اصلاحات کا تعلق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مجوزہ وژن 2030  کا حصہ ہیںتصویر: Amr Nabil/AP Photo/picture alliance

اصلاحات میں تیزی

حال ہی میں ادب پر سینسر کی پالیسی میں تبدیلی نہ تو کوئی پہلی اصلاحاتی تبدیلی ہے اور نہ ہی آخری۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ سماجی تبدیلیاں متعارف کرانے کا عمل سابق سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبد العزیز کے دور میں شروع ہوا تھا۔

سعودی عرب میں کئی افراد کو موت کی سزا دینے کی تیاریاں

اس وقت جو سماجی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں، انہیں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مجوزہ وژن 2030  کا حصہ خیال کیا جاتا ہے۔ اس وژن کے تحت سعودی عرب میں وسیع تر سماجی اور اقتصادی اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان اس ملک کو جدید، لبرل اور کاروباری اور سیاحتی شعبوں کا دوست ملک بنانے کے متمنی ہیں۔

Saudi Arabien | Kino
سعودی عرب کے سینما گھروں میں مرد و زن غیر ملکی فلمیں دیکھنے کو ایک عمدہ تفریح قرار دیتے ہینتصویر: Amr Nabil/AP Photo/picture alliance

تبدیلی کا انداز

سعودی عرب کے سیاسی اور سماجی حالات پر نگاہ رکھنے والے مبصر رابرٹ موگیلنیکی کا کہنا ہے کہ سماجی اصلاحات کے عمل میں بتدریج تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور سعودی پالیسی ساز اس تناظر میں معاملات کو آگے بڑھانے کی کوشش میں ہیں۔ رابرٹ موگیلنیکی امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں عرب گلف اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ سے ایک محقق کے طور منسلک ہیں۔

موگیلنیکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے کہ وژن 2030 کے تحت واضح تبدیلی کا عمل سرعت کے ساتھ جاری رکھا گیا ہے اور ولی عہد اور دیگر پالیسی ساز شخصیات طویل المدتی مقاصد کے حصول کے لیے معاشرتی سوچ بدلنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ موگیلنیکی کا خیال ہے کہ حالیہ چند تبدیلیوں کے اثرات تو فوری طور پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض عملی اصلاحات کی حمایت میں نوجوان طبقہ زیادہ کھل کر سامنے آئے گا۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ سعودی عرب کی دو تہائی آبادی پینتیس برس یا اس سے کم عمر کے شہریوں پر مشتمل ہے۔

USA Saudi-Arabien Fahne
مبصرین کے مطابق سعودی عرب میں سماجی آزادی کو کسی بھی طور سیاسی آزادی سے نہیں جوڑا جا سکتاتصویر: Cliff Owen/AP Photo/picture alliance

پالیسی سازی برق رفتار مگر تبدیلی صفر

کارنیگی اینڈاؤمنٹ کے مشرق وسطیٰ پروگرام سے وابستہ پروفیسر نیتھن براؤن کا کہنا ہے کہ بظاہر اصلاحات کا شور لاؤڈ اسپیکر جیسا ہے لیکن بیرونی دنیا میں ان کی وجہ سے آنے والی تبدیلیاں زیادہ محسوس نہیں ہو رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سماجی آزادی کو کسی بھی طور سیاسی آزادی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔

سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات، ایران نے تصدیق کر دی

پروفیسر براؤن کی ایک ساتھی یاسمین فاروق بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون میں پروفیسر براؤن کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سماجی آزادی اور سیاسی آزادی کسی بھی صورت میں ایک ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ یاسمین فاروق کے مطابق سعودی عرب میں ہر معاملے میں اصلاحات کی کوششیں جاری ہیں لیکن تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی۔

کاترین شائر (ع ح / م م)